Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کہ جس چیز کا مدار ظن پر ہوتا ہے اس میں بعض افراد کا نکل جانا اثر نہیں کرتا جیسا کہ دورانِ سفر نماز میں قصر کرنے کا مدار مشقت کے گمان کو قرار دینا جائز  ہے حالانکہ سفر کی بہت سی صورتوں میں بالکل مشقت نہیں ہوتی۔

                پس اس سے واضح ہو گیا کہ جس نے بھنگ کو نشہ آور قرار دیا اور جس نے اسے بے خودی کرنے والی اورفسادمیں مبتلا کرنے والی کہا، دونوں میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ اس سے مراد خاص فساد ہے، پس اس سے علامہ زرکشی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا اعتراض بھی دور ہو گیا کہ اس سے مراد پاگل پن اور بے ہوشی ہے کیونکہ یہ دونوں عقل کو فاسد کرنے والے ہیں ، پس سوال میں مذکور فقیہ کے قول کی صحت کو جس چیز نے ثابت کیا اس سے ظاہر ہو گیا کہ یہ بے خودکرنے والی ہے اور اس شخص کے قول کا باطل ہونا بھی ظاہر ہو گیا جس نے اس سلسلے میں جھگڑا کیا لیکن اگر عدمِ علم کی وجہ سے کیا تو معذور ہے اور علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے دلائل کی روشنی میں جو ہم نے ذکر کیا اس پر مطلع ہونے کے بعد جب اس کوحلال یا غیر نشہ آور اورسُن نہ کرنے والی گمان کیا تو اس جیسوں کے لئے سخت سزا ضروری ہے بلکہ ابن تیمیہ ا ور اس کے اہلِ مذہب نے ا س بات کو ثابت رکھا کہ ’’  جس نے بھنگ کو حلال سمجھا اس نے کفر کیا۔ ‘‘

                پس اس عظیم (حنبلی)  مذہب کے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک اس مشکل میں پڑنے سے انسان کو بچنا چاہئے اور عجیب بات یہ ہے کہ جس نے فاسد اغراض کے لئے جائفل کے استعمال کا خطرہ مول لیا باوجود اس کے کہ ہم نے اس کے مفاسد اور گناہ ذکر کر دئیے حالانکہ وہ اغراض اس کے بغیر بھی حاصل ہو سکتی ہیں ۔

                رئیس الاطباء  ابن سینانے اپنی کتاب  قانون میں اس بات کی تصریح کی ہے :  ’’ اس کی ایک اورسنبل کی نصف مقداراس کے برابرہے، پس جس نے اس کی تھوڑی مقدار استعمال کی پھر اس کی ایک اورسنبل کی نصف مقداراستعمال کی تو اسے وہی تمام مقاصد حاصل ہو ں گے اور وہ گناہوں اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب میں پڑنے سے بھی سلامت رہے گا۔ ‘‘

                اس میں پھیپھڑوں کے بھی کچھ نقصانات ہیں ، جنہیں بعض اطبّاء نے ذکر کیا ہے اور سنبل ان نقصانات سے خالی ہے اور اس سے مقصود بھی حاصل ہو جاتا ہے اور دنیوی و اُخروی نقصانات سے سلامتی مزیدبرآں ۔ جائفل کے بارے میں میرا جواب ختم ہو گیا جو کہ نفیس بحثوں پر مشتمل ہے۔

                 ’’ حَاوِی صَغِیْر ‘‘ کی شرح میں ہے کہ اگر بھنگ کانشہ آورہوناثابت ہوجائے تو ناپاک ہے اور ابن تیمیہ کی کتاب ’’ السیاسۃ ‘‘  میں ہے کہ بھنگ میں شراب کی طرح حد واجب ہے، لیکن جب وہ ٹھوس ہو اورپی جانے والی نہ ہو توحضرتِ سیدنا امام احمدعلیہ رحمۃاللہ  ا لصمدوغیرہ کے مذہب میں تین اقوال پر اس کے نجس ہونے میں فقہاء کا اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ یہ نجس ہے اور یہی صحیح ہے اور حیوان کو بھنگ کھلانا حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کا نشہ دینا بھی حرام ہے، علامہ ابن دقیق رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا:  ’’ شراب کی طرح اس کو ضائع کرنے والے پر بھی کوئی ضمان نہیں ۔ ‘‘

                امام ابوبکر بن قطب العسقلانی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے نقل کیا ہے :  ’’ یہ دوسرے درجے میں گرم ہوتی ہے اور پہلے درجے میں خشک ہوتی ہے، سر کو چکرا دیتی ہے، نظر کو کمزور کر دیتی ہے، پیٹ کوگِرہ لگا دیتی ہے اور منی کو خشک کر دیتی ہے، پس ہر صاحبِ عقل، سلیم الفطرت انسان پر اس سے اجتناب ضروری ہے، جس طرح کہ اس کے علاوہ دیگر ان تمام چیزوں سے اجتناب ضروری ہے جن کا ذکر گزر چکا ہے اس لئے کہ یہ نقصان دہ چیزوں پر مشتمل ہے جوہلاکت کا مبداء ہیں اور اکثر اوقات منی کے خشک ہونے اور سر چکرانے سے بھی بڑے نقصان دہ مفاسد پیدا ہوتے ہیں ۔ ‘‘

                اسی وجہ سے علامہ ابن بیطاررحمۃاللہ  تعالیٰ علیہ، جو نباتات وغیرہ کے بارے میں معرفتِ تامہ رکھتے ہیں ،نے اپنی کتاب  ’’ اَلْجَامِعُ لِقَوِیِّ الْاَدْوِیَۃِوَالْاَغْذِیَۃِ ‘‘ میں فرمایا ہے :  ’’ قنب الھندی ‘‘  (پٹ سن کی ایک قسم جس سے بھنگ بنائی جاتی ہے)  اس کی تیسری قسم ہے جسے ’’ قنب ‘‘  (یعنی پٹ سن) کہا جاتا ہے اور میں نے مصر کے علاوہ کہیں نہیں دیکھی، یہ باغات میں کاشت کی جاتی ہے اور اسے بھی بھنگ کہا جاتا ہے، یہ بہت نشہ آور ہوتی ہے، جب اس سے انسان ایک یا دو درہم کی مقدار کھا لیتا ہے یہاں تک کہ اکثر کو تو ناسمجھی کی حد تک پہنچا دیتی ہے، اسے ایک قوم نے استعمال کیا تو ان کی عقلیں زائل ہو گئیں اور انہیں جنون کی حد تک پہنچا دیا اورکبھی توہلاک بھی کردیتی ہے۔

                علامہ قطب رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا:  ’’ ہمیں بتایا گیا کہ جانور اسے نہیں کھاتے تو اس کھانے کی کیا قدر ہے جسے کھانے سے جانور بھی بھاگتے ہیں ، یہ بھی ان دوسری چیزوں کی طرح ہے جو بدن کو تبدیل اور مسخ کر تی ہیں ، قوتوں کو منجمدکرتی ہیں ، خون کو جلاتی ہیں ، رطوبت کو خشک کرتی ہیں اوررنگ کو زرد کر دیتی ہے۔ ‘‘

                امام محمد بن زکریارحمۃاللہ  تعالیٰ علیہ، جو طب میں وقت کے امام تھے، نے ارشاد فرمایا:  ’’ یہ بہت زیادہ گھٹیا فکریں پیدا کرتی ہے اور اعضائے رئیسہ میں رطوبت کی کمی کی وجہ سے منی کوخشک کر دیتی ہے یعنی جب ان اعضاء کی رطوبت کم ہوتی ہے تو یہ خطرناک اور قبیح ترین بیماریوں کے پیدا ہونے کا سبب بن جاتی ہے اور اس کی مذمت میں یہ اشعار کہے گئے ہیں :

قُلْ لِمَنْ یَّاْکَلُ الْحَشِیْشَۃَ جَھْلًا                                             یَاخَسِیْسًا قَدْ عِشْتَ شَرَّ مَعِیْشَہ

                ترجمہ: جو جہالت کی وجہ سے بھنگ کھاتا ہے تو اس سے کہہ !  اے کمینے تو نے بری زندگی گزاری۔

دِیَۃُ الْعَقْلِ بِدُرَّۃٍ فَلِمَا ذَا                                 یَا سَفِیْھًا قَدْ بِعْتَہٗ بِحَشِیْشِہ

                ترجمہ: عقل کی قیمت تو موتی ہے پس اے بے وقوف! تو نے اسے بھنگ کے بدلے کیوں بیچ دیا؟

                مزید فرماتے ہیں :  ’’ ہمیں بے شمار لوگوں سے یہ بات پہنچی ہے کہ اس سے دوچار ہونے والے اچانک مر گئے اور دوسروں کی عقلیں زائل ہو گئیں اور متعدد امراض میں مبتلا ہو گئے مثلاًتپ دِق، سِل اوراِستِسقاء وغیرہ اور یہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کے بارے میں یہ اشعار بھی کہے گئے ہیں :

یَا مَن غَدَا اَکْلُ الْحَشِیْشِ شِعَارَہٗ                                  وَغَدَا فَلَاحَ عَوَارُہٗ وَ خِمَارُہٗ

                ترجمہ : اے وہ کہ بھنگ کھانا جس کا شعار بن گیا اور ہمیشہ کے لئے اس کا عیب اور نشہ بن گیا۔

اَعْرَضْتَ عَنْ سُنَنِ الْھُدیٰ بِزَخَارِفَ      لَمَّا اِعْتَرَضْتَّ لِمَا اُشِیْعَ ضِرَارُہٗ

                ترجمہ : تو نے دنیا کی پر فریب چیزوں کی وجہ سے ہدایت والے طریقوں سے اعراض کیا جب تو نے ایسی چیز کو اختیار کیا جس کا نقصان پھیلا ہوا ہے۔

اَلْعَقْلُ یَنْھِی اَنْ تَمِیْلَ اِلَی الْھَوٰی                                      وَالشَرْعُ یَاْمُرُ اَنْ تَبْعُدَ دَارَہٗ

                ترجمہ : عقل تجھے خواہشات کی طرف مائل ہونے سے منع کرتی ہے اور شریعت تجھے اس سے دور رہنے کا حکم دیتی ہے۔

فَمَنْ اِرْتَدٰی بِرِدَآئِ زَھْرَۃ ٍ شَھْوَۃً                                        فِیْھَا بَدَا لِلنَّاظِرِ مِنْ خِسَارِہٖ

                ترجمہ : پس جس نے شہوت کی وجہ سے چمک دمک کی چادر اوڑھی دیکھنے والے پراس کا خسارہ ظاہر ہو گیا۔

اَقْصِرْ وَتُبْ عَنْ شُرْبِھَا مُتَعَوِّذاً                                           مِنْ شَرِّھَا فَھُوَ الطَّوِیْلُ عِثَارُہٗ

                ترجمہ : اسے چھوڑ اور اس کی برائی سے پناہ طلب کرتے ہوئے اس سے توبہ کر لے پس اس کا فتنہ طویل ہے۔

 



Total Pages: 320

Go To