Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ہونٹ ہوں گے، جس نے ان کا صحیح طریقے سے استلام کیاہو گا یہ اس کے حق میں گواہی دیں گے، اور اسی کے پاس آنسو بہائے جاتے ہیں ۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۱۴۳۲،ج۱۱،ص۱۴۶،بدون ’’ ان عندہ تسکب العبرات ‘‘ )

جنت کے دویاقوت :

{40}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ غیب نشان ہے:  ’’ رکنِ یمانی اور مقامِ ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں ، اور یہ کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ان کا نور بجھا دیا اگر ایسا نہ ہوتا تو مشرق و مغرب ہر شئے روشن ہو جاتی۔ ‘‘                       (صحیح ابن حبان،کتاب الحج،باب فضل مکۃ،الحدیث: ۳۷۰۲،ج۶،ص۱۰)

70ہزارفرشتے آمین کہتے ہیں :

{41}…اللّٰہکے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ذیشان ہے:  ’’ رکنِ یمانی پر 70,000فرشتے مؤکل ہیں ،جوبھی یہ دعا مانگتا ہے:  ’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَ الْعَافِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَ الدُّنْیَا رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (یعنی اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !  میں تجھ سے دین و دنیا میں بخشش اور عافیت کا سوال کرتا ہوں ، اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا)  تووہ فرشتے اس کی دعا پر آمین کہتے ہیں ۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجۃ،ابواب المناسک،باب فضل الطواف،الحدیث: ۲۹۵۷،ص۲۶۵۵)

بیمار وں کی شفاء :

{42}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ رکن اور مقام کے درمیان مقامِ ملتزم ہے کہ مصیبت زدہ شخص وہاں دعا مانگے تواسے مصیبت سے چھٹکارامل جائے۔ ‘‘   (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۱۱۸۷۳، ج۱۱،ص۲۵۴)

آبِ زمزم کے فضائل

{43}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس وقت جبرائیلِ امین   (عَلَیْہِ السَّلَام)  نے اپنی ایڑی مار کر زمین سے چاہِ زمزم جاری کیا تو حضرت اسماعیل  (عَلَیْہِ السَّلَام)  کی والدہ ماجدہ اسے وادی میں جمع کرنے لگیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ان پر رحم فرمائے اگر وہ اسے اسی طرح چھوڑدیتیں تو ساری وادی بھر جاتی۔ ‘‘

 (السنن الکبری للنسائی،کتاب المناقب،باب ہاجرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا ،الحدیث: ۸۳۷۶،ج۵،ص۹۹)

{44}…سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:  ’’ آبِ زمزم جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام)  کا  ’’ ہَزْمَۃ ‘‘   (یعنی ہاتھ یاپاؤں سے زمین میں بننے والاگڑھا) ہے،اور پھران دونوں  (یعنی حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  اورجبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام) نے حضرت اسماعیل  عَلَیْہِ السَّلَام کو پانی پلایا۔ ‘‘           (سنن الدار قطنی،کتاب الحج،باب المواقیت،الحدیث: ۲۷۱۳،ج۲،ص۳۶۵)

{45}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ آبِ زمزم دنیاوآخرت کے جس مقصدکے لئے بھی پیاجائے کافی ہے۔ ‘‘                

 (سنن ابن ماجۃ،ابواب المناسک،باب الشرف من زمزم،الحدیث: ۳۰۶۲،ص۲۶۶۲،بدون  ’’ من امرالدنیاوالآخرۃ ‘‘ )

{46}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ آبِ زمزم پیٹ بھرکرپینانفاق سے چھٹکارا دیتا ہے۔ ‘‘                            (فردوس الأخبار،باب التائ،الحدیث: ۲۲۵۵،ج۱،ص۳۰۹)

 {47}…سرکارِمدینہ،راحتِ قلب وسینہ،باعثِ نزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ آبِ زمزم سطح زمین پر موجود ہر پانی سے بہتر ہے۔ ‘‘                       (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۱۱۶۷،ج۱۱،ص۸۰)

حجِ مبرور کی فضیلت

{48}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے دریافت کیا گیا:  ’’ کونساعمل افضل ہے؟ ‘‘ توآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر ایمان لانا۔ ‘‘  عرض کی گئی:  ’’ پھر کون سا؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ‘‘  عرض کی گئی:  ’’ پھر کون سا؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ حج مبرور۔ ‘‘   (یعنی وہ حج جس میں احرام باندھنے سے کھولنے تک کوئی صغیرہ گناہ بھی سرزدنہ ہو۔)

 ( صحیح البخاری ،کتاب الایمان ، باب من قال ان الایمان ھو العمل ،الحدیث:  ۲۶، ص ۴)

{49}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے حج کیا پھر اس میں کوئی فحش کام کیا نہ کوئی گناہ کیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوگیا جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری،ابواب المحصر،باب قول اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ( فلا رفث)  الحدیث:  ۱۸۱۹ / ۱۸۲۰، ص ۱۴۲،خرج بدلہ  ’’