Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

دروازہ،پس یہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی بنیادکوپہنچ جاتا۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب الحج ، باب فضل مکۃ وبنیانھا الخ ، الحدیث:  ۱۵۸۶ ، ص ۱۲۵)

{27}…مسلم شریف میں یہ اضافہ ہے:  ’’ کعبہ کا خزانہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں خرچ کر دیتا۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب نقض الکعبۃ وبنائھا، الحدیث:  ۳۲۴۳،۸۹۹)

{28}…ایک اور روایت میں ہے:  ’’ قریش نے جب بیت اللہ  شریف کوبنایاتوان کانفقہ کم پڑگیا۔ ‘‘

 ( سنن النسائی ،کتاب المناسک ، باب بناء الکعبۃ ، الحدیث:  ۲۹۰۴ ، ص۲۲۷۴)

                کیونکہ انہوں نے اسے صرف اسی مال سے بنایاتھاجس کی حلّت کا انہیں یقین تھا، لہذاوہ محتاج ہوگئے اورشاذروان  (یعنی دیوارکے پایہ کے ساتھ عرض میں چھوڑا ہوا حصہ ) اور حجرِاسود سے مذکورہ حصے چھوڑ دئیے اور اس کی بلندی کوکم کر دیا اور غربی دروازہ بندکرکے مشرقی دروازہ اونچا کر دیا تاکہ جسے چاہیں اس میں داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں روک دیں ۔

خواہشِ نبوی کی تکمیل :

{29}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن زبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے جب اپنی خالہ اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا   سے یہ احادیثِ مبارکہ سنیں تو (اپنے دَورِخلافت میں ) کعبہ مشرفہ کوگراکراسے اسی ہیئت پر لوٹا دیا، لیکن جب حجاج کا دور آیا تو اس نے فقط حجرِاسودکی طرف والی تعمیر ختم کر کے اسے اس کی قریشی تعمیر والی ہیئت پر لوٹا دیا یعنی مغربی دروازہ بند کر دیا اور مشرقی درازے کو بلندکردیا۔              (تفسیر ابن کثیر،سورۃ البقرۃ،تحت الآیۃ: ۱۲۷،ج۱،ص۳۱۳)

بیت اللہ  شریف پر چڑھائی کرنے والوں کاعبرتناک انجام:

{30}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجوَر، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ ایک لشکر بیت اللہ  شریف پرچڑھائی  (کا ارادہ)  کرے گا،جب وہ ایک چٹیل میدان میـں پہنچیں گے تو ان کے اگلوں پچھلوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ ‘‘   ( صحیح البخاری ، کتاب البیوع ، باب ماذکر فی الاسواق ، الحدیث:  ۲۱۱۸، ص۱۶۵)

{31}… اللّٰہکے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ کوئی پناہ چاہنے والا کعبہ میں پناہ چاہے گا تو اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا لیکن جب وہ لشکر ایک چٹیل زمین میـں پہنچے گا تو اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ ‘‘ عرض کی گئی، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  جو اسے ناپسند کرتا ہو اس کا کیا حال ہو گا؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا مگر قیامت کے دن اسے اس کی نیّت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب الفتن ،باب الخسف بالجیش الذی یؤم البیت ،الحدیث:  ۷۲۴۰، ص۱۱۷۷ )

{32}…جبکہ مسلم شریف کی روایت میں یہ بھی ہے:  ’’ ان میں سے صرف ایک دھتکارا ہوا انسان ہی (دھنسنے سے) باقی بچے گا جواس لشکرکے (زمین میں دھنس جانے کے) بارے میں لوگوں کوبتائے گا۔ ‘‘             (المرجع السابق،الحدیث: ۷۲۴۲)

                 نیز اس لشکر کو شام سے (امام)  مہدی کی جانب بھیجا جائے گا تا کہ وہ اس کو قتل کر دے تو وہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ میں پناہ لینے کی خاطربھاگ جائیں گے۔

                نبی ٔکریم ،رء ُوف رحیم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ گویامیں پتلی ٹانگوں والے سیاہ آدمی کو دیکھ رہا ہوں جو ایک ایک پتھراکھاڑکرکعبہ کوگرادے گا۔ ‘‘                                  ( المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث:  ۲۰۱۰ ،ج۱ ، ص ۴۹۰)

{33}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ بے شک حجرِ اسود جنّتی (پتھر)  ہے، لوگ طواف کر رہے ہوں گے کہ اسے ان کے درمیان سے اــٹھا لیا جائے گا، اور صبح وہ اسے کھو چکے ہوں گے، اسے قیامت کے دن لایا جائے گا تو اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن کے ذریعے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہو گی جس سے یہ کلام کرے گا اور حق کے ساتھ اس کا اِستِلام  (یعنی حجرِاسودکوہاتھ لگاکرسلام) کرنے والے کی گواہی دے گا۔ ‘‘  (جامع الترمذی،ابواب الحج،باب ماجاء فی حجر الاسود،الحدیث: ۹۶۱،ص۱۷۴۳،مختصراً)

بروزقیامتسفارش کرنے والا پتھر:

{34}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ دنیاوالوں میں سے جو حجرِ اسود کا استلا م کرے گا یا اسے بوسہ دے گا یہ اس کے لئے گواہی دے گا اور بے شک یہ سفارش کرے گا اور اس کی سفارش قبول ہو گی۔ ‘‘

 ( المعجم الاوسط ، الحدیث:  ۲۹۷۱ ، ج ۲ ، ص ۱۸۸،بدون ’’  یقبلہ من اھل الدنیا ‘‘ )

{35}…نبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے:  ’’ قیامت کے دن رکن یمانی جَبَلِ اَبِی قُبَیْس سے بھی بڑا ہو کر آئے گا، اس کی دو زبانیں اور دو ہونٹ ہوں گے، یہ برف سے زیادہ سفید تھا یہاں تک کہ مشرکوں کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا اگر ایسا نہ ہوتا تو جو آفت زدہ انسان اسے چھوتا اسے شفا ہو جاتی۔ ‘‘

 (المسندللامام احمدبن حنبل، مسندعبداللہ  بن عمر و بن عا ص،الحدیث: ۶۹۹۷،ج۲،ص۶۶۵،بدون ’’ انہ کان اشدالخ ‘‘ )

{36}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ یہ آسمان سے اُتراتواسے ’’ جَبَلِ اَبِی قُبَیْس ‘‘ کی پشت پر رکھ دیا گیا گویا یہ ایک صاف شفاف جوہر تھا،یہ 40سال تک اس پر رہا، پھر اسے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی بنیادوں پر رکھ دیا گیا۔ ‘‘

 (الترغیب والترھیب،کتاب الحج،باب الترغیب فی الطواف واستلامالخ، الحدیث: