Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

اَجنبی عورت سے ہاتھ چمٹ گیا:

                بعضوں نے اپنے ہاتھ کو کسی عورت کے ہاتھ پر رکھا تو ان دونوں کے ہاتھ چمٹ گئے اور لوگ انہیں جدا کرنے میں ناکام ہو گئے، یہاں تک کہ بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ان کی رہنمائی فرمائی کہ وہ عہد کریں کہ ایسی نافرمانی کا ارتکاب کبھی نہیں کریں گے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر صدقِ دل سے توبہ کریں ، پس انہوں نے ایسا کیا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں چھٹکارا عطا فرمایا۔ اور اساف اور نائلہ کا قصہ مشہور ہے کہ انہوں نے زنا کیا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان دونوں کا چہرہ مسخ کر کے پتھر بنا دیا۔

                تم یہ دیکھ کردھوکانہ کھاؤ کہ کوئی شخص نافرمانی کا مرتکب ہونے کے باوجود ابھی تک صحیح وسالم ہے اور اسے جلدی سزا نہیں ملتی، عقل مند کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے نفس پر غرور کرے، اپنے نفس پر غرور کرنے والا اچھا نہیں اگرچہ وہ سلامت رہے اور اکثر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تمہارے لئے سزا کو جلدی مقدر کر دیتا ہے جبکہ دوسروں کے لئے نہیں کیونکہ اُسے اس سے روکنے والا کوئی نہیں کہ کبھی بہت شنیع و قبیح چیز کے ساتھ جلدی سزا ہو جاتی ہے یعنی دل کا مسخ ہونا، بارگاہِ حق میں حاضری سے دوری، ہدایت کے بعد گمراہی اوربارگاہِ خداوندی کی طرف متوجہ ہونے کے بعد اعراض کرنا۔

اَجنبی عورت کا بوسہ لینے سے چہرہ مسخ ہو گیا:

                تحقیق اسی طرح میرے جانے پہچانے ایک شخص سے ہوا، وہ اچھی شکل وصورت والااورمکمل طور پر تندرست وتوانا تھا، لیکن وہ پھسل گیا اوراُس نے حجرِ اسود کے پاس ایک عورت کو بوسہ دیا، پھر اس حکایت کی سچائی کے آثار ظاہر ہوئے اور اس کا چہرہ  مکمل طور پر مسخ ہو گیا، وہ جسم، بدن، عقل اور کلام کے اعتبار سے بوسیدہ اور قبیح شکل و صورت والا ہو گیا۔ ہم بھٹکنے سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے التجا کرتے ہیں کہ ہمیں مرتے دم تک آزمائشوں سے بچائے، بے شک وہ سب سے زیادہ کریم و رحیم ہے۔

   (اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)

                مجھے ایک جاننے والے کے بارے میں یہ بات معلوم ہوئی کہ اس سے مسجد حرام میں برا فعل سر زد ہو گیا تو اسے جلد ہی جسمانی اور دینی طور پر شدید سزا دی گئی۔اسی طرح ایک اور جماعت کے بارے میں بھی یہ بات معلوم ہوئی کہ ان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔اگر مقام کی تنگی، رسوائی کا خوف اور ستر پوشی مقصود نہ ہوتی تو میں ان کے احوال تفصیل سے لکھتا لیکن اشارہ عبارت سے بے پرواہ کر دیتا ہے۔

                اور بے شک اس سے ہمارا مقصود یہ ہے کہ اکثر اوقات انسان دھوکا کھا جاتا ہے اور وہ ظاہری طور پر سزا کے جلدی نہ ہونے کی وجہ سے گمان کرتا ہے کہ سزا جلدی نہیں ہوتی، لیکن ایسانہیں ہے جیسے اس کا گمان ہے بلکہ سرکشی کرنے والے یا بے خوف ہو کر گناہوں کا ارتکاب کرنے والے کو لازماً ظاہری یا باطنی طور پر جلدی سزا مل جاتی ہے، یہ آخرت کے عذاب سے پہلے ہے جس کے عظیم ہونے کی طرف اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اشارہ فرمایا ہے بلکہ دنیا کے عذاب کی شدت کی طرف بھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان کے ساتھ اشارہ فرمایا:  وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ (۲۵)   (پ: ۱۷، الحج: ۲۵)

حرم اور اہل حرم کے فضائل

حرمِ پاک پر روزانہ120رحمتوں کا نزول :

{7}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ حرم پاک کی مسجد پر روزانہ دن اور رات میں 120رحمتیں نازل فرماتا ہے ان میں سے 60طواف کرنے والوں کے لئے، 40نمازیوں کے لئے اور 20مسجد حرام کی زیارت کرنے والوں کے لئے ہوتی ہیں ۔ ‘‘     ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۱۱۴۷۵، ج۱۱ ، ص ۱۵۶)  

حرمِ پاک میں ایک نماز کا ثواب:

{8}…بہت سی صحیح احادیثِ مبارکہ میں وارد ہے نیز ہم نے ’’ الایضاح ‘‘ کے حاشیہ میں بھی صریح طور پرنقل کیا ہے کہ  ’’ مسجدِ حرام میں ایک نماز پڑھنا مسجدِ نبوی علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام اور مسجدِ اقصیٰ کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک کھرب نمازیں پڑھنے سے افضل ہے کیونکہ مسجدِ نبوی علی صاحبھاا لصلوٰۃ والسلام میں ایک نماز پڑھنے کی فضیلت مسجدِ اقصیٰ میں نماز پڑھنے سے1000 گنا زیادہ ہے اور مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنا دیگر مساجد میں 500نمازوں کے برابر ہے۔ ‘‘   (فتح الباری لابن حجرعسقلانی،تحت الحدیث: ۱۱۹۰ج۳،ص۵۹،مفہوماً)

بیت المقدس میں نمازپڑھنے کا ثواب 1000گنا:

{9}… ایک اور روایت میں ہے :  ’’ بیت المقدس میں نماز پڑھنا دیگر مساجد میں 1000نمازیں پڑھنے کے برابر ہے۔ ‘‘

 (کشف الخفاء،حرف الباء الموحدۃ،تحت الحدیث: ۹۲۷،ج۱،ص۲۶۰)

{10}…جبکہ ایک صحیح روایت میں ہے :  ’’ مسجدِ حرام میں نماز پڑھنا مسجدِ نبوی شریف میں ایک لاکھ 1,00,000 نمازیں پڑھنے کے برابر ہے۔ ‘‘

                ان سب کو ضرب دینے سے حاصلِ ضرب ایک کھرب ہوا، اس فضل کی وسعت میں غور کریں اور میں نے کسی کو اس بات پر آگاہ نہیں پایا۔

بیت اللہ  شریف کاشِکوہ:

{11}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک کعبہ کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں اور اس نے شکوہ کرتے ہوئے عرض کی، ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ !  میری طرف بار بار آنے والے اور میری زیارت کرنے والے کم ہو گئے ہیں ۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے وحی فرمائی :  ’’ میں خشوع وخضوع اور سجدے کرنے والا انسان پیدا فرمانے والا ہوں جو تمہارا اس طرح مشتاق ہوگا جس طرح کبوتری اپنے انڈوں کی مشتاق ہوتی ہے۔ ‘‘                 ( المعجم الاوسط ، الحدیث:  ۶۰۶۶، ج۴ ، ص ۳۰۵)

مکہ میں رمضان المبارک گزارنے کی فضیلت:

{12}…حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مکہ میں رمضان المبارک گزارنا غیر مکہ میں 1000رمضان المبارک گزارنے سے افضل ہے۔ ‘‘  (کنزالعمال،کتاب الفضائل،فی فضائل الامکنۃ والا زمنۃ،الحدیث: ۳۴۶۳۸،ج۱۲،ص۹۰)

{13}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے مکہ میں رمضان المبارک کو پایا پھر اس کے روزے رکھے اور جتنا ہو سکا اس کی راتوں میں قیا م کیا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے دیگر مقامات پر 1000رمضان المبارک گزارنے کا ثواب لکھے گا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے روزانہ دن اور رات میں ایک ایک غلام آزاد  کرنے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں دو سواروں کو سواری دینے اور دن اور رات میں ایک ایک نیکی کا ثواب لکھے گا۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ ،ابواب المناسک، باب صوم شہر رمضان بمکۃ،الحدیث:  ۳۱۱۷ ، ص۲۶۶۶)

 



Total Pages: 320

Go To