Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{2}…حضرت سیدنا نوح علیٰ نبیناو عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ  نے یومِ فطر اور قربانی کے دن کے علاوہ سارا سال روزے رکھے۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجۃ، ابواب الصیام، باب ماجاء فی صیام نوح عَلَیْہِ السَّلَام، الحدیث:  ۱۷۱۴،ص۲۵۷۹)

{3}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ 2دن روزہ رکھنا درست نہیں :   (۱) قربانی کے دن اور  (۲) رمضان المبارک کے بعد فطر کے دن۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب تحریم صوم یومی العیدین، الحدیث:  ۲۶۷۳،ص۸۶۰)

{4}…نبی ٔکریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ان ایامِ تشریق میں روزے مت رکھا کرو کیونکہ یہ کھانے ،پینے کے دن ہیں ۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل،الحدیث:  ۱۶۰۳۸،ج۵،ص۴۲۸،بدون  ’’ یوم التشریق )

تنبیہ:

                ان ایام میں روزہ رکھنے کی ممانعت پر بہت سی احادیثِ مبارکہ آئی ہیں جو اس بات کا احتمال رکھتی ہیں کہ ان ایام میں روزہ رکھنا کبیرہ گناہ ہے کیونکہ ان میں روزہ رکھنے میں بندوں کا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ضیافت سے اعراض پایاجا رہا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

روزوں کی فضائلِ پراحادیثِ مبارکہ

                میں نے اس کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ’’ اِتِّحَافُ اَھْلِ الْاِسْلَامِ بِخُصُوْصِیَاتِ الصِّیَامِ ‘‘  رکھا ہے اور یہ احادیثِ مبارکہ اس کتاب کا خلاصہ ہیں ۔

{5}… اللّٰہ کے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  ’’ آدمی کا ہر عمل اس کے اپنے لئے ہے سوائے روزہ کے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور اس کی جزاء میں دوں گا۔ ‘‘  اور روزہ ڈھال ہے  (یعنی جہنم سے بچاتاہے)  لہٰذا جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ بیہودہ بات کرے نہ ہی چیخ و پکار کرے، پھر اگر کوئی اسے گالی دے یا جھگڑا کرے تو اسے چاہئے کہ وہ کہہ دے :  ’’ میں روزے سے ہوں ۔ ‘‘ اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں  (حضرت سیدنا)  محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مُشک کی بُو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ ‘‘

 (صحیح البخاری، کتاب الصوم ، باب ھل یقول انی صائم اذا شتم ، الحدیث:  ۱۹۰۴،ص۱۴۹)

{6}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں :   (۱) جب وہ افطار کرتا ہے تو  (طبعی طور پر ایک عظیم عبادت کی تکمیل پر)  خوش ہوتا ہے اور  (۲) جب وہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے پر خوش ہوگا۔ ‘‘  ( یعنی عظیم ثواب ملنے پر خوش ہوگا، اسی لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے یہ بتانے کے لئے روزے کی نسبت اپنی طرف فرمائی کہ غیر اس کا ثواب شمار نہیں کر سکتا) ۔               (المرجع السابق، الحدیث: ۱۹۰۴،ص۱۴۹)

{7}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ آدمی کے ہر عمل میں اضا فہ ہوتاہے ایک نیکی 10سے 100گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: مگر روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا، وہ میرے لئے اپنی خواہش اور کھا نے کو چھوڑدیتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل الصیام، الحدیث:  ۲۷۰۷،ص۸۶۲)

{8}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)  کی جان ہے!  روزہ دار کے منہ کی بُو قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مشک کی بُوسے زیادہ پاکیزہ ہو گی۔ ‘‘   (صحیح البخاری، کتاب الصوم ، باب ھل یقول انی صائم اذا شتم ، الحدیث:  ۱۹۰۴،ص۱۴۹،بدون  ’’ یوم القیامۃ ‘‘ )

{9}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے رَیَّان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن اس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے ان کے علاوہ کوئی داخل نہ ہو گا، پھر جب روزہ دار داخلِ جنت ہو جائیں گے تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر کبھی بھی کوئی اس میں سے داخل نہ ہو سکے گا اور جو اس میں سے داخل ہو گا وہ وہاں کے شربت پئے گا اور جو وہ شربت پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔ ‘‘

 (صحیح البخاری، کتاب الصوم ، باب الریّان للصائمین ، الحدیث:  ۱۸۹۶،ص۱۴۸،بدون ’’ من دخل الی ابدا ‘‘ )

{10}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جہاد کرو غنیمت پاؤ گے، روزے رکھو تندرست ہو جاؤ گے اور  (تجارت کے لئے) سفر کرو غنی ہو جاؤ گے۔ ‘‘    (المعجم الاوسط،الحدیث: ۸۳۱۲،ج۶، ص۱۴۶)

{11}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ روزہ ڈھال ہے اور جہنم سے بچاؤ کے لئے بہترین قلعہ ہے۔ ‘‘                           (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ،الحدیث:  ۹۲۳۶،ج۳،ص۳۶۷)

{12}…سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : روزہ اور قرآنِ کریم قیامت کے دن بندے کے لئے شفاعت کریں گے، روزہ عرض کرے گا:  ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ !  میں نے اسے کھانے پینے اور خواہش سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ ‘‘  اور قرآنِ کریم عرض کرے گا:  ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ !  میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق



Total Pages: 320

Go To