Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ہے اور اس پرفسق سے نکلنے کے لئے فوراً توبہ کرنا واجب ہے اور چونکہ قضاء کے بغیر توبہ درست نہیں ہوتی لہٰذا جب وہ کسی عذر کے بغیر اس میں تاخیر کرے گا تو فسق میں حد سے بڑھنے والاہو گا اور فسق میں حد سے بڑھنا بھی فسق ہے پس واضح ہوا کہ یہاں تاخیر کرنا فسق ہے لہٰذا اس میں غور کر لو۔

                یہی قاعدہ ہر اس واجب میں بھی جاری ہو گا جسے اس نے جان بوجھ کر ترک کر دیا ہو اور اس کی قضاء میں تاخیرکردی ہو جیسے فرض نماز ([1]) اوروہ حج جسے اس نے فاسدکر دیا ہو اور اسے اس صورت پر جاری کرنا بھی بعید نہیں جب کہ وہ ایک ماہِ رمضان المبارک کے روزوں کی قضاء دوسرے ماہِ رمضان المبارک تک مؤخر کر دے، اگرچہ اس نے وہ روزہ کسی عذر کی وجہ سے ترک کیا ہو کیونکہ ماہِ رمضان المبارک کی قربت کی وجہ سے اس کا وقت تنگ ہو جاتا ہے پھر میں نے علامہ ہروی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکو دیکھا کہ انہوں نے اپنی کتاب ادب القضاء میں میرے بیان کردہ مؤقف کی تصریح کی ہے کہ جن فرائض کا حکم دیا گیا ہے ان کو ترک کر دینا جب کہ وہ علی الفور واجب ہوں ، کبیرہ گناہ ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر143:        

عورت کاشوہرکی موجودگی میں اُس

کیاجازت کے بغیرنفلی روزہ رکھنا

{1}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے اور نہ ہی شوہر کی مرضی کے بغیر کسی کوگھرمیں داخل ہونے کی اجازت دے۔ ‘‘  (صحیح البخاری، کتاب النکاح ، باب لاتأذن المرأۃ فی بیت الخ، الحدیث:  ۵۱۹۵، ص ۹ ۴ ۴)

{2}…سیدنا امام احمد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی روایت میں یہ اضافہ ہے :  ’’ سوائے (ماہِ) رمضان المبارک کے (یعنی اس ماہ میں عورت شوہر کی اجازت کے بغیربھی روزہ رکھ سکتی ہے) ۔ ‘‘  (المسند للاما م احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرہ ، الحدیث:  ۹۷۴۰،ج۳،ص۴۵۱)

{3}…سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ عورت رمضان المبارک کے علاوہ شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی دن کا روزہ نہ رکھے۔ ‘‘   (جامع الترمذی،ابواب الصلاۃ،باب ماجاء فی کراہیۃالخ،الحدیث: ۷۸۲،ص۱۷۲۴)

{4}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو عورت شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے پھر اس کا شوہر اس کے ساتھ کسی کام  (یعنی ہم بستری وغیرہ) کاارادہ کرے لیکن وہ منع کر دے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس عورت پرتین کبیرہ گناہ لکھتاہے۔ ‘‘                (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۲۳،ج۱،ص۱۶)

{5}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ عورت پر شوہر کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے پھر اگر اس نے ایسا کیا تو بھوکی پیاسی رہے گی اور اس کا روزہ قبول نہ ہو گا۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد، کتاب النکاح، باب حق الزوج علی المرأۃ ، الحدیث:  ۷۶۳۸،ج۴،ص۵۶۳)

تنبیہ:

                اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیاہے حالانکہ میں نے کسی کو اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرتے ہوئے نہیں دیکھا مگر یہ تیسری حدیثِ پاک کا بالکل صریح بیان ہے اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ غریب ہونے کی وجہ سے اس سے استدلال کرناصحیح  نہیں تب بھی اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر ایک دوسرے حکم کی وجہ سے استدلال کیا جا سکتا ہے جس کی طرف پہلی حدیثِ پاک میں ان الفاظ کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے :  ’’ عورت شوہر کی مرضی کے بغیر اس کے گھر میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہ دے۔ ‘‘  اور

اس حدیثِ پاک میں جس اَمر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ عورت کا روزہ وغیرہ پر مقدم حق یعنی وطی سے روکنے کے سبب شوہر کو ایذاء دینا ہے، قطع نظر اس بات کے کہ شرعاًاس کے لئے وطی کرنا لازم ہوتو گناہ عورت پر ہو گاکیونکہ عام طور پر انسان عبادت کو باطل کرنے سے ڈرتا ہے جیسا کہ اس کی تصریح گزر چکی ہے اور جب وہ ڈرے گا توعورت سے وطی کرنے سے رُک جائے گا اگرچہ اسے وطی کرنے کی ضرورت ہو پس یقیناً اسے شدید تکلیف پہنچے گی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے کے حق کو روکنے یا اس کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ اس کو شدیدتکلیف پہنچانا کبیرہ گناہ ہے پس جو میں نے ذکر کیا اس میں غوروفکر کریں اور حدیثِ پاک بھی یہاں اس مؤقف کو تقویت دے رہی ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر144:          عید ین اور ایامِ تشریق [2]کے روزے رکھنا

{1}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے :  ’’ یومِ فطر، یومِ نحر اور ایامِ تشریق ہم مسلمانوں کی عید یں ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔ ‘‘  (سنن ابی داؤد، کتاب الصیام، باب صیام ایام التشریق، الحدیث: ۲۴۱۹،ص۱۴۰۲)  

 



[1] ۔۔۔۔ احناف کے نزدیک اگرچہ نمازکی قضامیں جلدی کرناواجب ہے، لیکن بچوں کے لئے کھانے پینے کاانتظام کرنے کی ذمہ داری کی وجہ سے اس میں تاخیرکرناجائز ہے۔چنانچہ صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی’’ بہارشریعت‘‘ میں نقل فرماتے ہیں :’’جس کے ذمہ قضا نمازیں ہوں اگرچہ ان کا پڑھنا جلدسے جلدواجب ہے مگر بال بچوں کی خوردونوش اور اپنی ضروریات کی فراہمی کے سبب تاخیر بھی جائز ہے تو کاروبار بھی کرے اور جو وقت فرصت کا ملے اس میں قضابھی پڑھتا رہے یہاں تک کہ پوری ہو جائیں ،قضاکے لئے کوئی وقت معین نہیں عمرمیں جب پڑھے گابری الذمہ ہوجائے گا۔‘‘

(بہارشریعت،حصہ۳،ص۲۶،۲۷)

                قضانمازوں کے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے بہارشریعت حصہ4اورشیخ طریقت ،امیراہلسنت،بانی ٔدعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانامحمدالیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہکی تالیف نماز کے احکام کے باب ’’قضانمازکابیان‘‘کامطالعہ کریں ۔

[2] ۔۔۔۔ احناف کے نزدیک :’’عیدالفطر ،عید الاضحی اورایّام تشریق (یعنی گیارہ ،بارہ اورتیرہ ذوالحجۃ الحرام) کے روزے مکروہ تحریمی ہیں ۔‘‘

(ماخوذ از بہار شریعت ،ج۱،حصہ ۵،ص۵۰)

 



Total Pages: 320

Go To