Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{18}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو گوشت حرام سے پلا بڑھا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ‘‘  جہنم اس کا زیادہ حق دار ہے اور ٹیکس وصول کرنا حرام کمائی کا بدترین ذریعہ ہے۔

 (مجمع الزوائد،کتاب الخلافۃ ،باب فیمن یصدق الامراء بکذبھم ، الحدیث:  ۹۲۶۳،ج۵،ص۴۴۵)

{19}…سیدنا واحدی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاپنی تفسیر میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان:

لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ  (پ۷، المائدہ: ۱۰۰)

ترجمۂ کنز الایمان : کہ گندہ اور ستھرا برابر نہیں ۔

کے تحت لکھتے ہیں کہ حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کی ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میری تجارت کا ذریعہ شراب کی خرید و فروخت تھااور میں نے اس سے بہت سا مال جمع کر رکھا ہے اب اگر میں اس مال کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں خرچ کروں تو کیا مجھے اس سے نفع ہو گا؟ ‘‘  نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا ’’ اگر تم یہ مال حج، جہادیا صدقے میں خرچ کرو تب بھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک اس کی حیثیت مچھر کے پر جتنی بھی نہ ہو گی، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ صرف پاکیزہ صدقات ہی قبول فرماتا ہے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے حبیب، رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے فرمان کی تصدیق کے لئے یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی:

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ  (پ۷، المائدہ:  ۱۰۰ )

ترجمۂ کنز الایمان : تم فرما دو کہ گندہ اور ستھرا برابر نہیں ۔

 (تفسیر زادالمسیر،سورۃ المائدۃ،تحت الآیۃ (قل لایستوی الخبیث) الجزئ۲،ص۲۷۰)

                سیدنا حسن اور سیدنا عطاء رحمۃ اللہ  تعالی علیہمافرماتے ہیں :  ’’ اس سے مراد حلال اور حرام ہیں ۔ ‘‘

{20}…جس عورت نے رجم کے ذریعے پاکیزگی چاہی تھی اس کے بارے میں مروی حدیثِ پاک میں یہ الفاظ ہیں :  ’’ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس لینے والا بھی کرتا تو اس کی مغفرت کر دی جاتی۔ ‘‘  یا یہ :  ’’ اس کی توبہ قبول ہو جاتی۔ ‘‘  

 (سنن ابی داؤد،کتاب الحدود،باب المرأۃ التی امر النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم الخ،الحدیث: ۴۴۴۲،ص۱۵۴۸،بدون ’’ لقلبت منہ ‘‘ )

{21}…نبی کریم، رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ 6چیزیں عمل کو برباد کر دیتی ہیں :   (۱) لوگوں کے عیوب میں مشغول ہونا  (۲) دل کی سختی  (۳) دنیا کی محبت  (۴) حیاء کی کمی  (۵) لمبی امید اور  (۶) بہت زیادہ ظلم۔ ‘‘

 (کنزالعمال،کتاب المواعظ والرقائق ،قسم الاقوال، فصل سادس فی الترہیب السداسی ، الحدیث:  ۴۴۰۱۶، ج۱۶، ص۶ ۳)

{22}…رسول اکرم، شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ نیکی پرانی نہیں ہوتی اور گناہ بھلایا نہیں جا سکتا، جزا دینے والے ربّ کو موت نہیں ، جو چاہو کرو تم جیسا کرو گے ویسا ہی بدلہ پاؤ گے۔ ‘‘    (فردوس الاخبار،باب الیائ،الحدیث: ۲۰۲۴، ج۱، ص۲۸۲)

تنبیہ:

                اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا ظاہر ہے ایک جماعت نے اس کی تصریح کی ہے،ٹیکس لینے والے اور ان کے تمام معاونین اس وعید میں داخل ہیں اور میں نے عنوان میں ٹیکس لکھنے والے کا جوتذکرہ کیا یہ وہی قول ہے جس پر سیدناابن عبد السلام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے فتویٰ دیاہے اور یہ بات بالکل ظاہرہے کیونکہ ظاہری طور پربالفرض اگر وہ ٹیکس لینے کے لئے حاضر نہ ہو بلکہ جو  چیزلی اور دی جاتی ہے صرف اس پر قبضہ کر نے کی خاطرآئے تو (وعیدکے لئے یہی) کافی ہے اور اگر بادشاہ نے اس کے لئے بیت المال میں سے کچھ حصہ حاضری کی شرط پر مقرر کیا پس وہ لینے کے ارادے سے حاضر ہو گیا تو جائز ہے، پھر میں نے سیدنا ابن عبد السلام رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کے کلام کو دیکھا اور اس میں یہ تصریح پائی کہ لوٹانے کے ارادے سے اُجرت کا لینا جائز ہے، اس لئے جب آپ سے ٹیکس لینے کے لئے آنے والے کے بارے میں اورظالموں کے مال لینے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا کہ اگرٹیکس لینے حاضر ہونے والے کا ارادہ مالکوں کے مال کی حفاظت ہو تا کہ کسی عادل کے والی بننے یا بادشاہ کے عدل کی طرف لوٹنے کی صورت میں وہ اپنے مال کی طرف رجوع کر سکیں تو جائز ہے اور اگر انہوں نے ظلم کا قصد کیا تو جائز نہیں ، اور مالکوں کو لوٹانے کے ارادے سے اُجرت لینا جائزہے مگر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے لئے جائز نہیں کیونکہ وہ ان کی نیتوں پر مطلع نہیں ۔

                یاد رہے کہ بعض فاسق تاجر یہ گمان کرتے ہیں :  ’’ ان سے جو ٹیکس وصو ل کیا جاتا ہے اگر وہ زکوٰۃ کی نیت کر لیں گے تو ان کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ ‘‘  ان کا یہ گمان سراسر غلط ہے اور شافعی مذہب میں اس کی کوئی سند نہیں ، کیونکہ ٹیکس لینے والوں کو حاکم نے ان لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر نہیں کیا جن پر زکوٰۃ واجب ہے بلکہ اس نے تو ان پر ان کے مال میں سے دسواں حصہ وصول کرنے پر مقرر کیا ہے خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو کم ہویا زیادہ، اس پر زکوٰۃ واجب ہو یا نہ ہو اور اس کا گمان یہ ہو کہ اس نے یہ حکم اس لئے دیا ہے کہ وہ یہ مال لے کر مسلمانوں کی مصلحت کے لئے اپنے لشکرپر خرچ کرے گا تو پھر بھی یہ مفید نہیں کیونکہ اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں تو یہ اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ بیت المال میں کچھ نہ ہو۔

                اگر حاکم اَغنیاء کے مال سے ٹیکس وصول کرنے پر مجبور کرے تب بھی زکوٰۃ ساقط نہ ہو گی کیونکہ اس نے یہ مال زکوٰۃ کے نام پر وصول نہیں کیا، مجھے بعض تاجروں نے بتایا کہ جب وہ ٹیکس وصول کرنے والے کوٹیکس دیتے ہیں تو زکوٰۃ کی نیت کر لیتے ہیں اس طرح ٹیکس لینے والا زکوٰۃ کا مالک ہو جاتا ہے اور دوسروں کو یہ مال دے کر اپنا مال ضائع کر لیتا ہے، مگر ان کا یہ فعل کچھ نفع مند نہیں اس لئے کہ ٹیکس وصول کرنے والا اور اس کے معاونین زکوٰۃ کے مستحق نہیں ہوتے کیونکہ ان میں سے ہر شخص کمانے پر قدرت رکھتا ہے، وہ ہٹے کٹے ہوتے ہیں ، اگر وہ اپنی اس قوت کو کسبِ حلال میں صرف کریں تو اس برے اور قبیح کام سے بے پرواہ ہو جائیں ، پس جس کا حال ایسا ہو وہ زکوٰۃ کا مستحق کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن تاجروں کومال کی محبت نے حق کی پہچان سے اندھا کر دیا اور انہیں شیطان اور اس کے سبز باغات نے مفیددینی باتیں سننے سے بہرہ کر دیا ہے کہ ان سے یہ مال ظلم کے طور پر لیا جا رہا ہے، پھر ایسی صورت میں وہ زکوٰۃ کیسے نکال سکتے ہیں ؟وہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ان پر زکوٰۃ واجب کی ہے اور وہ اس سے اسی صورت میں بریٔ الذمہ ہو سکتے ہیں جب اسے جائز اور مروَّجہ طریقے سے ادا کریں اور ان پر جو ظلم ہوا تو ان کے لئے کیسے اس کے عوض نیکیاں لکھی جائیں اوران کے درجات بلند ہوں  (جبکہ انہوں نے زکوٰۃ ان کے حق داروں کو ادا ہی نہیں کی)  ۔

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ٹیکس لینے والوں کو چور اور ڈاکو بلکہ ان سے بھی بدتر قرار دیا ہے ،لہٰذا اگر تم سے کوئی ڈاکو مال چھین لے اور تم زکوٰۃ کی نیت کرلو تو کیا تمہیں کوئی نفع ہو گا؟تو جس طرح وہ نیت تمہیں نفع نہ دے گی اسی طرح یہ نیت بھی مفید نہیں اور تمہیں اس سے کچھ حاصل نہ ہو گا، لہٰذا اس سے بچتے رہو۔

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ان جاہلوں کا خوب تعاقب فرمایا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں :  ’’ ٹیکس لینے والوں کو زکوٰۃ کی نیت سے مال دینے سے فائدہ ہوتا ہے۔ ‘‘  اور انہوں نے کہا ہے :  ’’ اس بات کا قائل جاہل ہے اس کی طرف رجوع نہ کیا جائے اور نہ ہی اس پر اعتماد کیا جائے۔ ‘‘  لہٰذا اس پر غور کرو اور عمل کرواگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو غنیمت پاؤ گے۔

 



Total Pages: 320

Go To