Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

بھتہ وصول کرنا

                یعنی ایسا ٹیکس جمع کرنا اور اس کے متعلقات میں سے کوئی چیز مثلاً اس کی دستاویز وغیرہ لکھنا جب کہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت مقصود نہ ہو کہ آسانی کی صورت میں وہ ٹیکس واپس لوٹا دیا جائے۔

                یہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمان میں داخل ہے:

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۴۲)   (پ۲۵، الشوریٰ: ۴۲)

ترجمۂ کنز الایمان : مؤاخذہ تو اُنہیں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

                بھتہ لینا اپنی دیگر تمام انواع مثلاً ٹیکس جمع کرنے والے، دستاویز تیار کرنے والے، گواہ،  (دراہم و دنانیر کا)  وزن کرنے والے اور  (اجناس)  ناپنے والے کے ساتھ ظلم کے بُرے ذرائع میں سے ہے، بلکہ یہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں کیونکہ یہ ایسی چیز لیتے ہیں جس کے مستحق نہیں اور ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو اس کے حق دار نہیں اسی لئے ایسا ٹیکس لینے والا جنت میں داخل نہ ہو گا کیونکہ اس کا گوشت حرام سے نشوونما پاتا ہے، اور دوسرا یہ کہ لوگوں کے ظلم کا طوق اپنے گلے میں پہنتے ہیں ، قیامت کے دن یہ ان لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کہاں سے کریں گے، لہٰذا اگر ان کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو مظلوم لوگ ان کی نیکیاں لے لیں گے۔

مفلس کون ؟

{1}…اس بات کا ثبوت حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اس حدیثِ پاک سے ہوتا ہے  کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  سے استفسار فرمایا :  ’’ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ہم میں مفلس وہ کہلاتا ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں نہ کوئی مال ہو۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ میری اُمت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، زکوٰۃ اور روزے لے کر حاضر ہو گا اور اس نے اِس کو گالی دی ہو گی اور اِس کا مال چھینا ہو گا تو یہ اُس کی نیکیوں میں سے کچھ نیکیاں لے لے گا اسی طرح وہ بھی اِس کی نیکیاں لے لے گا، اگر پورا حق ادا کرنے سے پہلے اُس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو یہ شخص ان لوگوں کے گناہ اپنے سر لے لے گا، پھر اسے اوندھے منہ جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ ‘‘   (صحیح مسلم، کتاب البر وصلۃ ، باب تحریم الظلم،الحدیث:  ۶۵۷۹،ص۱۱۲۹)

{2}…حضرت سیدنا عثمان بن ابی العاص رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضوررنبی کریم  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک ساعت مقرر کر رکھی تھی جس میں وہ اپنے اہل خانہ کو بیدار کر کے ارشاد فرماتے تھے :  ’’ اے آلِ داؤد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  اٹھ کر نماز پڑھو کیونکہ یہ وہ ساعت ہے جس میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جادوگر اور (ناحق)  عشر وصول کرنے والے کے علاوہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے۔ ‘‘  (المسندللامام احمد بن حنبل، الحدیث:  ۱۶۲۸۱،ج۵،ص۴۹۲)

{3}…حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ ٹیکس لینے والاجنت میں داخل نہ ہو گا۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد ، کتاب الخراج والفئی الخ، باب فی السعایۃ علی الصدقۃ ، الحدیث:  ۲۹۳۷،ص۱۴۴۲)

حدیثِ پاک کامفہوم:

٭…حضرت یزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اس سے مراد (ناجائزطورپر)  عشر وصول کرنے والا ہے۔ ‘‘

٭…حضرت امام بغوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ ٹیکس لینے والے سے مراد یہ ہے کہ جب تاجر اس کے پاس سے گزریں تو وہ عشرکے نا م پر ان سے ٹیکس وصول کرے۔ ‘‘

٭…حافظ منذری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ آج کل یہ لوگ عشر کے نام پر ٹیکس لینے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا ٹیکس بھی وصول کرتے ہیں جسے کسی نام سے وصول نہیں کیا جاتا بلکہ وہ حرام طریقے سے اسے حاصل کر کے اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں ، ان کی دلیل ان کے رب عَزَّ وَجَلَّ  کے ہاں مقبول نہ ہو گی اور ان پر غضب اور درد ناک عذاب ہے۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب،کتاب الصدقات،الترغیب فی العمل علی الصدقۃ بالتقوی،تحت الحدیث: ۱۱۷۸،ج۱،ص۳۸۰)

                سیدنا سراج بلقینی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سے دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ عالیشان کہ  ’’ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس لینے والا بھی کرتا۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الحدود،باب من اعترف علی نفسہٖ بالزنیٰ، الحدیث:  ۴۴۳۲،ص۹۷۸)

                 (یعنی سیدناسراج بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے مذکورہ حدیث پاک ) کے بارے میں سوال ہوا کہ اس سے مراد وہ ٹیکس ہے جو اشیاء پر مرتب ہوتا ہے یا کوئی اور ٹیکس مراد ہے؟ ‘‘ تو آپ نے جواب دیا :  ’’ ٹیکس لینے والے کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جو اس ٹیکس وصول کرنے کے کام کا آغاز کرے اور اس کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو اُس کے گھٹیا طریقہ پر چلیں اور ظاہر یہی ہے کہ رسول اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی مراد وہ ٹیکس لینے والا ہے جس کا گناہ عظیم ہو اور اسے صاحبِ_ مکس بھی کہتے ہیں ،نیز اس سے مراد اس کے طریقے پر چلنے والے لوگ بھی ہو سکتے ہیں ، اس حدیثِ پاک سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ سب سے پہلے ٹیکس لینے والے کی توبہ مقبول ہے اور جو شخص برا طریقہ رائج کرے اسے اس کا گناہ اور اس طریقے پر عمل کرنے والوں کا گناہ اسی صورت میں ہو گا جبکہ وہ توبہ نہ کرے اور جب وہ توبہ کرے گا تو اس کی توبہ مقبول ہو گی اور اس طریقے پر عمل کرنے والوں کا گناہ اس پرنہ ہوگا۔ ‘‘

{4}…حضرت سیدنا عثمان بن ابی العاص رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کلاب بن اُمیہ کے پاس سے گزرے، وہ بصرہ میں ایک ٹیکس وصول کرنے والے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے ان سے پوچھا :  ’’ آپ کو یہاں کس نے بٹھایا ہے؟ ‘‘  انہوں نے بتایا :  ’’ زیاد نے مجھے اس جگہ کا عامل مقرر کیا ہے۔ ‘‘  تو آپ نے ارشاد فرمایا :  ’’ کیا میں تمہیں رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے سنی ہوئی حدیث پاک نہ سناؤں ؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی، ’’ کیوں نہیں !  ضرور سنائیے۔ ‘‘  تو آپ نے ارشاد فرمایاکہ میں نے خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :  ’’ حضرت داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ  کا معمول تھا کہ وہ ایک مخصوص ساعت میں اپنے گھر والوں کو بیدار کر کے ارشاد فرماتے :  ’’ اے آلِ داؤد!  اٹھ کر نماز پڑھو کیونکہ یہ وہ ساعت ہے جس میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ساحر اور عشر وصول کرنے والے کے علاوہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے۔ ‘‘  یہ سن کر کلاب بن امیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سواری پر سوار ہو کر زیاد کے پاس آئے اور استعفیٰ پیش کیا جو اس نے قبول کر لیا۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل،الحدیث:  ۱۶۲۸۱،ج۵،ص۴۹۲)

{5}…سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدھی رات کو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، پھر ایک منادی نداء دیتا ہے :  ’’ ہے کوئی دعا کرنے والا جس کی دعا قبول کی جائے؟ہے کوئی مانگنے والا جسے عطا کیا جائے؟ ہے کوئی مصیبت زدہ جس سے تنگی دور کی جائے؟ ‘‘  تو جو مسلمان بھی دعا مانگتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی دعا قبول فرما لیتا ہے مگر اپنی شرمگاہ کے ذریعے کمانے والی زانیہ عورت اور ٹیکس وصول کرنے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ ‘‘  (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۸۳۹۱،ج۹،ص۵۹)

{6}…حضرت سیدنا عثمان بن ابی العاص رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ میں نے شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنی رحمت



Total Pages: 320

Go To