Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا :  ’’ تمہیں کیا ہوا؟ ‘‘  اس نے عرض کی ’’ میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایساایسا فرماتے سنا ہے۔ ‘‘  شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ ہم تم میں سے جسے کسی کام پر عامل بنائیں اور وہ قلیل و کثیر لے آئے پھر اسے جو کچھ دیا جائے لے لے اور جس سے منع کیا جائے اس سے بازآجائے۔ ‘‘    (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ ، باب تحریم ھدایا العمال،الحدیث: ۴۷۴۳،ص۱۰۰۷)

{2}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدناسعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے ارشاد فرمایا:  ’’ اے ابوولید!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو، قیامت کے دن اس طرح مت آنا کہ تم نے ایک بلبلاتا ہوا اونٹ،ڈکراتی ہوئی گائے یامنمناتی ہوئی بکری اٹھا رکھی ہو۔ ‘‘  انہوں نے عرض کی، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کیا ایسا بھی ہو گا؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ہاں !  اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!  ‘‘  انہوں نے عرض کی، ’’  (مجھے بھی)  اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا!  میں کبھی بھی کسی چیز پر عامل نہیں بنوں گا۔ ‘‘

 (السنن الکبری للبیہقی،کتاب الزکاۃ،باب غلول الصدقۃ،الحدیث:  ۷۶۶۳،ج۴،ص۲۶۷)

{3}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے :  ’’ عنقریب تم پر مشرق و مغرب کی زمینوں کے دروازے کھل جائیں گے لیکن ان کے عمال  (یعنی حکمران)  جہنمی ہوں گے سوائے اس کے جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرے اور امانت ادا کرے ۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل، أحادیث رجال من اصحاب النبی، الحدیث:  ۲۳۱۷۰،ج۹ص۴۴)

{4}…حضرت سیدنا ابو رافع رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ میں رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ بقیعِ غرقَد میں پیدل چل رہا تھا کہ میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ’’  تجھ پرافسوس، تجھ پرافسوس۔ ‘‘  کہتے ہوئے سنا، میں پیچھے ہٹ گیا اور سمجھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ مجھ سے فرمایا ہے، لیکن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ کیا ہوا، چلو!  ‘‘ میں نے عرض کی، ’’ کیا میں نے کوئی نیا کام کیا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ نہیں ۔ ‘‘  میں نے عرض کی ’’ پھر آپ نے مجھ پرافسوس کیوں کیا؟ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ تم پر سے نہیں کیا، بلکہ یہ فلاں شخص  ہے جسے میں نے بنی فلاں پر صدقہ لینے کے لئے عامل بنا کر بھیجا پھر اس نے ایک دھاری دار اونی چادر میں خیانت کی تو اسے اتنی ہی مقدار میں جہنم کی زرہ پہنا دی گئی۔ ‘‘                  (سنن النسائی،کتاب الامامۃ،باب الاسرع الیالخ،الحدیث: ۸۶۳،ص۲۱۴۲)

{5}…نبی کریم، ر ء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ صدقہ کے مال میں ظلم کرنے والا صدقہ روک لینے وا لے کی طرح ہے۔ ‘‘    (جامع الترمذی، ابواب الزکاۃ ، باب ماجاء فی المتعدی فی الصدقۃ ،الحدیث:  ۶۴۶،ص۱۷۱۰)

                سیدناامام ترمذی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’  جس طرح صدقہ روکنے والا گنہگار ہے اسی طرح یہ بھی گنہگار ہے۔ ‘‘

{6}…رسول اکرم، شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میں تمہیں پشتوں سے پکڑ کر جہنم سے روکتا ہوں کہ جہنم سے دورہٹو، جہنم سے بچو، جہنم سے دور ہو جاؤ اور تم ہو کہ مجھ پر غالب آ جاتے ہو اور پتنگوں یا ٹڈیوں کی طرح  (اس میں )  گرنے لگتے ہو، قریب ہے کہ میں تمہاری پشتوں کو چھوڑ دوں ، اور میں حوضِ (کوثر) پرتمہارے لئے فَرَطہوں  (فَرَط اس شخص کو کہتے ہیں جولوگوں سے پہلے منزل پرپہنچ کران کے لئے آرام وغیرہ کا اہتمام کرے  ([1]) ) تم میرے پاس اکٹھے اور ایک ایک کر کے آؤ گے اور میں تمہیں تمہارے چہروں اور ناموں سے پہچان لوں گا جیسا کہ آدمی اپنے اونٹوں میں اجنبی اونٹ پہچان لیتا ہے، تمہیں بائیں ہاتھ والوں میں بھیجا جائے گا اور میں تمہارے لئے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں قسم کھاؤں گا اور کہوں گا :  ’’ اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ  !  میری قوم!  اے میرے ربعَزَّ وَجَلَّ !  میری اُمت!  ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :  ’’ اے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمھارے بعد کیا کیا؟ یہ تمھارے بعد پچھلے پاؤں لوٹ گئے تھے۔ ‘‘  لہذا تم میں سے کوئی ایسانہ ہو کہ قیامت کے دن اس نے ایک بکری اٹھا ئی ہوئی ہو اور وہ منمنا رہی ہو اور پکارے :  ’’ اے محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) !  اے محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) !  ‘‘ تو میں کہوں :  ’’ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ، یقینا میں نے تمہیں پیغامِ خداعَزَّ وَجَلَّ  پہنچا دیا تھا۔ ‘‘  

                اور تم میں سے کوئی ایسا بھی نہ ہو کہ وہ قیامت کے دن ایک گھوڑا اٹھائے ہوئے آئے جو آواز نکال رہا ہو پس وہ پکارے:   ’’ اے محمد  (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) !  اے محمد  (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) !  ‘‘  تو میں کہوں :  ’’ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ، بے شک میں نے تمہیں پیغامِ خداپہنچا دیا تھا۔ ‘‘  اور تم میں سے کوئی ایسا بھی نہ ہو کہ وہ قیامت کے دن چمڑے کا مشک اٹھائے ہوئے ہو وہ پکارے :  ’’ اے محمد  (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) !  اے محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) !  ‘‘ تو میں کہوں :  ’’ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ، بے شک میں نے تمہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّکاپیغامِ پہنچا دیا تھا۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب ، الترغیب فی العمل علی الصدقۃ ،الحدیث:  ۱۱۷۵،ج۱۲،ص۳۷۸)

تنبیہ:

                مذ کورہ گناہوں کو کبائر میں شمار کرنا ظاہر ہے، اگرچہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ان کی تصریح نہیں کی کیونکہ ان کی کئی مقامات میں وضاحت ہے اور تحقیق انہوں نے مطلق خیانت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے اور وہ ان کو اور ان کے علاوہ گناہوں کو بھی شامل ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

کبیرہ نمبر131:                             

 



[1] ۔۔۔۔ حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃاللہ  الرحمن لفظ فرط کی تشریح وتحقیق کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں :فرط بمعنی فارط ہے جیسے تبع بمعنی تابع ،فرط وہ شخص ہے جوکسی جماعت سے آگے منزل پرپہنچ کران کے طعام قیام وغیرہ تمام ضروریات کاانتظام کرے جس سے وہ جماعت آکرہرطرح آرام پائے ،مطلب یہ ہے کہ میں تم سے پہلے جارہاہوں تاکہ تمہاری شفاعت، تمہاری نجات، تمہاری ہرطرح کارسازی (یعنی مدد)کروں تم میں سے جوبھی ایمان پرفوت ہوگاوہ میرے پاس میری حفاظت، میرے انتظام میں اس طرح آوے گاجیسے مسافراپنے گھرآتاہے ،بھرے گھرمیں ۔(اشعۃاللمعات)مومن مرتے ہی حضور(صلی اللہ  علیہ وسلم)کے پاس پہنچتاہے بلکہ بعض مومنوں کی جانکنی کے وقت خودحضورانور(صلی اللہ  علیہ وسلم)انہیں لینے تشریف لاتے ہیں جیساکہ امام بخاری (علیہ رحمۃاللہ  الباری)کاواقعہ ہوا،اوربہت مرنے والوں سے(نزع کے وقت)سناگیاحضور(صلی اللہ  علیہ وسلم)آگئے،خیال رہے کہ چھوٹے فوت شدہ بچوں کوبھی ’’فرط‘‘ فرمایاگیاہے مگروہ ’’فرطِ ناقص‘‘ ہیں ۔حضورانور(صلی اللہ  علیہ وسلم)’’فرط کامل‘‘ یعنی ہرطرح کے منتظم نیز’’اَیْدِیْکُمْ‘‘ میں خطاب ساری امت میں ہے نہ کہ صحابہ کرام (عَلَيهِمُ الّرِضْوَان )سے حضور(صلی اللہ  علیہ وسلم)اپنی امت کے دائمی منتظم ہیں ۔ (مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،ج۸،ص۲۸۶)



Total Pages: 320

Go To