Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا  (پ۱۹، الفرقان: ۶۷)

ترجمۂ کنز الایمان : اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں ۔

                لہٰذا جُوْد زیادتی و کمی اور حد سے زیادہ تنگی وکشادگی کی درمیانی کیفیت کا نام ہے اور اس کا کمال یہ ہے کہ آدمی اپنے دل میں کوئی غرض نہ پائے یعنی بے غرض ہو کر عطا کرے بلکہ اسے چاہئے کہ وہ اپنے دل کو ایسی جگہ خرچ کرنے پر مائل کرے جہاں خرچ کرنا قابلِ تعریف ہو خواہ وہاں خرچ کرنا شرعاً واجب ہو یا قابلِ مروت و عادت ہو، لہٰذا سخی وہ ہے جو ایسی جگہ خرچ کرنے سے نہ رکے ورنہ وہ بخیل کہلائے گا مگر واجبِ شرعی کو روک لینے والا مثلاً زکوٰۃ یا اہل و عیال کے نفقہ کو روک لینے والا مروّۃًواجب ہونے والے حق مثلاً کم قیمت اشیاء میں تنگی کرنے والے سے زیادہ برا ہے اور اس کی برائی اموال و اشخاص کی تبدیلی سے مختلف ہوجاتی ہے، لہٰذا مال دار، پڑوسی، اہل خانہ اور دوست کے ساتھ ایسا سلوک کرنا ان کی اضداد سے ایساسلوک کرنے سے زیادہ براہے۔

                بُخْل کا ایک تیسرا درجہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ کثرتِ مال کی صورت میں انسان مشروع اور مروّت کے واجبات ادا کرتا رہے، پھر ان بھلائی کی جگہوں پر مال خرچ کرنا بند کر دے تا کہ وہ کسی مصیبت کے لئے مال کو بچا کر رکھ سکے نیزاپنے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے تیار کردہ ثوابات، اعلیٰ درجات اور پسندیدہ مراتب پر فانی اغراض کو ترجیح دے تو یہ شخص بہت بڑا بخیل ہے، مگر یہ معاملہ عقل مندوں کے نزدیک ہے عام مخلوق کے نزدیک نہیں کیونکہ وہ پریشانی کے وقت کے لئے مال جمع کر کے رکھنے کو بہت اہم خیال کرتے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات وہ اپنے پڑوسی فقیر کو محروم کرنے کو اس شخص کا برا عمل خیال کرتے ہیں اگرچہ وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور اس کی قباحت مال کی مقدار اور فقیر کی حاجت و مدد کی زیادتی کے مختلف ہونے سے بدلتی رہتی ہے، پھر وہ شخص ان دونوں واجبات کی ادائیگی کرنے سے بُخْل سے بری ہو جائے گا لیکن اس کے لئے جود و سخا کی صفت اس وقت تک ثابت نہ ہو گی جب تک وہ فضیلت کے حصول کے لئے، نہ کہ تعریف یا خدمت یا بدلے کے لئے، ان دونوں جگہوں پر واجب حق سے زیادہ خرچ نہ کرے اور اس کے لئے اس صفت کا ثبوت اس کی استطاعت کے مطابق کم یا زیادہ خرچ کرنے پر ہو گا۔

تنبیہ4:                               

بخل کا سبب

                جو شخص اپنے دین اور عزت کی حفاظت کا ارادہ رکھتا ہو اس پر بُخْل کے مہلکات سے ڈرتے ہوئے اس سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کا سبب اور علاج معلوم ہو، اس کا سبب یا تو مال کی ایسی محبت ہے جو لمبی امید کے ساتھ ساتھ ان خواہشات کی محبت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جن کی تکمیل مال ہی کے ذریعے ہو سکتی ہے کیونکہ جسے یہ معلوم ہو جائے کہ ایک دن کے بعد اس کا انتقال ہو جائے گا اس میں بُخْل کا کوئی اثر باقی نہ رہے گا، یا پھر بُخْل مال کی محبت کی وجہ سے ہوتا ہے، اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ جسے یہ یقین ہوتا ہے کہ اس کے پاس کفایت سے زائد مال ہے اگر وہ طبعی عمر تک زندہ رہے اور شاہ خرچیاں کرتا رہے اور اس کا وارث بھی کوئی نہ ہو اور اس کے باوجود بُخْل کرے اور زکوٰۃ روکے پھر اس خزانے کو، یہ جاننے کے باوجود کہ مجھے مرنا ہے، زمین میں دفن کر دے بلکہ بعض اوقات موت کے وقت اسے نگل جائے تو اس عارضے کا علاج بہت مشکل بلکہ محال ہے۔

بخل کا علاج:

 (۱) …پہلے عارضے یعنی خواہشات کی محبت کا علاج بقدرِ کفایت رزق پر قناعت اور صبر کے ذریعے ہو سکتا ہے۔

 (۲) …لمبی امیدوں کا علاج موت کو کثرت سے یاد کرنے اور اطراف میں واقع ہونے والی اموات اور ان کے مال جمع کرنے کی مشقت اور پھر ان کے بعد اس مال کے قبیح گناہوں میں ضائع ہونے میں غور و فکر کرنے سے ممکن ہے۔

 (۳) …اولاد کی طرف توجہ کا علاج گذشتہ صفحات میں بیان کردہ اس حدیثِ پاک کو پیش نظر رکھنے سے ممکن ہے جس میں صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک بد ترین آدمی وہ ہے جو اپنے ورثاء کو خوشحالی میں چھوڑ کر مرے اور اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کے پاس برائی کے ساتھ حاضر ہو۔ ‘‘   (فردوس الاخبار،باب الواؤ،الحدیث: ۷۴۶۵،ج۲،ص۴۰۸،بتغیر)

                نیز اگر وہ یہ بات پیش نظر رکھے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اس کی اولاد کے لئے رزق مقرر فرما دیا ہے اس میں نہ کمی ہو گی نہ زیادتی۔ بہت سے لوگ جن کے والدین ان کے لئے ایک پائی بھی چھوڑ کر نہیں مرتے پھر بھی وہ غنی ہو جاتے ہیں اور بہت سے لوگ جن کے والدین خزانے چھوڑ کر مرتے ہیں جلد ہی فقیر بن جاتے ہیں ۔

 (۴) …اسی طرح بخیلوں کے احوال میں غور و فکرکرے کہ وہ کس طرح اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی میں مبتلا اور ہربھلائی سے دور ہیں ، اسی وجہ سے آپ نے دیکھا ہو گا کہ لوگ اس قسم کے افراد کو برا سمجھتے اور ان سے نفرت کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض بخیل لوگ دوسروں کے کثرتِ بخل کو بھی برا سمجھتے ہیں جبکہ بخیل اپنے ساتھیوں کو بوجھ سمجھتا ہے اور اس بات سے غافل رہتا ہے کہ وہ خود بھی لوگوں کے دلوں پر اتناہی گراں اور ان کے نزدیک اتنا ہی برا ہے جتنا دوسرے بخیل اس کے نزدیک ہیں ۔

 (۵) …ان منافع پر غور کرے جن کی وجہ سے وہ مال جمع کر رہا ہے، لہٰذا بقدرِ حاجت مال جمع کرے اور زائد مال کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے پسندیدہ کاموں میں صرف کر کے اس کے پاس اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ کرے۔

                جو ان ادویہ  (دوا کی جمع)  میں غور کرے گا اس کی فکر چمک اٹھے گی، اسے شرح صدر حاصل ہو گا اور وہ اپنی استعداد کے مطابق بُخْل اور اس کی تمام انواع یا بعض انواع سے پہلو تہی اختیار کر لے گا اور ایسی صورت میں اسے چاہئے کہ جیسے ہی اس کے دل میں راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں سفر کرنے کا خیال آئے فوراً اس پر عمل کر ڈالے کیونکہ بعض اوقات شیطان نفس کو اس خیال سے رک جانے کو اچھا بنا کر پیش کرتا ہے۔

                اسی لئے بعض اکابر کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو جب اپنے کپڑے صدقہ کرنے کا خیال آیا اس وقت آپ غسل خانے میں تھے، چنانچہ فورًا باہر تشریف لائے اور کپڑے صدقہ کر دئیے پھر واپس لوٹ گئے، پھر جب غسل خانے سے باہر نکلے تو اس کے بارے میں آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا اس پر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ مجھے خوف ہوا کہ کہیں شیطان میرے ارادے کو متزلزل نہ کردے۔ ‘‘

            بُخْلکی صفت بتکلف خرچ کرنے سے ہی زائل ہوتی ہے جیسا کہ عشق ،معشوق کے محل کی جانب سفر کرنے سے ہی  زائل ہوتا ہے۔

تنبیہ5:

مال کے فوائد

 (۱) …مال کے کچھ دینی و دنیوی فوائد بھی ہیں اسی لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے فرمانِ عالیشان:

 



Total Pages: 320

Go To