Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

پہنائے؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی :  ’’ ہر گز نہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ پھر اِن کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب الزکاۃ،باب ماجاء فی زکاۃ الحلی،الحدیث: ۶۳۷،ص۱۷۰۹)

{40}… ایک روایت میں یوں ہے :  ’’ کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّتمہیں آگ کے کنگن پہنا دے، ان کی  زکوٰۃ ادا کیا کرو۔ ‘‘      (المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث اسماء ابنۃ یزید،الحدیث:  ۲۷۶۸۵،ج۱۰،ص۴۴۶)

                امام خطابی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے قول کے مطابق اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان کی یہی تا ویل ہے :

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ (۳۵)   (پ۱۰، التوبۃ: ۳۵)

ترجمۂ کنز الایمان : جس دن وہ تپایا جائے گا جھنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جوڑ کر رکھاتھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔

ایک کنگن بھی جہنم میں لے جاسکتاہے:

{41}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امینعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن دیکھے تو دریافت فرمایا :  ’’ یہ کیا ہے؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے لئے زینت اختیار کرتی ہوں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی :  ’’ نہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ تمہیں جہنم کے لئے کافی ہیں ۔ ‘‘    (سنن ابی داؤد،کتاب الزکاۃ،باب الکنزما ھو وزکاہ الحلی ،الحدیث: ۱۵۶۵،ص۸ ۳ ۳ )

آگ کا ہاراورآگ کی بالیاں :

{42}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو عورت سونے کا ہار پہنتی ہے قیامت کے دن اس کے گلے میں ویسا ہی آگ کا ہار پہنایا جائے گا اور جو عورت کانوں میں سونے کی بالیاں ڈالے گی  (اور اُ ن کی زکوٰۃ ادا نہ کرے گی) توقیامت کے دن اس کے کانوں میں ویسی ہی آگ کی بالیاں ڈالی جائیں گی۔ ‘‘   (المرجع السابق،الحدیث:  ۴۲۳۸،ص۱۵۳۱)

{43}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جواس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے محبوب کوآگ کاچھلاپہنایا جائے تووہ اسے سونے کا چھلا پہنائے اور جو یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کے محبوب کو آگ کا ہارپہنایاجائے تووہ اُسے سونے کاہار پہنائے اورجویہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کے محبوب کو آگ کے کنگن پہنائے جائیں تووہ اُسے سونے کے کنگن پہنائے لیکن تم مردوں کے لئے چاندی جائز ہے پس اسے استعمال کرو۔ ‘‘   (المرجع السابق،الحدیث:  ۴۲۳۶،ص۱۵۳۰)

                ہمارے (یعنی شوافع) کے نزدیک یہ اور ان کی ہم معنی دوسری احادیثِ مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عورتوں کے لئے زیورات ابتدائے اسلام میں حرام تھے،پھران زیورات پرزکوٰۃ واجب ہوئی یاان سے مرادیہ ہے کہ عورتیں بہت زیادہ زیورات استعمال کرتیں تھیں اور جب زیورات میں  (نصاب کو پہنچنے والی) زیادتی ہو تواس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔  ([1] ) اسی طرح اگران زیورات کا استعمال مکروہ ہوتو یہی حکم ہے مثلاً آرائش کے لئے چھوٹی چیزبنانایاکسی ضرورت کے تحت بڑی چیزبنانا۔

{44}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ سب سے پہلے جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد یہ ہیں :   (۱) زبردستی مسلَّط ہو جانے والاحکمران  (۲) وہ مال دار جو اپنے مال سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا حق ادا نہیں کرتا اور  (۳) متکبر فقیر۔ ‘‘   (المصنف لابن ابی شیبۃ ،کتاب الاوائل،باب اول مافعل ومن فعلہ،الحدیث: ۲۳۷،ج۸،ص۳۵۱)

{45}…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  فرماتے ہیں :  ’’ جس کے پاس اتنامال ہو کہ وہ بیت اللہ  شریف کاحج کر سکے اورحج نہ کرے یا اس پر زکوٰۃ واجب ہو جائے اور وہ اس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو وہ موت کے وقت واپسی کی تمنا کرے گا۔ ‘‘  ایک شخص نے کہا:   ’’ اے ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہما!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈریں ، واپسی کی تمنا تو کفار کریں گے۔ ‘‘  حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمانے ارشاد فرمایا :  ’’ میں ابھی تمہیں قرآن کریم سناتا ہوں ،اللہ  عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے :

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ-فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ (۱۰)   (پ۲۸،المنافقون: ۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اور ہمارے دئیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب ! تو نے مجھے تھوڑی مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا۔

 (جامع الترمذی، ابواب تفسیر القرآن ، باب سورۃ المنافقون،الحدیث:  ۳۳۱۶،ص۱۹۹۱)

                منقول ہے کہ تابعین کی ایک جماعت حضرت سیدنا ابو سنان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی زیارت کے لئے گئی، جب یہ جماعت ان کی خدمت میں حاضر ہو کر بیٹھ گئی تو انہوں نے ارشاد فرمایا :  ’’ ہمارے ساتھ چلو ہم اپنے ایک پڑوسی سے ملنے جا رہے ہیں ، اس کے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے اس سے تعزیت بھی کر لیں گے۔ ‘‘  محمد بن یوسف فریابی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ ہم ان کے ساتھ چل دئیے جب اس شخص کے پاس پہنچے تو اسے اپنے بھائی پر بہت زیادہ گریہ و زاری کرتے اور روتے ہوئے پایا، ہم اس سے تعزیت کرنے لگے اور تسلی دینے لگے مگر اس پر تعزیت اور تسلی کا کوئی اثر نہ ہوا ہم نے اس سے پوچھا :  ’’ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ موت سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں ؟ ‘‘  اس نے کہا :  ’’ کیوں نہیں !  مگر میں تو اس عذاب پر رو رہا ہوں جو میرے بھائی کو صبح و شام ہوتا ہے۔ ‘‘  ہم نے پوچھا :  ’’ کیا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں غیب پر مطلع فرمایا ہے؟ ‘‘  اس نے کہا :  ’’ نہیں !  مگر جب میں نے اسے دفنایا اور قبر کی مٹی برابر کر دی اور لوگ واپس پلٹ آئے تو میں اس کی قبر کے پاس بیٹھ گیا، اچانک اس کی قبر سے یہ آواز آئی وہ کہہ رہاتھا:  ’’ آہ!  لوگ عذاب کا سامنا کرنے کے لئے مجھے تنہا چھوڑ گئے حالانکہ میں روزے رکھتا اور نماز پڑھا کرتا تھا۔ ‘‘           پھروہ شخص کہنے لگا :  ’’ اس کی بات نے مجھے رلا دیا، پھر میں نے اس کی حالت دیکھنے کے لئے قبرسے مٹی ہٹائی تو قبر میں آگ کو دہکتے ہوئے پایا اور اس کی گردن میں آگ کا طوق دیکھا تو بھائی کی محبت مجھ پر غالب آ گئی میں نے وہ طوق اس کے گلے سے نکالنے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو میری انگلیاں اور ہاتھ جل گیا۔ ‘‘  پھر اس شخص نے ہمیں اپنا ہاتھ نکال کر دکھایا وہ جل کر سیاہ ہو چکا تھا پھر اس نے بتایا :  ’’ میں نے اس پر مٹی ڈالی اور لوٹ آیا، اب میں اس کے حال پر کیوں نہ روؤں اور غم کیوں نہ کروں ۔ ‘‘  میں نے اس سے پوچھا :  ’’ تمہارا بھائی دنیا میں کون سا عمل کیا کرتا تھا؟ ‘‘  تو اس نے بتایا :  ’’ وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تھا۔ ‘‘  ہم نے کہا :  ’’ یہ واقعہ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان کی تصدیق ہے:

وَ  لَا  یَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَبْخَلُوْنَ  بِمَاۤ  اٰتٰىهُمُ  اللّٰهُ  مِنْ  فَضْلِهٖ  هُوَ  خَیْرًا  لَّهُمْؕ-بَلْ  هُوَ  شَرٌّ  لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ  مَا  بَخِلُوْا  بِهٖ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ-

 (پ۴، آل عمران:  ۱۸۰)

 



[1] ۔۔۔۔ احناف کے نزدیک:’’سونا، چاندی جب کہ بقدر نصاب(یعنی ساڑھے سات تولے سونایاساڑھے باون تولے چاندی)ہوں تو ان کی زکوٰۃ چالیسواں حصہ ہے خواہ ان کا استعمال جائز ہو جیسے عورت کے لئے زیور یامردکے لئے چاندی کی ایک نگ کی ساڑھے چارماشے سے کم کی ایک انگوٹھی یاان کا استعمال ناجائز ہو جیسے چاندی سونے کے برتن، گھڑی،سرمہ دانی، سلائی وغیرہ کہ ان کا استعمال مرد و عورت سب کے لئے حرام ہے۔‘‘(بہارشریعت،ج۱ ،حصہ۵،ص۲۰)



Total Pages: 320

Go To