Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ہدایت ملتی ہے۔

{32}…حضرت سیِّدُنا عبداللہ  بن جبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اس امت کو مصیبت کے وقت پڑھنے کے لئے ایک ایسی دعا ملی ہے جو دوسری امتوں کو عطانہ ہوئی اور وہ ’’  اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ  (ہم اللہ  کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا) ہے۔ اگر یہ پچھلی امتوں کو ملی ہوتی تو حضرت سیَّدُنا یعقوب علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام یٰٓاَسَفٰی عَلٰی یُوْسُفَ۱۳، یوسف: ۸۴) ترجمۂ کنز الایمان :  ’’ ہائے افسوس یوسف کی جدائی پر۔ ‘‘ کہنے کے بجائے یہی دعا پڑھتے۔ ‘‘   (فیض القدیر،حرف الہمزۃ،تحت الحدیث: ۱۱۷۶،ج۲،ص۳)

{33}…سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بندہ جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو  اس کا سبب یا تو کوئی ایسا گناہ ہوتا ہے جس کی بخشش اس مصیبت میں مبتلا ہونے پر موقوف ہوتی ہے یا پھر اس کی وجہ وہ درجہ ہوتا ہے جو اس مصیبت میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں مل سکتا۔ ‘‘

 ( کنزالعمال،کتاب الاخلاق ،قسم الاقوال ،باب الصبر علی انواعالخ ،الحدیث: ۶۸۳۰،ج۳،ص۱۳۷ملخصاً)

{34}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مسلمان کو جو بھی پریشانی یا مصیبت پہنچتی ہے اگرچہ کانٹا ہی چبھے،وہ دومیں سے کسی ایک فائدے کے لئے پہنچتی ہے :   (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کا کوئی ایسا گناہ معاف فرما دیتا ہے جس کی مغفرت اس جیسی مصیبت پر موقوف ہوتی ہے یا  (۲)  بندے کو اس کی وجہ سے ایسی بزرگی عطا ہوتی ہے جو اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ ‘‘  (الترغیب والترھیب،کتاب الجنائز،باب الترغیب فی الصبرسیماالخ ،الحدیث: ۵۲۳۰،ج۴،ص۶ ۱۳)

{ 35 }…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی ایک شہزادی نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں پیغام بھیجا کہ  ’’ میرا بیٹا نزع کے عالم میں ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنیپیغام لانے والے سے فرمایا:  ’’ اسے جا کر بتا دوکہ یقیناوہ سب کچھ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی کا ہے جو وہ واپس لے اور وہ سب کچھ بھی اسی کا ہے جو وہ عطا فرمائے، اس کے پاس ہر چیز کی موت کا وقت مقرر ہے لہٰذااس سے کہو کہ صبر کرے اور اَجر کی اُمید رکھے۔ ‘‘   ( صحیح مسلم ،کتاب الجنائز،باب البکاء علی المیت ، الحدیث:  ۲۱۳۵ ، ص ۸۲۲)

                سیدناامام نووی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ یہ حدیثِ پاک اسلام کے ان عظیم قواعد میں سے ہے جو دین کے تمام مصائب، غم و الم، بیماری و پریشانی پر صبر جیسے بیشتر اہم امور کے اصول و فروع اور آداب پر مشتمل ہیں ۔ (حدیثِ پاک میں وارد اس فرمان)  ’’ اِنَّ لِلّٰہِ مَآ اَخَذَ ‘‘  کے معنی یہ ہیں کہ پوری کائنات اس کی ملک ہے وہ تم سے جو کچھ بھی لیتا ہے وہ تمہارے پاس عاریتاً ہوتاہے اور ’’ وَلَہٗ مَآ اَعْطٰی ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے وہ بھی اسی کا ہی ہے کیونکہ وہ اس کی ملک سے خارج نہیں ہوتا، لہٰذاوہ جو چاہے کرے اور ’’ وَکُلُّ شَیْئٍٍ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز اس کے مقررکردہ وقت سے مقدم یا مؤخر نہیں ہوتی،توجس شخص نے اس بات پر یقین کر لیا یہ اسے صبر و اَجر کی اُمید کی طرف لے جائے گی۔ ‘‘

{36}…ایک شخص پر بیٹے کی موت گراں گزری تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے دلاسہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ تمہیں ان دو باتوں میں سے کون سی بات پسند ہے کہ  (۱) تم اپنی زندگی میں اس سے نفع اٹھاؤیا (۲)  جنت کے جس دروازے پر بھی آؤ وہ پہلے ہی سے وہاں موجود ہو اور تمہارے لئے جنت کا دروازہ کھولے۔ ‘‘  اس نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسندہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ تمہارے لئے ایسا ہی ہے۔ ‘‘  تو عرض کی گئی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کیا یہ خوشخبری صرف انہی کے لئے خاص ہے یا تمام مسلمانوں کے لئے  ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔ ‘‘

 ( سنن النسائی،کتاب الجنائز،باب فی التعزیۃ ،الحدیث: ۲۰۹۰،ص۲۲۲۴)

 (سنن الدارقطنی،کتاب البیوع ، الحدیث: ۲۹۶۵،ج۳،ص۵۷)

{37}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے :  ’’ مؤمن کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں ۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ والادب،باب ثواب المومن فیماالخ،الحدیث: ۶۵۶۵،ص۱۱۲۸)

{38}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:  ’’ جسے کوئی مصیبت پہنچے تو وہ میری مصیبت کو یاد کر لیا کرے کیونکہ وہ سب سے بڑی مصیبت ہے۔ ‘‘   ( عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی، باب مایقول اذا اصیب بولدہ،الحدیث:  ۵۸۲ ، ص۱۷۸)

                 ہمارے اکابر ائمہ میں سے سیدنا قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرمایا :  ’’ ہر مؤمن پر واجب ہے کہ اسے حضور نبی ٔ کریم، رء ُوف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دنیا سے جدائی کا غم اپنے والدین کی دنیا سے رخصتی سے بھی زیادہ ہو جیسا کہ اس پر رسولِ اکرم، شفیعِ معظَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنی جان و مال اور اہل و عیال سے زیادہ محبوب رکھنا واجب ہے۔ ‘‘

بَیْتُ الْحَمْد کا حقدار:

{39}…حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اپنے بیٹے کی موت کے وقت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کی اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ  (یعنی ہم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا مال ہیں اور ہمیں اسی کی طرف پھرنا ہے)  پڑھا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ملائکہ کو اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنانے اور اس کا نام بَیْتُ الْحَمْد رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ ‘‘

 (جامع الترمذی،ابواب الجنائز،باب فضل المصیبۃ اذااحتسب،الحدیث: ۱۰۲۱،ص۱۷۴۹،مفہومًا)

{40}…حضور نبی ٔکریم،رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایاکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :  ’’ میں اپنے جس مؤمن بندے کے کسی دنیوی عزیزکی روح قبض کر لوں پھر وہ اس پر ثواب کی امید رکھے تو اس کی جزاء جنت ہی ہے۔ ‘‘     

 (صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب العمل الذی یبتغی وجہ الخ،الحدیث: ۶۴۲۴،ص۵۴۰)

{41}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ صبراَوَّل صدمے پر ہوتا ہے۔ ‘‘



Total Pages: 320

Go To