Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

تحریم الکبر وبیانہ ، الحدیث:  ۲۶۵ ، ص ۶۹۳)

{18}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں خبر نہ دوں ہر سرکش، اکڑکرچلنے والااوربڑائی چاہنے والا جہنمی ہے۔ ‘‘   ( صحیح البخاری ،کتاب الادب ، باب الکبر ،الحدیث:  ۶۰۷۱، ص ۵۱۳)

{19}… سرکارِمدینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جس نے تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹا اللہ  عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت نہ فرما ئے گا ۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب اللباس ، باب تحریم جر الثوب خیلائ، الحدیث: ۵۴۵۴،ص۱۰۵۱ثوبہ بدلہ ’’ ازارہ ‘‘ )

{20}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ایک شخص اپنے کپڑوں میں اِتراتا ہوا سر اَکڑا کر چل رہا تھا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ ‘‘

 (صحیح البخاری ،کتاب اللباس،با ب من جر ثوبہ من الخیلا ء ، الحدیث:  ۵۷۸۹، ص ۴۹۴)

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

کبیرہ نمبر111:                                               سیاہ خضاب لگانا

یعنی داڑھی وغیرہ کو بلا کسی مقصد ( مثلاً جہاد وغیرہ)  کے سیاہ خضاب لگانا

{1}…حضرت سیدنا عبد اللہ  بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آخر ی زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو کبوتروں  ([1]) کے سینوں جیسا سیاہ خضاب لگائیں گے وہ لوگ جنت کی خوشبو تک نہ سونگھ سکیں گے۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد،کتاب الترجل،باب ماجاء فی خضاب السواد، الحدیث: ۴۲۱۲،ص۱۵۲۹)

تنبیہ:

                حدیثِ مبارکہ میں وارد اس سخت وعید کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا بالکل ظاہر ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس کی صراحت کرتے ہوئے نہیں دیکھا، میرے خیال میں اسے کتاب الصلوٰۃ میں بیان کردہ شرائط کے ساتھ ذکر کرنا زیادہ مناسب ہے، مگر چونکہ یہ اس باب سے بھی کچھ نہ کچھ مناسبت رکھتا ہے لہٰذا اسے یہاں ذکر کر دیا گیا۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

باب الاستسقاء

نمازاِستسقاء کا بیان

کبیرہ نمبر112:           

ستاروں کے مؤثر ہونے کا اعتقاد رکھنا

یعنی بارش ہونے پر ستاروں کی تاثیرکا اعتقاد رکھتے ہوئے یہ کہناکہ فلاں ستارے کے فلاں برج میں پہنچنے پر بارش ہوئی

{1}…حضرت سیدنا زید بن خالد جہنی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بارش ہونے کے بعد ارشاد فرمایا :  ’’ کیا تم جا نتے ہو کہ تمہارے رب عَزَّ وَجَلَّ  نے کیا فرمایا ہے؟ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی بہتر جانتے ہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   (اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے کہ)   ’’ میرے کچھ بندے مؤمن اور کچھ کافر ہو گئے، جس نے یہ کہا :  ’’ ہم پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی۔ ‘‘  وہ مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کی تاثیر کا منکر ہوا اور جس نے یہ کہا کہ ’’ ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی۔ ‘‘  وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں کی تاثیر پر ایمان لایا۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتا ب الاستسقاء ، باب قول اللہ  تعالی ’’ وتجعلون رزقکم انکم تکذبون ‘‘ ،الحدیث: ۱۰۳۸،ص۸۱)

تنبیہ:

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے مگر یہ درست نہیں کیونکہ جو شخص مذکورہ اعتقاد رکھے وہ حقیقتاً کافر ہے، جبکہ ہماری کتاب ان کبیرہ گناہوں پر مشتمل ہے جو اسلام کو زائل نہیں کرتے،سیدنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ جو یہ کہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی اور اعتقاد یہ رکھے کہ اس ستارے نے بارش برسائی تو وہ کافر ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو اس کا خون حلال ہے۔ ‘‘  اور اَلرَّوْضَہ میں ہے اگر کوئی یہ اعتقاد رکھے کہ بارش حقیقت میں ستارے نے برسائی تو یہ کفر ہے اور وہ شخص مرتد ہو گیا۔ ‘‘           علاّمہ ابن عبد البر رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ’’ اگر کوئی یہ اعتقاد رکھے کہ ستارے کو بارش برسانے کا سبب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے بنایا ہے، ستارہ علمِ الٰہی اور تقدیر کی بناء پر بارش برساتا ہے تو یہ اعتقاد اگرچہ مباح ہے مگر ایسا شخص اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت کا منکر اور اس کی حکمت کے لطائف سے جاہل ہے۔ ‘‘  ([2]  )

باب الجنائز

نمازِ جنازہ کا بیان

 



[1] ۔۔۔۔ یہاں کبوتروں _ سے مراد جنگلی کبوتر ہیں کیونکہ ان کے سینے اکثر سیاہ ہوتے ہیں ، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سنت، مجددِ دین وملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’جنگلی کبوتروں کے سینے اکثرسیاہ و نیلگوں ہوتے ہیں ،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن(یعنی سیاہ خضاب لگانے والوں ) کے بالوں اور داڑھیوں کو اُن(جنگلی کبوتروں ) سے تشبیہ دی ۔‘‘                                  (فتاوی رضویہ ،ج۲۳،ص۴۹۶)

[2] ۔۔۔۔ صدر الشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی’’بہارِشریعت‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’ نجوم کی اس قسم کی باتیں جن میں ستاروں کی تاثیرات بتائی

جاتی ہیں کہ فلاں ستارہ طلوع کرے گا تو فلاں بات ہو گی یہ بھی خلافِ شرع ہے، اسی طرح نچھتّروں (یعنی ستاروں ) کا حساب کہ فلاں نچھتر سے بارش ہو گی یہ بھی غلط ہے، حدیث میں اس پر سختی سے انکار فرمایا۔‘‘ (بہار شریعت ،ج۲،حصہ ۱۶،ص ۱۵۹)

 



Total Pages: 320

Go To