Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ہیں ۔ ‘‘

 (سنن  ابی داؤد ،کتاب اللباس، باب فی قد ر موضع الازار ، الحدیث:  ۴۰۹۵ ، ص ۱۵۲۲)

{7}…حضرت سیدنا علاء بن عبد الرحمن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے تہبند کے بارے میں سوال کیا؟ ‘‘  تو انہوں نے ارشاد فرمایا:  ’’ تم نے ایک باخبر آدمی سے سوال کیا ہے، اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبعَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ مؤمن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہو تو حرج نہیں ۔ ‘‘  یا ارشاد فرمایا :  ’’ اگر نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہو توگناہ نہیں اور جو اس سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہے اور جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند لٹکا کر چلے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس پرنظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔ ‘‘

 ( ابو داؤد،کتاب اللباس،باب فی قدرموضع الازار،الحدیث: ۴۰۹۳،ص۱۵۲۲ ’’ المؤمن ‘‘ بدلہ ’’ المسلم ‘‘ )

{8}…حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  ارشاد فرماتے ہیں کہ میں شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا تو لمبائی کی وجہ سے میرا تہبند لٹک رہا تھا،آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ یہ کون ہے؟ ‘‘  میں نے عرض کی:   ’’ عبد اللہ  بن عمر (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہما) ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اگر تم واقعی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے بندے ہوتو اپنا تہبند اونچا کر لو۔ ‘‘  لہٰذامیں نے اپنا تہبند آدھی پنڈلیوں تک کر لیا۔ ‘‘  پھر مرتے دم تک آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہماکا تہبند اتنا ہی رہا۔ ‘‘                        (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ  بن عمربن الخطاب، الحدیث: ۶۲۷۱،ج۲،ص۵۱۰)

{9}…اللّٰہکے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ  عبرت نشان ہے :  ’’  تین شخص ایسے ہیں کہ جن سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نہ تو کلام فرمائے گا، نہ ان پر نظرِرحمت فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک فرمائے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا۔ ‘‘  خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین،شفیع المذنبینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بات  تین مرتبہ ارشاد فر مائی، حضرت سیدنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی:  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  خائب وخاسر ہونے والے یہ لوگ کون ہیں ؟ ‘‘  تو حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کپڑا لٹکانے والا، احسان جتا نے والا اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچنے والا۔ ‘‘

 ( الترغیب والترھیب،کتاب اللباس والزینۃ،باب الترغیب فی القمیص،الحدیث: ۳۱۲۹،ج۳،ص۵۸)

{10}…ایک اور روایت میں  ’’ تہبندلٹکانے والا ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں ۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار،الحدیث: ۲۹۳،ص۶۹۶)

{11}…سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ  عبرت نشان ہے :  ’’ کپڑا لٹکانے کاعمل تہبند، قمیص اور عمامہ میں بھی ہو سکتا ہے، جو تکبر کی وجہ سے ان میں سے کوئی چیز گھسیٹے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بروزِقیامت اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد ،کتاب اللباس ، باب فی قدر موضع الازار ، الحدیث:  ۴۰۹۴،ص۱۵۲۲)

{12}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ  عبرت نشان ہے :  ’’ تہبندلٹکانے سے بچتے رہو کیونکہ یہ تکبر میں سے ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے پسند نہیں فرماتا۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد ،کتاب اللباس ، باب ماجاء فی اسبال الازار ، الحدیث:  ۴۰۸۴ ، ص۱۵۲۱)

{13}…مَحبوبِ ربُّ العٰلَمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہے :  ’’ اے مسلمانوں کے گروہ!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّسے ڈرو اور آپس میں صلہ رحمی کرو کیونکہ صلہ رحمی سے زیادہ جلدکسی چیزکا ثواب نہیں ملتا، ظلم سے بچتے رہو کیونکہ ظلم سے زیادہ جلد کسی گناہ کی سزا نہیں ملتی اور والدین کی نافرمانی سے بچتے رہوجنت کی خوشبو 1,000سال کی مسافت سے سونگھی جا سکتی ہے مگر خداعَزَّ وَجَلَّ  کی قسم!  والدین کا نافرمان، قطع رحمی کرنے والا، بوڑھا زانی اور تکبر کی وجہ سے تہبندلٹکانے والا جنت کی خوشبونہ پاسکے گا، بے شک کبریائی تمام جہانوں کے پروردگار اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہے۔ ‘‘      ( المعجم الاوسط ، الحدیث:  ۵۶۶۴ ، ج۴ ،ص ۱۸۷)

{14}…اللّٰہکے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے کہ  ’’ جس نے تکبر کی وجہ سے اپنے پہنے ہوئے کپڑے لٹکائے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گااگرچہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک معزز ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘   (مجمع الزوائد ،کتاب اللباس ، باب فی الازار وموضعہ ، الحدیث:  ۸۵۴۰، ج۵، ص۲۲۱ )

{15}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے میرے پاس حاضر ہو کر عرض کی :  ’’ یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے، اس رات میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّبنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے،لیکن اس رات میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مشرک، جادوگر، قطع رحمی کرنے والے، چادر لٹکانے والے، والدین کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔ ‘‘   ( الترغیب والتر ھیب ،کتا ب الصوم ، باب التر غیب فی صوم شعبان، الحدیث:  ۱۵۵۳،ج۲، ص۳۵ )

{16}…حضرت سیدنا بریدہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر تھے کہ قریش کا ایک شخص اپنے حلّے (جبے) میں اِتراتا ہوا آیا، جب وہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ سے جانے لگا، تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اے بریدہ  (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ) !  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس کے لئے میزان قائم نہیں فرمائے گا۔ ‘‘  

 ( مجمع الزوائد،کتاب اللباس،باب فی الازار وموضعہ ، الحدیث: ۸۵۳۲،ج۵،ص۲۱۹)

تنبیہ:

                ان احادیثِ مبارکہ میں صراحۃ ًبیان کی گئی شدید وعید کی بناء پر اس گناہ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اورحضرات شیخین و