Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

للدیلمی،باب الثائ،الحدیث: ۲۳۲۹،ج۱،ص۳۱۹)

{9}… ایک اور روایت میں ہے کہ سرکارِ مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ  عبرت نشان ہے :  ’’ تین شخص کبھی جنت میں داخل نہ ہو ں گے (۱) دیّوث  (۲) مردانی عورتیں اور (۳)  شراب کاعادی۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :   ’’  شراب کے عادی کو تو ہم نے جان لیا، دیوث کون ہے ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کے گھر والوں کے پاس کون کون آتا ہے۔ ‘‘  ہم نے عرض کی:  ’’ مردانی عورتیں کون ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں ۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد ،کتاب النکاح ، باب فیمن یرضی لاھلہ بالخبث ، الحدیث:  ۷۷۲۲، ج۴ ، ص ۵۹۹)

تنبیہ:

                اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا بالکل واضح ہے جیسا کہ آپ ان صحیح احادیثِ مبارکہ اور ان میں وارد سخت وعید سے جان چکے ہیں جبکہ ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اس مشابہت اختیارکرنے کے بارے میں دو قول ہیں  (۱) یہ حرام ہے اور سیدنا امام

نووی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کی تصحیح کی ہے بلکہ اسی کو صحیح قرار دیا ہے (۲) یہ مکروہ ہے سیدنا رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی کتاب  ’’ الموضوع ‘‘ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔مگر سیدنا امام نووی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کاحرمت کاقول صحیح اورمناسب ہے بلکہ میں نے اسے کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔اورکبیرہ گناہوں کے بارے میں کلام کرنے والے بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے بھی اسے کبیرہ گناہ شمارکیاہے اور یہ بالکل واضح ہے اوراُس حدیثِ پاک جس میں حضورنبی ٔکریم،رء ُوفٌ رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہاتھ پاؤں پرمہندی لگاکرعورتوں سے مشابہت اختیارکرنے پر ہیجڑے کوجِلاوطن فرمادیاتھاسے معلوم ہوا کہ مرد کو ہاتھ اور پاؤں مہندی سے رنگنا حرام ہے بلکہ عورتوں سے مذکورہ مشابہت کی بناء پر کبیرہ گناہ ہے اوربیان کردہ حدیثِ پاک اس پرصراحتاً دلالت کرتی ہے، ماضی قریب میں جب یمن میں یہی مسئلہ پیش آیا تو وہاں کے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیمیں اختلاف پیدا ہو گیا اور انہوں نے اس کی حلت و حرمت پر کتابیں لکھ کر ۹۵۲ ؁ہجری میں مکہ مکرمہ بھیجیں ، ان میں سے تین کتابیں اس کی مطلق حلت پر اور ایک کتاب اس کی حرمت پر تھی، انہوں نے مجھ سے حق ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا تو میں نے اس مسئلہ پر ایک جامع کتاب لکھی، جس کا نام  ’’ شَنُّ الْغَارَۃِ عَلٰی مَنْ اَظْہَرَ مَعَرَّۃَ تَقَوَّلَہٌ فِی الْحِنَّائِ وَعَوَارَہُ ‘‘ رکھا تاکہ وہ اسم بامسمّی ہو جائے، کیونکہ حلّت (یعنی جائزہونے)  کے بعض قائلین نے اس مسئلہ میں مبالغہ سے اِتنا کام لیا کہ اجتہاد کا دعوٰی کر بیٹھے اور یہ گمان کرنے لگے کہ حرمت (یعنی ناجائزہونے)  کے قائلین ہیں کون؟ حالانکہ وہ تمام اصحابِ مذہب بلکہ امام شافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہہیں جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں ۔پھر جب کچھ زیادہ جوش میں آئے تو بغیر سوچے سمجھے اس معاملہ میں شدت اختیار کرتے ہوئے ان خرافات اور پیچیدہ باتوں میں بہت زیادہ کلام کرنے لگے اور ان کے نفس نے انہیں سمجھایا کہ ’’ ان علماء کرام  (رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ )  پر جو دلائل مخفی رہ گئے تھے وہ تم نے ہی تو ظاہر کئے ہیں اور یہ کہ ان کی یاحلال جاننے میں جن کی وہ پیروی کرتے ہیں اس شیخ کی تقلید کرنا ان  (حرمت کے قائل )  علماء کرام  (رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ )  کی تقلیدکرنے سے بہتر ہے۔ ‘‘

                اس حادثے کے عظیم ضرر، بُرے اثرات اور اس شکاری جال کے لپٹنے کی وجہ سے میں نے غور وفکر، تحقیق و تفتیش اور عزم و ہمت کی تیز دھار تلوار نکالی اور تاریکیوں کے چراغ ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی حمیت کی خاطرکھلے حق کا اظہار کرنے اور اس واضح باطل کومٹانے کے لئے کتاب ’’ زَنْدُ الْفِکْر ‘‘  لکھی۔یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا موضوع بہت وسیع ہے اور اس سے صحیح رائے ظاہر ہوئی اپنے رب کی حمد کے ساتھ کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں نے اسی پر توکل کیا ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

گھر والوں کی اصلاح

                شوہر پرواجب ہے کہ اپنی بیوی کو چال ڈھال،لباس اوردیگر اموروغیرہ میں مردوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کرے تاکہ اس کی بیوی اور وہ خود بھی لعنت سے بچ سکے۔ کیونکہ اگر وہ اسے اسی حالت پررہنے دے تو جو لعنت وپھٹکاراس عورت پر آئے گی وہی اس شخص پر بھی آئے گی۔نیزاس پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس حکم کی تعمیل بھی لازم ہے:

قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا  (پ ۲۸، التحریم: ۶)

ترجمۂ کنز الایمان  :  اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔

                یعنی انہیں علم و ادب سکھا کر، اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کی اطاعت کا حکم اور اس کی معصیت سے روک کر آگ سے بچاؤ۔

{10}… سرکارِمدینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان بھی اس کی تائید کرتا ہے کہ ’’ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، آدمی اپنے اہلِ خانہ پر نگہبان ہے اوراس سے قیامت کے دن ان کے بارے میں پوچھ گچھ ہو گی۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب الجمعۃ ، باب الجمعۃ فی القری والمدن ، الحدیث: ۸۹۳، ص ۷۰،بدون ’’ یوم القیامۃ ‘‘ )

{11}… نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ بے شک مردوں کی ہلاکت عورتوں کی فرمانبردار ی میں ہے۔ ‘‘

                 حضرت سیدنا حسنرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ خدا عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم!  آج جو مرد عورت کی خواہشات کی تکمیل میں اس کی اطاعت کرتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے منہ کے بل جہنم میں گرا دے گا۔ ‘‘

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر108:                              

عورت کا باریک لباس پہننا

یعنی عورت کا ایسا باریک لباس پہننا جس سے اس کی جلد کی رنگت یا اعضاء کی بناوٹ جھلکتی ہو

{1}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ  عبرت نشان ہے:  ’’ جہنمیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جن کو میں نے (اس زمانے میں )  نہیں دیکھا:   (۱) ایسے لوگ جن کے پاس گائے کی دُموں جیسے کوڑے ہوں گے،اُن سے وہ لوگوں کو مارتے ہوں گے اور  (۲) وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجودعریاں ہوں گی، وہ راہِ حق سے ہٹانے والی اور خود بھی راہِ حق سے بھٹکی ہوئی ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ایک جانب جھکے ہوئے ہوں گے، وہ نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو سونگھ سکیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے آتی ہے۔ ‘‘    (صحیح مسلم،کتاب الادب،باب النساء الکاسیات،الحدیث: ۵۵۸۲، ص۱۰۵۸)

حدیث کی وضاحت:

 



Total Pages: 320

Go To