Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                اگرریشم پر کوئی کپڑا وغیرہ ڈالاہواہوتو اس پر بیٹھناجائزہے اگرچہ وہ باریک اور بوسیدہ ہی کیوں نہ ہو لیکن ا گروہ پھٹاہواہو

توجائزو حلال نہیں اور اسے اوڑھنا یا ستر پوشی کے لئے استعمال کرناحرام ہے جبکہ بقدرِ عادت پردہ کے طور پر لٹکانا حلال ہے، اسی طرح آستین پرچارانگل کے برابر بیل بوٹے  (یعنی گوٹاکناری)  ، تیج کا دھاگا ، نیزے کا جھنڈا اور مصحف کا جزدان بنانا، مجنون اور قریب البلوغ بچے کو سونے چاندی کے زیورات پہنانے کی طرح ہے۔ ([1]  )

                سیدنا ابن عبد السلام نے ریشم استعمال کرنے والے کے گناہ گار ہونے کا فتوی دیا ہے مگر یہ گناہ ریشم پہننے سے کم ہے، جبکہ سیدنا امام نووی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ریشم پر مہر کی رقم لکھنے کو حرام قرار دیا ہے اور اسی پر اعتمادکیا جاتا ہے۔

                اسی طرح گھر اور مسجد کوریشم یا تصویروں سے مزین کرنا حرام ہے اگرچہ کسی عورت ہی کا گھر ہو جبکہ ان دو کے علاوہ دیگر اشیاء سے گھروں کو مزین کرنا مکروہ ہے، ([2]  ) زعفران،عُصْفُر اور وَرْس سے رنگے ہوئے کپڑے کا بھی ہمارے بیان کردہ کلام کے مطابق یہی حکم ہے اور یہ فوائد ’’  شَرْحُ الْعُبَاب ‘‘  میں بیان کئے گئے ہیں ۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر107:               

مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے سے

 مشابہت اختیار کرنا

                یعنی مردوں کا عورتوں سے عرف میں ان کے ساتھ مخصوص اُمور مثلاً لباس،کلام،حرکت وغیرہ میں مشابہت اختیارکرنا، اسی طرح عورتوں کا مردوں سے مشابہت اختیار کرنا۔

{1}…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  ارشاد فرماتے ہیں کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘

 (صحیح البخاری ،کتاب اللباس ، باب المتشبھین بالنساء والمتشبھا ت الخ ،ا لحدیث:  ۵۸۸۵،ص ۵۰۱)

{2}…ایک عورت گلے میں کمان لٹکائے سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب سے گزری تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مردوں کی مشابہت کرنے والی عورتوں اورعورتوں کی مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرماتا ہے۔ ‘‘                              ( المعجم الاوسط ، الحدیث:  ۴۰۰۳ ، ج ۳ ، ص ۱۰۶)

{3}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زنانے مردوں اور مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘       ( صحیح البخاری ،کتاب اللباس ، باب اخراج المتشبھین بالنساء الخ ، الحدیث:  ۵۸۸۶، ص ۵۰۱)

                 زنانے مردوں سے مراد عورتوں کی سی حرکات کرنے والے لوگ ہیں اگرچہ وہ کوئی فحش حرکت نہ بھی کرتے ہوں جبکہ مردانی عورتوں سے مراد مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتیں ہیں ۔

{4}…مَحبوبِ ربُّ العٰلَمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عورت کا لباس پہننے والے مرد اور مرد کا لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد،کتاب اللباس،باب فی لباس النسائ،الحدیث: ۴۰۹۸،ص۵۲۲ ۱)

{5}…رحمتِ کونین، غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے زنانے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی مردانی عورتوں پر اور بیابان میں تنہا سفر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘

 ( المسند للامام احمد بن حنبل،مسند ابی ہریرۃ، الحدیث:  ۷۸۶۰، ج۳ ،ص ۱۳۳)

{6}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے :  ’’ چارطرح کے لوگوں پر دنیاو آخرت میں لعنت بھیجی جاتی ہے اور ملائکہ اس پر آمین کہتے ہیں  (۱) وہ شخص جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مرد بنا کر پیدا کیا پھر اس نے اپنے آپ کو عورت بنا لیا اور عورتوں کی مشابہت اختیار کر لی (۲) وہ عورت جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے عورت بنا یا مگر اس نے اپنے آپ کو مردانہ انداز

میں ڈھال لیا اور مردوں کی مشابہت اختیار کر لی  (۳) وہ شخص جو نابینے کو راستے سے بھٹکا دے اور  (۴) حَصُوْر یعنی طاقت کے باوجود عورتوں میں رغبت نہ رکھنے والااور اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے صرف حضرت سیدنا یحییٰ بن زکریا علیٰ نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام ہی کو حَصُوْر پیدا فرمایا۔ ‘‘                       ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۷۸۲۷، ج۸، ص ۲۰۴ )

{7}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں ایک  مخنَّث  (یعنی ہیجڑے )  کو لایا گیا، اس نے اپنے ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا:  ’’ اس کا کیا معاملہ ہے؟ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ یہ عورتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے نقیع (مدینے سے دورایک مقام)   کی طرف جلا وطن کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ ‘‘     (سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی حکم المخنثین،الحدیث: ۴۹۲۸،ص۴ ۱۵۸)

{8}…حضورنبی ٔ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:  ’’ تین شخص جنت میں داخل نہ ہوں گے:  (۱)  والدین کا نافرمان  (۲) دیّوث   ([3]) اور  (۳) مردانی عورتیں ۔ ‘‘  (مسند الفردوس



[1] ۔۔۔۔ احناف کے نزدیک:’’ چار انگل کے برابر بیل بوٹے اور مصحف کا جزدان ریشم کا بنانا وغیرہ جائز ہے لیکن مجنون اور قریب البلوغ بچے کو سونے،چاندی کے زیورات پہنانا حرام ہے اور ریشم کے بچھونے پر بیٹھنا،لیٹنا اور اس کا تکیہ لگانا جائز ہے ریشم کے پردے دروازوں پر لٹکانا مکروہ ہے۔‘‘

( بہار شریعت ج۲،حصہ ۱۶،ص ۴۰،۴۱)