Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

باب ماجاء فی کراھیۃ الجلوس بین الخ، الحدیث ۲۷۵۲ ، ص ۱۹۲۹)

{6}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم میں سے کوئی شخص جب کسی مجلس میں آئے تو اگر اس کی خاطرکشادگی پیدا کی جائے تو وہاں بیٹھ جائے ورنہ جہاں کشادگی پائے وہاں جا کر بیٹھے۔ ‘‘

 ( شعب الایمان ، باب فی حسن الخلق ، فصل فی التو اضع ، الحدیث ۸۲۴۳، ج۶، ص ۳۰۰)

تنبیہ:

                اس گناہ کو بعض شافعی علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے، شاید انہوں نے احادیثِ مبارکہ میں مذکور لعنت سے اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر استدلال کیا ہے، اگر عرفاً اس سے کسی کو ایذاء پہنچتی ہو تو ظاہری استدلال یہی ہے اور اسی پر حدیثِ پاک محمول ہے، جبکہ ہمارے اصحاب کے اس قول کہ ’’ یہ عمل مکروہ ہے۔ ‘‘  کو ایذاء کی کمی پر محمول کیا جائے گا اور اس تفصیل کی تائید ہمارا وہ بیان بھی کرتا ہے جسے ہم نے کتب فقہ کے باب ’’ حَمْلُ السِّلَاحِ فِیْ صَلٰوۃِ الْخَوْفِاور تَقْبِیْلُ الْحَجَرِ الْاَسْوَدِ عِنْدَ الزَّحْمَۃِوغیرہ میں ذکر کیا ہے کہ اگر ایذاء کم ہو تو مکروہ ہے ورنہ حرام۔ اوراسی سے واضح ہو گیا کہ ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اقوال اور حدیثِ پاک میں کوئی تضاد نہیں ،اس میں غور کرو میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو اس وضاحت سے واقف ہو۔

 

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

باب اللباس

لباس کابیان

کبیرہ نمبر105:                              

بلا عذرِ شرعی ریشم پہننا

                یعنی جیسے جوؤں ،کھجلی یاخارش وغیرہ کسی عذرکے بغیر عاقل بالغ مرد یامخنث (ہیجڑے)  کا خالص ریشم یا ایسا لباس پہننا جس کا اکثر حصہ وزن کے اعتبار سے ریشم ہو، ظاہراً ریشم نظر آنے کا اعتبار نہیں ۔

{1}…امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ریشم مت پہنا کرو کیونکہ جو دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں نہ پہن سکے گا۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب اللباس ، والزینۃ ، باب تحریم لبس الحریر ، الحدیث ۵۴۱۰، ص ۱۰۴۹)

ّ{2}…نسائی شریف میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت سیدنا عبد اللہ  بن زبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ جو دنیا میں ریشم پہنے گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گاپھر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے یہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی ۔ ‘‘  

وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ (۲۳)   (پ۱۷، الحج: ۲۳)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے۔

  (السنن الکبرٰی للنسائی،سورۃ الحج،باب قولہ تعالیٰ  ’’ ولباسہم فیہاحریر ‘‘ الحدیث: ۱۱۳۴۳،ج۶ص۴۱۱)

{3}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ریشم وہی پہنتا ہے جس کا کوئی حصہ نہیں ۔ ‘‘ بخاری شریف کی روایت میں یہ اضافہ ہے :  ’’ جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب اللباس،باب لبس الحریر للرجالالخ،الحدیث: ۵۸۳۵، ص ۴۹۷)

{4}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں نہ پہن سکے گا اگرچہ وہ جنت میں داخل بھی ہو جائے تو اہلِ جنت تو ریشم پہنیں گے مگر وہ نہ پہن سکے گا۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان،کتاب اللباس وآدابہ،الحدیث: ۵۴۱۳،ج ۷ ،ص۳۹۷)

{ 5} …رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے دنیا میں ریشم پہنا آخرت میں نہ پہن سکے گا۔ــــ ‘‘           ( صحیح البخاری ،کتاب اللباس ، باب لبس الحریر للرجال الخ ، الحدیث ۵۸۳۴، ص ۴۹۷)

{6}…امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم روایت فرماتے ہیں کہ میں نے شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ریشم کو دائیں ہاتھ میں اور سونے کو بائیں ہاتھ میں پکڑکر ارشاد فرمایا :  ’’ یہ دونوں چیزیں میری اُمت کے مردوں پر حرام ہیں ۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد،کتاب اللباس ،باب فی الحریر للنسائ، الحدیث ۴۰۵۷ ، ص ۱۵۱۹)

{7}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں نہ پہن سکے گا، جس نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں نہ پی سکے گا اور جس نے دنیا میں سونے چاندی کے برتنوں میں پانی پیا وہ آخرت میں ان کے ذریعے نہ پی سکے گا۔ ‘‘  پھر ارشاد فرمایا :  ’’ اہلِ جنت کا لباس ریشم،اہل جنت کا مشروب شرابِ طہور اوراہل جنت کے برتن سونے کے ہیں ۔ ‘‘  

 ( المستدرک،کتاب الاشربہ ، باب من لبس الحریر فی الدنیا الخ ، الحدیث:  ۷۲۹۸، ج۵ ،ص۱۹۵)

{8}…حضرت سیدنا ابن زبیررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو خطبہ میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا گیا :  ’’ اپنی عورتوں کو ریشم کا لباس نہ پہناؤ کیونکہ میں نے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دل کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ریشم مت پہنا کرو کیونکہ جو دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں نہ پہن سکے گا۔ ‘‘   ( صحیح مسلم ،کتاب اللباس ، باب تحریم لبس الحریر الخ ،الحدیث ۵۴۱۰ ، ص ۱۰۴۹ )

 



Total Pages: 320

Go To