Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر103:         

جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگنا

{1}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے جہنم کے لئے پل بنا لیا۔ ‘‘   ( جامع الترمذی ، ابواب الجمعۃ ، باب فی کراھیۃ التخطی یوم الجمعۃ ، الحدیث ۵۱۳،ص ۱۶۹۵)

{2}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  روایت کرتے ہیں کہ ’’  سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں سے خطاب فرما رہے تھے کہ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اورآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب آ کر بیٹھ گیا، پھر جب نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز پڑھا چکے تو ارشاد فرمایا :  ’’ اے فلاں !  تجھے ہماری جماعت میں سے ہونے سے کس چیز نے منع کیا ؟ ‘‘ اس نے عرض کی:   ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میں نے چاہا کہ میں اس جگہ بیٹھوں جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نگاہ میں ہو۔ ‘‘  تو سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ میں نے تمہیں لوگوں کی گردنیں پھلانگتے اور انہیں ایذاء پہنچاتے ہوئے دیکھا، جس نے کسی مسلمان کو ایذاء دی اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو ایذاء دی۔ ‘‘               (المعجم الاوسط ، الحدیث: ۳۶۰۷ ،ج۲،ص۳۸۷)

{3}…شاہ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے اورامام کے  (خطبہ دینے کے لئے )  نکلنے کے بعد دو افراد کو درمیان سے چیرتا  (یعنی الگ کر دیتا)  ہے، وہ اپنی انتڑیاں آگ میں ڈالنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘              (المسند للامام احمد بن حنبل ،الحدیث: ۱۵۴۴۷ ،ج۵ ،ص۲۶۳)

                محدثین کرام علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اس حکم کو جمعہ کے ساتھ خاص کرنا غلبہ کے اعتبار سے ہے کیونکہ زیادہ تر یہ کام جمعہ کے دن ہوتے ہیں ۔ ‘‘

{4}…حضرت سیدنا عبد اللہ  بن بسررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول انور، صاحب کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، توحضور نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تنبیہ فرماتے ہوئے اُسے ارشاد فرمایا :  ’’ بیٹھ جا، تو نے بہت ایذاء دی۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ،باب تخطی رقاب النا س الخ ،الحدیث: ۱۱۱۸،ص۱۳۰۵)

{5}…ایک اور روایت میں ہے :  ’’ تو نے ایذاء دی اور ایذاء پائی۔ ‘‘

 (صحیح ابن خزیمۃ ،کتاب الجمعۃ،باب النہی عن تخطی الناس،الحدیث: ۱۸۱۱،ج۳،ص۱۵۶)

{6}…اور ایک روایت میں ہے کہ ’’ بیٹھ جا !  تو دیر سے آیا ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابن ماجۃ ،ابواب اقامۃ الصلوات،باب ماجاء فی النھی عن تخطیالخ ،الحدیث: ۱۱۱۵، ص۲۵۴۲)

تنبیہ:

                اس گناہ کوکبیرہ گناہوں میں بعض متاخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی پیروی کرتے ہوئے شمار کیا گیا ہے، شاید علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کے کبیرہ ہونے کی دلیل انہیں احادیثِ مبارکہ سے حاصل کی ہے، ان کا استدلال اگرچہ حقیقت سے قریب ہے مگر ہمارے نزدیک صحیح قول کے مطابق یہ عمل مکروہِ تنزیہی ہے ([1]  ) ہمارے مؤقف اور ان احادیثِ مبارکہ میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ان احادیثِ مبارکہ کو اس شخص پر محمول کیا جائے جو عرف کے اعتبار سے لوگوں کو سخت ایذاء دیتا ہو اور ایذاء کم ہو تو اسے کراہتِ تنزیہہ پر محمول کیا جائے اور عنقریب ایک ایسی روایت بیان کی جائے گی جس میں حلقہ کے وسط میں بیٹھنے کا بیان ہے۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر104:                          حلقہ کے درمیان آ کر بیٹھنا

{1}…حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ حلقے ( یعنی دائرے)  کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت فرمائے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد،کتاب الادب ، باب الجلوس وسط الحلقۃ ا،لحدیث ۴۸۲۶ ، ص ۱۵۷۸ ’’  لعن اللہ  ‘‘  بدلہ ’’  لعن رسول اللہ  ‘‘ )

{2}…ایک اور روایت میں ہے :  ’’  ایک شخص حلقے کے درمیان میں آکر بیٹھ گیا تو حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایاکہ نبی کریم،ر ء ُ و ف ورحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبانِ حق پرست سے اس پر لعنت کی گئی ہے۔ ‘‘  یا پھر یہ ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے رسول اکرم، شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبانِ اقدس سے اس شخص پر لعنت فرمائی جو حلقے کے درمیان آکر بیٹھتا ہے۔ ‘‘

 ( جامع الترمذی ،ابواب الادب ، باب ماجاء فی کراھیۃ العقود الخ ، الحدیث ۲۷۵۳ ،ص ۱۹۲۹)

{3}…حضرت سیدنا ابو امامہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی قوم کا حلقہ ان کی اجازت کے بغیر پھلانگا وہ گناہ گار ہے۔ ‘‘   ( المعجم الکبیر ، الحدیث ۷۹۶۳ ، ج ۸ ، ص ۲۴۶)

{4}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو۔ ‘‘

                                     ( سنن ابی داؤد،کتاب الادب ، باب فی الرجل یجلس بین الرجلین ، الحدیث ۴۸۴۴ ، ص ۱۵۷۹

Total Pages: 320

Go To