Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

بُعد ہے۔ جبکہ بعض حنابلہ کہتے ہیں :  ’’ آدمی کا قبر کے تبرک کے ارادے سے قبر کے سامنے نماز پڑھنا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حقیقی دشمنی مول لینا ہے اور ایسا دین ایجاد کرنا ہے جس کی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اجازت نہیں دی کیونکہ اس نے تو اس سے منع فرمایا ہے پھر اس پر اجماع منعقد ہو گیا کہ سب سے بڑا حرام اور شرک کا سب سے بڑا سبب قبر کے سا منے نماز پڑھنا اور اسے مسجد بنا لینا یا اس پر عمارت بنا لینا ہے۔ ‘‘       ([1])

                کراہت کا قول اس کے علاوہ دوسری صورت پر محمول ہے کیونکہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیسے اس بات کا گمان نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی ایسے فعل کو جائز قرار دیں جس کے فاعل پر نبی کریم، رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا لعنت فرمانا تواتر سے ثابت ہو اس لئے قبروں پر بنی عمارتوں کو ڈھا دینا اور قبوں کو گرا دینا واجب ہے کیونکہ یہ مسجد ضرار سے زیادہ نقصان رساں ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نافرمانی پر رکھی گئی ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تو اس عمل سے منع فرمایا ہے اور بلند قبروں کو ڈھانے کا حکم فرمایا ہے (خیال رہے کہ یہاں قبروں سے یہودونصاریٰ کی قبریں مرادہیں نہ کہ مسلمانوں کی،تفصیل کے لئے دیکھیں : مراۃ المناجیح شرح مشکوٰ ۃ المصابیح ،ج۲،ص۴۸۸) ، اسی طرح قبر پر روشن ہر قندیل اور چراغ کو ہٹا دینا واجب ہے اور اسے وقف کرنا اور اس کی منت ماننا بھی درست نہیں ۔ ‘‘  (قبروں پرچراغ جلانے کا تفصیلی حکم صفحہ نمبر۴۸۸۔۴۸۹پرحاشیہ میں دیکھیں )

باب السفر (سفرکابیان)

 

کبیرہ نمبر99:                                    

انسان کا تنہا سفر کرنا

{1}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ رسول اکرم، شفیع معظَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے ہیجڑے مردوں پر اور ان مردانی عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور بیابان میں تنہا سفر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘            ( المسند للام احمد بن حنبل ، مسند ابوہریرۃ،الحدیث: ۷۸۶۰،ج۳،ص۱۳۳)

{2}…حضور نبی پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اگر لوگ جانتے کہ تنہا سفر کرنے میں کیا ہے جومیں جانتا ہوں تو کوئی شخص رات کو اکیلا سفر نہ کرتا۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب الجھاد ، باب السیر وحدہ ، الحدیث ۲۹۹۸، ص۲۴۱،بتغیرٍقلیلٍ)

{3}…ایک شخص سفر سے واپس آیا تو  اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اس سے دریافت فرمایا :  ’’ تم سفر میں کس کے رفیق تھے؟ ‘‘  اس نے عرض کی :  ’’ میں کسی کا رفیق نہ تھا۔ ‘‘  تو شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ایک سوار  (یعنی مسافر)  شیطان ہے اور دوسواردوشیطان ہیں اور اگر تین ہوں تو سوار ہیں ۔ ‘‘                 ( سنن ابی داؤد ،کتاب الجہاد ، باب فی الرجل یسافر وحدہ ، الحدیث۲۶۰۷،ص ۱۴۱۶ )

                تین سے کم مسافروں کے گناہ گار ہونے کی دلیل یہ ہے کہ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے

 خبر دی ہے کہ ایک سوار ایک شیطان ہے جبکہ دو سوار دو شیطان ہیں ، شیطان کا سب سے مناسب تر معنی گناہ گار ہونا ہے۔

                جیسا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان میں شیطان سے مراد گنہگار ہے:

شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ  (پ۸، الانعام: ۱۱۲)

ترجمۂ کنز الایمان : آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان۔

{4}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اکیلا مسافر ایک شیطان ہے، دو مسافر دوشیطان ہیں جبکہ تین شخص مسافر ہیں ۔ ‘‘   ( صحیح ابن خزیمہ ،کتاب المناسک ، باب النہی عن سیر الاثنین ، الحدیث ۲۵۷۰، ج۴ ، ص ۱۵۲)

تنبیہ:

                مذکورہ بالا احادیثِ مبارکہ کی صراحت کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا مگر یہ ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے  کلام کے مطابق نہیں کیونکہ وہ اس کام (یعنی تنہا سفر)  کے مکروہ ہونے کی تصریح کرتے ہیں لہٰذاگناہ ہونے کے قول کو اس شخص پر محمول کرنا چاہئے جو تنہا سفر کرنے یا کسی ایک کے ساتھ سفر کرنے کی صورت میں ہونے والے سخت نقصان سے آگاہ ہو جیسے راستے میں نقصان پہچانے والے وحشی درندے وغیرہ کا سامنا ہونے کے بارے میں علم رکھتا ہو۔

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

 

کبیرہ نمبر100:                                 

عورت کا تنہا سفر کرنا

یعنی عورت کا ایسی جگہ تنہا سفر کرنا جہاں اسے اپنی آبرو ریزی کا خدشہ ہو

 



[1] ۔۔۔۔ حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃاللہ  المنان اس حدیث پاک کہ’’ حضورنبی کریم صلی اللہ  علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایاکہ اَنْ یُّبْنٰی عَلَیْہِ یعنی قبرپرکچھ بنایاجائے‘‘کی شرح کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں :’’اس طرح کہ قبرپردیواربنائی جائے ،قبردیوارمیں آجائے یہ حرام ہے کہ اس میں قبرکی توہین ہے اسی لئے یہاں ’’عَلَیْہِ‘‘(یعنی قبرکے اوپر)فرمایاگیا’’حَوْلَہُ‘‘(یعنی اردگرد)نہ فرمایا،یااس طرح کہ قبرکے آس پاس عمارت یاقبہّ بنایاجائے یہ عوام کی قبروں پرناجائزہے کیونکہ بے فائدہ ہے ،علماء ومشائخ کی قبروں پرجہاں زائرین کاہجوم رہتاہے جائزہے تاکہ لوگ اس کے سایہ میں آسانی سے فاتحہ پڑھ سکیں چنانچہ حضورصلی اللہ  علیہ وسلم کی قبرانورپرعمارت اوّل(یعنی شروع) ہی سے تھی اورجب ولیدبن ملک کے زمانہ میں اس کی دیوارگرگئی توصحابہ(رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م) نے بنائی نیزحضرت عمر(رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ) نے زینب بنت حجش(رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا ) کی قبرپر،حضرت عائشہ (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا )نے اپنے بھائی عبدالرحمن(رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ) کی قبرپر،محمدابن حنفیہ (رحمۃاللہ  تعالیٰ علیہ) نے حضرت عبداللہ  ابن عباس (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ما)کی قبرپرقبیّ بنائے دیکھو’’خلاصۃ الوفا‘‘اور ’’منتقی شرح مؤطا‘‘مرقات نے اس مقام پراورشامی نے دفن میت کی بحث میں فرمایاکہ مشہورعلماء ومشایخ کی قبرپرقبے بناناجائزہے۔ (مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،ج۲،ص۴۸۹)

 



Total Pages: 320

Go To