Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{11}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو نمازکے لئے کھڑا ہو پھر دائیں بائیں دیکھنے لگے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی نماز اسی کو لوٹا دے گا۔ ‘‘

 ( مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ،باب ماینھی عنہ فی الصلاۃ الخ ، الحدیث ۲۴۳۲ ، ج۲ ،ص ۲۳۴ )

{12}…بخاری شریف میں حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المُبلغِین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘  ( صحیح البخاری ،کتاب العمل فی الصلاۃ ، باب الخضر فی الصلاۃ ، الحدیث ۱۲۱۹ ، ص۹۵)

{13}…اورمسلم شریف میں ہے :  ’’ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے آدمی کو کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ ‘‘    (صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب کراھۃ الاختصار فی الصلاۃ ،الحدیث: ۱۲۱۸، ص ۷۶۲)

{14}…اور ابوداؤد شریف میں اس روایت میں یہ اضافہ ہے :  ’’ یعنی نمازی اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں پر رکھے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ،باب الرجل یصلی مختصرا ، الحدیث۹۴۷ ، ص ۱۲۹۳)

{15}…رحمتِ کونین، غریبوں کے دل کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا جہنمیوں کاطریقہ ہے۔ ‘‘                ( صحیح ابن حبان ،کتاب الصلاۃ ، باب مایکرہ للمصلی ما  لایکرہ ، الحدیث ۲۲۸۳ ، ج ۴ ، ص ۲۴)

تنبیہ:

                گذشتہ صفحات میں بیان کردہ کبیرہ گناہوں مثلاً ناپسندیدہ شخص کی امامت، امام سے سبقت لے جانے اور آئندہ کتاب اللباس میں ریشم پہننے کے بارے میں آنے والی وعیدوں پر قیاس کرتے ہوئے انہیں کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا کیونکہ پہلے گناہ میں بصارت کا اچک لیا جانا، دوسرے میں رحمت کا پھر جانا اور تیسرے میں اہلِ جہنم کا شعار ہونا پایاجا رہا ہے،تو جب علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے آخرت میں ریشمی لباس سے محرومی کی علت کی بناء پر اسے کبیرہ گناہ قرار دے دیا تو ان گناہوں کو بدرجہ اَولیٰ کبیرہ گناہ قرار دیا جائے گا، مگر صحیح اور معتمد یہی ہے کہ گناہ تو دور کی بات ہے یہ تینوں  (یعنی نماز میں آسمان کے طرف نگاہ کرنا،اِدھر اُدھردیکھنااور کمر پر ہاتھ رکھنا)  حرام بھی نہیں بلکہ صرف مکروہ تنزیہی ہیں ۔ ([1])

کبیرہ نمبر93:                              

قبروں کو سجدہ گاہ بنا نا

کبیرہ نمبر94:

قبروں پر چراغ جلانا[2]

کبیرہ نمبر95:                           

قبروں کوبت بنا لینا

کبیرہ نمبر96:                         

قبروں کا طواف کرنا[3]

کبیرہ نمبر97:      

قبروں کو ہاتھ سے چھونا یا چومنا

کبیرہ نمبر98:   

قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا

{1}…حضرت سیدنا کعب بن مالک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال (ظاہری)  سے  پانچ راتیں پہلے مجھے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی ملاقات کاشرف حاصل ہواتو میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  ’’ ایسا کوئی نبی نہیں گزرا جس کی اُمت میں سے اس کا کوئی خلیل نہ ہو اور میرا خلیل ابو بکر بن ابی قحافہ  (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ )  ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو اپنا خلیل بنایا ہے، سن لو!  تم سے پچھلی اُمتوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کوسجدہ گاہ بنالیاتھامیں تمہیں اس سے منع کرتاہوں  ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے  تین مرتبہ عرض کی :  ’’ اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !  میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔ ‘‘  پھر تین مرتبہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عرض کی :  ’’ اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !  گواہ ہو جا۔ ‘‘   ( المعجم الکبیر،الحدیث ۸۹ ،ج۱۹ص ۴۱)

{2}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ نہ تو کسی قبر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو نہ ہی کسی قبر کے اوپر نماز پڑھو۔ ‘‘      ( المعجم الکبیر ، الحدیث ۱۲۰۵۱ ،ج۱۱ ، ص ۲۹۷)

{3}…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں ، انہیں سجدہ گاہ بنانے اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد ،کتاب الجنائز ، باب فی زیارۃ النساء القبور ، الحدیث ۳۲۳۶ ، ص۱۴۶۶ )

{4}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ سن لو!  تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں کی قبروں کوسجدہ گاہ بنا لیتے تھے میں تمہیں ایسا کرنے سے منع کرتا ہوں ۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب النھی عن بناء المسجد علی القبور ، الحدیث: ۱۱۸۸، ص۷۶۰)

{5}…حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمارشادفرماتے ہیں :  ’’ لوگوں میں سب سے بدتر وہ ہیں جن پر ان کی زندگی میں قیامت قائم ہو گی اور یہ وہ لوگ ہیں جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں ۔ ‘‘  (المسند



[1] ۔۔۔۔ احناف کے نزدیک ’’کمر پر ہاتھ رکھنا مکروہِ تحریمی ہے، اِدھر اُدھر منہ پھیر کر دیکھنا مکروہِ تحریمی ہے، کل چہرہ پھر گیا ہو یا بعض اور اگر منہ نہ پھیرے صرف کنکھیوں سے اِدھر اُدھر بلا



Total Pages: 320

Go To