Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم   اورسیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے یہ دونوں اقوال حدیث پاک میں بھی وارد ہوئے ہیں ۔

{23}…حضرت سیدنا حاتم اَصم رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ ایک مرتبہ میری نماز فوت ہو گئی تو حضرت سیدنا ابو اسحاق بخاریرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے علاوہ کسی نے میری تعزیت نہ کی اور اگر میرا بچہ فوت ہو جاتا تودس ہزار ( 10,000) سے زیادہ افراد مجھ سے تعزیت کرتے کیونکہ لوگوں کے نزدیک دین کی مصیبت دنیا کی مصیبت سے آسان ہوگئی ہے ۔ ‘‘

{24}…حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  بیان کرتے ہیں کہ ’’ حضرت سیدناعمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اپنے ایک باغ کی طرف تشریف لے گئے، جب واپس ہوئے تو لوگ نمازِ عصر ادا کر چکے تھے تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور ارشاد فرمایا :  ’’ میری عصر کی جماعت فوت ہو گئی ہے، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میرا باغ مساکین پر صدقہ ہے تاکہ یہ اس کام کا کفارہ ہو جائے۔ ‘‘

{25}…حضرت سیدنا ابن عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جب کسی شخص کو فجر یا عشاء کی نماز میں غیر حاضر پاتے تو اس حدیثِ پاک کی وجہ سے اس کے منافق ہونے کا گمان کرنے لگتے ۔کیونکہ یہ دونوں نمازیں منافقین پر سب سے زیادہ بھاری ہیں ، اگر وہ جان لیتے کہ ان دو نمازوں میں کیا ہے تو ضرور حاضر ہوتے اگرچہ گھسٹ کر آتے۔ ‘‘

  ( صحیح مسلم ،کتاب المساجد ،کتاب فضل صلاۃ الجماعۃ وبیان التشدید الخ الحدیث ۲۵۲ ، ص ۷۷۹)

تنبیہ:

                مذکورہ احادیثِ مبارکہ میں سیدنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے مذہب (یعنی باجماعت نمازکے بارے میں اس قول)  کی دلیل ہے کہ ’’ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا فرضِ عین ہے۔ ‘‘  اور ان احادیثِ مبارکہ کی دلالت سے یہ بات ظاہربھی ہوتی ہے کہ مذکورہ قیودات کے ساتھ جماعت چھوڑنا کبیرہ گناہ ہے، اگرچہ میں نے کسی کو اس بات کی صراحت کرتے ہوئے نہیں دیکھا، ہمارا یعنی شوافع کا راجح قول یہ ہے کہ جماعت سے نماز پڑھنا فرض کفایہ ہے اور باقی رہی کہ امام رافعیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی یہ ترمیم کہ  ’’ جماعت سنت ہے اور تارکینِ جماعت سے ترکِ جماعت کی وجہ سے قتال نہ کیا جائے گا۔ ‘‘  تویہ اس بات کا تقاضا نہیں کرتی کہ ہم جان بوجھ کر جماعت چھوڑنے کو کبیرہ گناہ نہیں سمجھتے کیونکہ امام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہان احادیثِ مبارکہ میں یہ تاویل کرتے ہوئے ان کو منافقین پرمحمول کرتے ہیں کہ ’’  یہ کفار کی منافق قوم کے بارے میں وارد ہوئیں لہٰذا ان کو دلیل نہیں بنایاجاسکتامیں کوئی حجت نہیں ۔ ‘‘  ان کی اس بات کو اگر نبی کریم،رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تارکینِ جماعت کے گھروں کو جلا دینے کے ارادے کے بارے میں تسلیم کر بھی لیا جائے تو ملعون لوگوں کے بارے میں ان کا یہ دعوی تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہم یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ لعنت کبیرہ گناہوں کی علامات میں سے ہے، لہٰذا یہ بات ظاہر ہو گئی کہ جماعت ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے اور شہر والے اگر اس کے عادی ہو جائیں تو فاسق ہوجائیں گے اگرچہ پانچوں نمازوں میں سے کسی ایک نماز ہی کی جماعت ترک کرنے کے عادی ہوں جیسا کہ پیچھے گزرا کیونکہ یہ ان کے دینی حکم کو ہلکا جاننے کی دلیل ہے اور یہ ایسا جرم ہے جو اپنے مرتکب کے دینی معاملے کو کم اہمیت دینے اور اس کی دینداری کی کمی پر دلالت کرتا ہے۔

                پھر میں نے سیدناامام ذہبیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکو دیکھا کہ انہوں نے بھی اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے مگر انہوں نے اس کی وہ وجہ بیان نہیں کی جو میں نے بیان کی ہے، چنانچہ فرماتے ہیں :  ’’ چھیاسٹواں  (66)  کبیرہ گناہ کسی عذر کے بغیر باجماعت نماز کے ترک پر اصرار کرنا ہے۔ ‘‘  پھرمذکورہ احادیثِ مبارکہ میں سے بعض سے استدلال فرمایا ہے اور ان کا یہ قول امام احمدرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے مذہب کے مطابق ہی درست ہو گا کہ باجما عت نماز ادا کرنا ہر شخص پر فرضِ عین ہے، مگر ہمارے (شافعی)  مذہب کے مطابق درست نہیں کیونکہ باجماعت نماز ادا کرنا یا تو فرض کفایہ ہے یا پھر سنت اور فرض کفایہ یاسنت کی صورت میں اگر کوئی اور اسے ادا کر لے تو اس کے ترک کی وجہ سے کبیرہ گناہ تو دور کی بات ہے گناہ گار بھی نہ ہو گا۔ (لیکناحناف رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک:   ’’ عاقل،بالغ، آزاد، قادر پر جماعت واجب ہے بلا عذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گناہ گار اور مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے تو فاسق، مردود الشہادت اور اس کو سخت سزا دی جائے گی اگر پڑوسیوں نے سکوت کیا تو وہ بھی گناہ گار ہوئے۔ ‘‘  (بہار شریعت،ج۱،حصہ ۳،ص۶۷)

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر86:        

قوم کے ناپسند یدہ شخص کا ان کی امامت کرنا

{1}… اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تین شخص ایسے ہیں جن پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ لعنت فرماتا ہے (۱) جو کسی قوم کی امامت کرے اور قوم اسے ناپسند کرتی ہو،  (۲) جو عورت اس طرح رات گزارے کہ اس کا شوہر اس پر ناراض ہو اور  (۳) وہ شخص جو حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ ،حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ سنے پھر بھی جماعت میں حاضر نہ ہو۔ ‘‘               ( جامع الترمذی ، ابواب الصلوۃ ، باب ماجاء فیمن ام قوما الخ ، الحدیث ۳۵۸ ، ص ۱۶۷۶ )

{2}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے :  ’’ تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتی:    (۱)  بھاگا ہو اغلام جب تک واپس نہ آئے (۲) وہ عورت جو اس طرح رات گزارے کہ اس کا شوہر اس پر ناراض ہو اور  (۳) قوم کا وہ امام جسے اس کی قوم ناپسند کرتی ہو۔ ‘‘    (جامع الترمذی ،ابواب الصلوۃ،باب ماجاء فیمن ام قوما،الحدیث: ۳۶۰،ص۱۶۷۶)

{3}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تین شخصوں کی کوئی نماز قبول نہیں فرماتا ،  (۱) جوکسی قوم کا امام بنے اورقوم اسے ناپسند کرتی ہو  (۲) وہ شخص جو  (بلا عذر) جماعت ہو جانے کے بعد مسجد میں آئے اور (۳) وہ شخص جس نے کسی آزاد کو غلام بنا لیا ہو۔ ‘‘  ( سنن ابی داؤد،ابواب الصلوۃ باب الرجل یوم القوم الخ ،الحدیث: ۵۹۳،ص۱۲۶۷)

{4}…حضرت سیدناطلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب سلام پھیرا تو فرمایا:   ’’ میں امامت کرانے سے   پہلے تم سے اجازت لینا بھول گیا تھا کیا تم میرے نماز پڑھانے سے راضی ہو؟ ‘‘  لوگوں نے عرض کی  ’’ جی ہاں !  راضی ہیں اے صحابی ٔرسول رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  !  آپ کی امامت کو کون ناپسند کر سکتا ہے۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ میں نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ جو شخص کسی قوم کا امام بنے حالانکہ وہ قوم اسے ناپسند کرتی ہو تو اس کی نماز اس کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتی۔ ‘‘                               ( المعجم الکبیر،الحدیث: ۲۱۰ ،ج۱،ص۱۱۵)

{5}… اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ تین شخص ایسے ہیں جن کی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کوئی نماز قبول نہیں فرماتا، وہ نماز نہ تو آسمان کی طرف اٹھتی ہے نہ ہی ان کے سروں سے تجاوز کرتی ہے  (۱) وہ شخص جوکسی قوم کا امام بنے اور وہ قوم اسے ناپسند کرتی ہو  (۲) وہ شخص جس نے اجازت کے بغیر نمازِ جنازہ پڑھا دی اور  (۳) وہ عورت جسے اس کا شوہر رات میں بلائے تو وہ انکار کر دے۔ ‘‘     ( صحیح ابن خزیمہ ،کتاب الامامۃ فی الصلوٰۃ،باب الزجرعن امامۃالخ،الحدیث ۱۵۱۸،ج۳،ص۱۱)

{6}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تین شخص ایسے ہیں کہ جن کی نماز ان کے سروں سے بالشت بھر بھی نہیں اٹھتی (۱) وہ شخص جو کسی قوم کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں  (۲) وہ عورت جو اس حال میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو اور  (