Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمتک جب اس کی خبر پہنچی تھی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اسے برا عمل قرار دیا تھا۔ ‘‘

 ( سنن النسائی،کتاب الزینۃ ، باب الوصل فی الشعر ، الحدیث ۵۲۴۸ ، ص ۲۴۲۴ )

{7}… حضرت سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ تم نے ایک بُرا لبادہ اوڑھ لیا ہے، حالانکہ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس باطل کام سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘  حضرت سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  مزید فرماتے ہیں کہ ایک شخص لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا آیا، اس کے سر پر بالوں کا گچھا تھا تو حضرت سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ سن لو!  یہ باطل ہے۔ ‘‘  حضرت سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ باطل کام سے مراد عورتوں کا بالوں میں کثرت سے پیوند لگانا ہے۔ ‘‘

 ( المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث معاویۃ بن ابی سفیان، الحدیث ۱۶۸۴۳ ، ج۶ ، ص ۱۶)

{8}…طبرانی شریف کی ایک روایت ابنِ لہیعہ سے مروی ہے کہ سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبالوں کا ایک گچھا لے کرتشریف لائے اور ارشاد فرمایا :  ’’ بنی اسرائیل کی عورتیں اسے اپنے سروں میں لگاتی تھیں اس لئے ان عورتوں پر لعنت کی گئی اور مسجدیں ان پر حرام کر دی گئیں ۔ ‘‘   (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۰۷۱۸،ج۱۰،ص۲۹۷)

مذکورہ احادیثِ مبار کہ کے بعض الفاظ کی وضاحت:

                وَاصِلَۃ سے مراد وہ عورت ہے جو بالوں کو دوسرے بالوں سے جوڑتی ہے۔وَاشِمَۃ سے مرادوہ عورت ہے جو گودتی ہے اور یہ ایک معروف کام ہے۔نَامِصَۃ سے مراد اَبروکے بال نوچ کر باریک کرنے والی عورت ہے۔جبکہ یہ مشہورہے کہ نَامِصَۃ  چہرے کے بال نوچنے والی کو کہتے ہیں اور مُتَفَلِّجَۃ سے مراد خوبصورتی کے لئے ریتی وغیرہ سے دانتوں کو کشادہ کرنے والی ہے جبکہ مُسْتَوْصِلَۃ، مُتَنَمِّصَۃ اور مُسْتَوْشِمَۃ سے مراد وہ عورتیں ہیں جن کے ساتھ یہ افعال کئے جائیں ۔

تنبیہ:  

                ان تمام گناہوـں کو کبیرہ گناہ اس لئے شمار کیا گیا کہ شیخ الاسلام سیدنا جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے پہلے دو کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے جبکہ دیگر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے سب کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کیونکہ لعنت کبیرہ گناہوں کی علامات میں سے ہے۔ مگر ہمارے بہت سے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اسے مطلق نہ رکھا بلکہ فرمایا :  ’’ شوہراور آقا کی اجازت کے بغیر گدوانا اور دانت کشادہ کرنے کے علاوہ دیگر افعال حرام ہیں ۔ ‘‘  مگر یہ بات اشکال پیدا کرتی ہے کیونکہ آپ انصاری خاتون کا قصہ جان چکے ہیں کہ شاہ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے بال جوڑنے سے منع فرما دیا تھا حالانکہ اس نے عرض کی تھی کہ اس کے شوہر نے بال جوڑنے کا حکم دیا ہے۔

                بیان شدہ  نَمْص کی دونوں صورتوں کو مکروہ کہنا بھی عجیب ہے حالانکہ اس کے بارے میں لعنت وارد ہوئی ہے نیز علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے مطلقًا نَمْصکے علاوہ باقی صورتوں کی حرمت کاقول کیا ہے یا شوہر کی اجازت کے بغیرایسا کرنا ان کے نزدیک اختلافی مسئلہ ہے، بہرحال جب ان سب پر ایک ہی حدیثِ پاک میں لعنت واقع ہوئی تو اب کون سا فرق باقی رہ جاتا ہے؟اور حضرات علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ا س مسئلہ کے مقام پراس کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر84:            

سترے کے بغیر نمازی کے آگے سے گزرنا

{1}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا اپنے گناہ کو جانتا ہوتاتو اس کے لئے چالیس  (سال یادن) تک کھڑا رہنانمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہوتا۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب الصلاۃ ، باب اثم المار بین یدی المصلی ، الحدیث ۵۱۰ ، ص ۴۲)

{2}…اور ایک روایت میں ہے :  ’’ تو وہ 40سال تک کھڑا رہتاکہ یہ اس کے لئے نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہوتا ۔ ‘‘

    ( مجمع الزوائد،کتاب الصلوۃ ، باب فیمن یمر بین یدی المصلی، الحدیث: ۲۳۰۲،ج۲،ص۲۰۲)

{3}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم میں سے کسی کا 100سال تک کھڑے رہنا اپنے نماز پڑھتے ہوئے بھائی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے۔ ‘‘  

 ( جامع الترمذی ،ابواب الصلوۃ ، باب ماجاء فی کراھیۃ المرور الخ ، الحدیث ۳۳۶ ، ص ۱۶۷۳)

{4}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ رب عَزَّ وَجَلَّ  سے مناجات کرنے والے اپنے مسلمان بھائی کے سامنے سے گزرنے میں کیا  (سزا)  ہے تو اسے اس جگہ 100سال تک کھڑے رہنا اس کے سامنے دوقدم چلنے سے زیادہ پسندہوتا۔ ‘‘      ( المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ، الحدیث ۸۸۴۶ ، ج۳ ، ص ۳۰۴)

{5}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی چیز کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہا ہو جو ا سے لوگوں سے چھپاتی ہے پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے اپنے سامنے سے ہٹا دے اگر گزرنے والانہ مانے تو اس سے جھگڑا کرے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب الصلوۃ،باب یرد المصلی من مر بین یدیہ ، الحدیث ۵۰۹ ، ص ۴۲)

{6}… اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ نمازی کو چاہئے کہ کسی کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دے اگر وہ نہ مانے تو اس سے جھگڑا کرے کیونکہ وہ اپنے قرین یعنی شیطان کی اطاعت کر رہا ہے۔ ‘‘

                 (صحیح مسلم ،کتاب الصلوۃ ، با ب منع المار بین یدی المصلی ، الحدیث: ۱۱۳۰، ص ۷۵۷)

{7}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدمی کا راکھ میں پناہ چاہنا جان بوجھ کر نمازی کے سامنے سے گزرنے سے بہتر ہے۔ ‘‘  ( التمھیدلابن عبدالبر،ابوالنضرمولی عمر بن عبیداللہ  ، تحت الحدیث۵۹۶   / ۱،ج۸ ، ص ۴۷۸