Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                حضرات صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  اور ان کے بعد کے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا بے نمازی کے کافر ہونے کے بارے میں  اختلاف ہے اور گذشتہ کئی احادیثِ مبارکہ میں بے نمازی کے کفر، شرک اور ملتِ اسلامیہ سے خارج ہونے کی تصریح کی گئی ہے مثلاً  ’’ بے نمازی سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذمۂ کرم اُٹھ گیا ، اس کے اعمال برباد ہو گئے، اس کا کوئی دین نہیں اور اس کا کوئی ایمان نہیں وغیرہ وغیرہ۔  ‘‘ بہت سے صحابہ کرام،تابعین اور ان کے بعد کے ائمہ کرام رضوان اللہ  تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان احادیثِ مبارکہ کے ظاہری معنی کو اختیار کیا اور فرمایا :  ’’ جو شخص جان بوجھ کر نماز کو اتنی دیر تک مؤخر کر ے کہ نماز کا پورا وقت گزر جائے وہ کافر ہے، اسے قتل کر دیا جائے ۔ ‘‘

بے نمازی کے کفرکے قائل صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان :

                جو صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  بے نمازی کے کفراور اس کے قتل کے جائز ہونے کے قائل ہیں : امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ،حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اور حضرت سیدنا ابو درداء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ۔

بے نمازی کے کفرکے قائل ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ :

                 غیر صحابہ میں جو ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیبے نمازی کے کفر اور اس کے قتل کے جائز ہونے کے قائل ہیں ان میں حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ، سیدنا اسحاق بن راہویہ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ ،سیدنا عبد اللہ  بن مبارک ، سیدنا امام نخعی ، سیدنا حکم بن عیینہ ، سیدنا ایوب سختیانی ، سیدنا ابو داؤد طیالسی ، سیدنا ابوبکر بن شیبہ، اور حضرت سیدنا زھیر بن حرب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہم اجمعینوغیرہ شامل ہیں ۔  ‘‘  ([1])

                ابن حزم ([2]) سے منقول ہے،امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اور بعض دیگرصحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  سے مروی ہے:  ’’ جس نے جان بوجھ کرایک فرض نماز ترک کی یہاں تک کہ اس کا وقت گزر گیا وہ کافر و مرتد ہے۔ ‘‘  اور ہم ان صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  میں سے کسی کو اس بات کا مخالف نہیں پاتے۔ ‘‘

                سیدنا محمد بن نصر مروزی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا اسحاقرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ یہ بات صحیح سند کے ساتھ حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مروی ہے کہ ’’ نماز کا تارک کافر ہے۔ ‘‘  اور شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باِذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے مقدس زمانے سے اہلِ علم کی یہی رائے رہی ہے کہ جونمازکوبغیرکسی عذر کے اتنی دیر تک مؤخرکرکے اداکرے کہ وقت گزر جائے ،کافرہے۔ ‘‘

 سیدناامام شافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا مؤقف:

                سیدناامام شافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاور بعض دوسرے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیاگرچہ بے نمازی کے عدمِ کفر کے قائل ہیں جبکہ وہ نماز چھوڑنے کو حلال نہ سمجھتا ہو مگر آپ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ ’’ ایک نماز کے ترک کی وجہ سے بھی اسے قتل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اسے نماز کا حکم دیا گیا لیکن اس نے اس کو اتنا مؤخر کر دیا کہ وقت ہی گزر گیا اور اس نے نماز نہ ادا کی، پھر اسے دوبارہ نماز کے لئے کہا گیا اور اس نے انکار کر دیا تو تلوار کے ساتھ اس کی گردن مار دی جائے گی۔ ‘‘   (احناف کے نزدیک ’’ قیدکیاجائے گا ‘‘ )

تنبیہ3:  

{3 4}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اپنی اولاد کو نماز کا حکم دوجب وہ سات برس کے  (یعنی جب سمجھدار )  ہوجائیں  اور نماز نہ پڑھنے پر مارو جبکہ وہ 10سال کے ہوں اور ان کے بچھونے علیحدہ کردو۔ ‘‘  ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ ،متی یؤمر الغلام بالصلاۃ،الحدیث: ۴۹۵،ص۱۲۵۹)

                علامہ خطابی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں کہ یہ حدیثِ پاک بے نمازی کی سخت عقوبت پر دلالت کرتی ہے جبکہ وہ اسے کثرت سے چھوڑتا ہو،سیدنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ  الکافی کے بعض اصحاب اس حدیثِ پاک سے بے نمازی کے قتل پر استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’ جب نابالغ نماز نہ پڑھنے پر پٹائی کا مستحق ہے تو ثابت ہوا کہ بالغ ہونے کے بعد وہ ایسی عقوبت کا مستحق ہے جو پٹائی سے سخت تر ہو اور پٹائی کے بعد قتل سے زیادہ سخت کوئی سزا نہیں ۔ ‘‘

                اس میں بھی وہی اعتراض ہے جو پچھلے کلام میں تھا اور بے نمازی کے قتل کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ تمام انبیائ، ملائکہ اور مؤمنین کا مجرم ہے کیونکہ نماز میں اس پر یہ کلمات کہنا لازم ہیں :   ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ یعنی سلامتی ہو ہم پر اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں پر۔ ‘‘

{44}…سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بندہ جب یہ کلمات (یعنیاَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ )  کہتا ہے تو یہ زمین و آسمان کے ہر نیک بندے تک پہنچ جاتے ہیں ۔ ‘‘  

 ( صحیح ابن حبان،کتاب الصلاۃ ،باب صفۃالصلاۃ،الحدیث: ۱۹۵۲،ج ۳،ص۲۰۵، ’’ بلغت  ‘‘ بد لہ ’’  اصابت ‘‘  )

                نماز نہ پڑھنا ایسا جرم ہے جس کی سزا قتل ہی ہونی چاہئے مگر اَولیٰ یہی ہے کہ بے نمازی کے قتل پر ان سابقہ احادیثِ  مبارکہ سے استدلال کیا جائے کہ بے نمازی سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللّٰہُ



[1] ۔۔۔۔ احناف رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک’’نماز کی فرضیت کا منکر کافر اورجو قصداً چھوڑے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسق ہے اور جو نماز نہ پڑھتا ہو قید کیا جائے یہاں تک کہ نمازپڑھنے لگے۔‘‘ (بہار شریعت،ج۱،حصہ۳،ص۹)

[2] ۔۔۔۔ ابن حزم کے متعلق حضرت علامہ مفتی منظوراحمدفیضی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاپنی کتاب’’ تعارف‘‘میں حافظ ابن حجرہیتمی مکی علیہ رحمۃاللہ  القوی کی کتاب (کف الرعاع ھامش الزواجر،ج۱،ص۱۴۵)کے حوالے سے تحریرفرماتے ہیں کہ’’ائمہ نے ’’ابن حزم ‘‘کی تذلیل کرتے ہوئے فرمایاکہ ابن حزم کی بہت سی بے تکی باتیں ہیں اورامورقبیحہ ہیں ۔ جوان کی سختی (طبیعت)اورظواہرپرجمودکی وجہ سے پیداہوئیں اسی لئے محققین نے فرمایا:ابن حزم(کی بات) کاکوئی وزن نہیں اورنہ اس کے کلام کی طرف نظرکی جائے گی اورنہ اس کے خلاف پر(جواہل سنت سے کیا)کوئی اعتبارواعتمادکیاجائے گا۔‘‘(تعارف’’ چندمفسرین ومحدثین کا‘‘ص۹)

                 مجدداعظم اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃاللہ  الرحمن ابن حزم اوراس کے عقائدکے بارے میں ارشادفرماتے ہیں کہ’’وہابیہ کاایک پراناامام ’’ابن حزم ‘‘غیرمقلدظاہری المذہب مدعی عمل بالحدیث منہ بھرکربک گیاکہ خداکے بیٹاہوسکتا،ملل ونحل میں کہتاہے:اِنَّہُ تَعَالٰی قَادِرٌاَنْ یَّتَّخِذَوَلَدًااِذْلَوْلَمْ یَقْدِرْ لَکَانَ عَاجِزًا(یعنی ،بیشک اللہ  تعالیٰ اس بات پرقادرہے کہ اولادرکھے کیونکہ اگراس پرقادرنہ ہواتوعاجزہوگا)معاذاللہ  عَزَّ وَجَلَّ