Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{6}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِِ پروردْگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ پیشاب   (کے چھینٹوں )  سے بچتے رہو کیونکہ قبر میں بندے سے سب سے پہلے پیشاب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ‘‘  (المعجم الکبیر،الحدیث: ۷۶۰۵،ج۸،ص۱۳۳)

{7}…حضرت سیدنا ابو بکرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصلَّیاللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے اور ایک دوسرے شخص کے درمیان تشریف لے جا رہے تھے، اسی اثناء میں دو قبروں پر پہنچے تو ارشاد فرمایا :  ’’ ان دونوں پر عذاب ہو رہا ہے، لہٰذا تم دونوں مجھے ایک ٹہنی لا کر دو۔ ‘‘  حضرت سیدنا ابو بکرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :   ’’ میں اور میرا رفیق ٹہنی لینے چلے گئے، پھر میں نے ایک ٹہنی لا کر پیش کی تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے دو ٹکڑے کر کے ایک ایک ٹکڑا دونوں قبروں پر رکھ دیا اور ارشاد فرمایا :  ’’ امید ہے کہ جب تک یہ تر رہیں گی ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۳۷۴۷،ج۳،ص۲۱)

ّ{8}…حضرت سیدنا ابو اُمامہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی ٔ کریم ،رء ُوف رحیم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایک مرتبہ سخت گرم دن میں بقیعِ غرقدکی طرف تشریف لے گئے، صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے پیچھے پیچھے چل دئیے جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جوتوں کی آواز سنی تو ٹھہر کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ انہیں آگے جانے دیا پھر جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبقیعِ غرقَد پہنچ کر دو نئی قبروں کے پاس سے گزرے تو دریافت فرمایا :  ’’ آج تم نے یہاں کس کو دفن کیا ہے؟ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:   ’’ فلاں ، فلاں کو۔ ‘‘ پھر عرض کی :   ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  معاملہ کیا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ ان میں سے ایک پیشاب سے نہ بچتا تھا جبکہ دوسرا چغلخوری کرتا تھا۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایک تر ٹہنی پکڑ کر اس کے دو ٹکڑے کئے اور قبر پر رکھ دئیے، صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایسا کیوں کیا؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ تا کہ ان کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ انہیں کب تک عذاب ہوتارہے گا؟ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ غیب کی بات ہے جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی جانتا ہے اور اگر تمہارے دل منتشر نہ ہوتے اور گفتگو میں زیادتی نہ کرتے تو تم بھی وہ سنتے جو میں سنتا ہوں ۔ ‘‘               (المسندللامام احمد،حدیث ابی امامۃ الباہلی الحدیث: ۲۲۳۵۵،ج۸،ص۳۰۴، ’’ تمزع ‘‘  بدلہ  ’’ تمترع ‘‘ )

{9}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ ہم شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ چل رہے تھے کہ ہمارا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمٹھہر گئے لہذا ہم بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ٹھہر گئے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا رنگ مبارک متغیر ہونے لگا یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی قمیص مبارک کی آستین کپکپانے لگی، تو ہم نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کیا ماجرا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ کیا تم بھی وہ آواز سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں ؟ ‘‘  تو ہم نے عرض کی :  ’’  یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکیا سماعت فرما رہے ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ ان دونوں افراد پر ان کی قبروں میں انتہائی سخت عذاب ہو رہا ہے وہ بھی ایسے گناہ کی وجہ سے جو حقیر ہے۔ ‘‘   (یعنی ان دونوں کے خیال میں حقیر تھا یا پھر یہ کہ اس سے بچنا ان کے لئے آسان تھا)  ہم نے عرض کی :  ’’ وہ کون سا گناہ ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ان میں سے ایک پیشاب سے نہ بچتا تھا اور دوسرا اپنی زبان سے لوگوں کو اذیت دیتا تھااور چغلی کرتا تھا۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کھجور کی دو ٹہنیاں منگوائیں اور ان میں سے ہر ایک قبر پر ایک ایک ٹہنی رکھ دی تو ہم نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کیا یہ چیز ان کو کوئی نفع دے گی؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ ہاں !  جب تک یہ دونوں ٹہنیاں تر رہیں گی ان سے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب الأذکار، الحدیث:  ۸۲۱،ج۲،ص۹۶، ’’ لایستنزہ ‘‘ بدلہ ’’ لایستتر ‘‘ )

{10}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُعظَّم ہے :  ’’ چار شخص جہنمیوں کو ان کے عذاب میں مبتلا ہونے کے باوجود مزید ایذاء دیں گے، وہ حَمِیْم  (کھولتے پانی) اور جَحِیْم  (آگ) میں دوڑتے ہوں گے اور اپنی ہلاکت اور تباہی کی دعا کریں گے، جہنمی ایک دوسرے سے کہیں گے :  ’’ انہیں کیا ہوا کہ یہ ہمیں مزید ایذاء دے رہے ہیں حالانکہ ہم پہلے ہی تکلیف میں مبتلا ہیں ؟ ‘‘  ان میں سے ایک شخص پرآگ کا صندوق لٹک ر ہاہو گا، دوسرا اپنی انتڑیاں کھینچ رہا ہو گا، تیسرے کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو گا اور چوتھا اپنا ہی گوشت کھا رہا ہو گا، صندوق والے سے کہا جائے گا :  ’’  رحمتِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ  سے دوراس شخص کا کیا معاملہ ہے جو ہمیں عذاب میں مبتلا ہونے کے باوجود مزید تکلیف دے رہا ہے؟ ‘‘  تو وہ کہے گا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے دور یہ شخص جب مرا تو اس کی گردن پر لوگوں کے ان اموال کا بوجھ تھا جنہیں وہ ادا یا پورا نہ کر سکا۔ ‘‘  پھر اپنی انتڑیاں کھینچنے والے سے کہا جائے گا:  ’’ رحمت سے دور اس بندے کا کیا معاملہ ہے جو ہمیں عذاب میں مبتلا ہونے کے باوجود مزید تکلیف پہنچارہا ہے؟ ‘‘  تو وہ کہے گا کہ  ’’ رحمت سے دور یہ بندہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ اسے (کپڑوں یاجسم پر)  کہاں پیشاب لگا اوریہ اسے نہیں دھوتا تھا۔ ‘‘   (بقیہ مکمل حدیثِ پاک غیبت کے باب میں بیان ہوگی)   (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۷۲۲۶،ج۷،ص۳۱۱)

{11}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  سے دریافت فرمایا :  ’’ کیا تم نہیں جانتے کہ بنی اسرائیل کو کیا مصیبت پہنچی؟ ان  (کے کپڑوں )  کو جب کہیں پیشاب لگتا تو وہ اس جگہ کو قینچیوں سے کاٹ دیا کرتے تھے، پھر ان کے ایک ساتھی نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا تو وہ قبر کے عذاب میں مبتلا ہو گیا۔ ‘‘  (المسندللامام احمدبن حنبل ،الحدیث: ۱۷۷۷۳،ج۶،ص۲۲۷)

تنبیہ:

                پس معلوم ہواکہ یہ احادیثِ مبارکہ پیشاب سے نہ بچنے کے کبیرہ گناہ ہونے میں صریح ہیں ،سیدنا امام بخاری علیہ رحمۃ اللہ  الباری نے گذشتہ احادیث کا عنوان اس طرح قائم کیا: بَابُ مِنَ الْکَبَآئِرِ اَنْ لاَّ یَسْتَنْزِہَ مِنَ الْبَوْلِ یہ باب اس بیان میں ہے کہ پیشاب  (کے چھینٹوں ) سے نہ بچنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔

                سیدنا خطابی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضور نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ عالیشان :  ’’ انہیں کسی بڑی چیز کے سبب عذاب نہیں ہو رہا۔ ‘‘  کا مطلب یہ ہے کہ انہیں کسی ایسے عمل پر عذاب نہیں ہو رہا جو ان پر بڑا تھا یا اگر وہ اسے کرتے تو یہ انہیں مشقت میں ڈال دیتا اوروہ کام پیشاب سے بچنا اور چغل خوری ترک کرنا ہے، یہ مراد نہیں کہ ان دونوں کا گناہ دین کے معاملے میں بڑا نہیں اور ان کا گناہ کم اور آسان ہے۔ ‘‘

                حافظ منذری علیہ رحمۃاللہ  الولی اس کی وضاحت میں فرماتے ہیں :  ’’ اسی (مذکورہ )  وہم کوزائل کرنے کے لئے حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک یہ بڑا گناہ ہے۔ ‘‘  ان احادیثِ مبارکہ میں ہمارے اصحاب کے اس قول پر واضح دلیل موجود ہے :   ’’ چلتے چلتے یا عضوِ تناسل کو کھینچ کر یا کھنکار کر استبراء کرنا واجب ہے۔ ‘‘  کیونکہ ہر انسان کے لئے استبراء کے طریقے میں ایک عادت ہوتی ہے جس کے بغیر پیشاب کے بچے ہوئے قطرے خارج نہیں ہوتے، لہٰذا ہر انسان کو اپنی عادت کے مطابق استبراء کرنا چاہئے، مگر اس معاملہ میں جڑ سے ابتداء نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہ عمل وسوسے پیدا کرتا ہے، اور اگر عضوِ تناسل کوسختی سے دبایاجائے تویہ نقصان دہ ہے۔

                اسی طرح ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ پاخانہ کرتے وقت شرمگاہ کو دھونے میں مبالغہ سے کام لے اور تھوڑا ڈِھیلا کرے  تاکہ شرمگاہ کے حلقے کے پردے میں رہ جانے والی نجاست دُھل جائے کیونکہ اعضاء



Total Pages: 320

Go To