Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

پاک کے ضعف کا افادہ فرما دیا، اسی لئے الروضۃ کو مختصر کرنے والے اور دیگر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیاسی طریقہ پر چلے اور اسی سے سیدنا صلاح علائیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا القواعد میں بیان کردہ قول واضح ہو جاتا ہے کہ سیدنا امام نووی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ میرا قرآن کریم بھلانے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا اس میں وارد حدیثِ پاک کی وجہ سے ہے۔ ‘‘  ان کے اس قول کو اختیار کرنے کی وجہ سے سیدنا امام رافعیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے برقرار رکھا اور یہ ان کے اختیار اور اعتماد سے ظاہرہے، البتہ ان کا یہ قول محلِ نظر ہے :  ’’ اس میں حدیثِ پاک وارد ہوئی ہے۔ ‘‘ کیونکہ انہوں نے اس حدیثِ پاک کی وجہ سے اسے گناہ کبیرہ نہیں کہا اور وہ کہہ بھی کیسے سکتے ہیں کہ خود ہی تو اس کے ضعف اور اس میں کئے گئے طعن کی نشاندہی کی،سیدنا امام رافعیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے لئے اسے برقرار رکھنے کا سبب معنٰی کے اعتبار سے ہے اگرچہ اس کی دلیل میں اِنقطاع و اِرسال وغیرہ ہے اور بعض اوقات اس روایت کے تعددِ طرق سے اس کمی کو پورا کر لیا جاتا ہے۔

                مَیں نے سیدنا علائیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے کلام میں سابقہ جہت کے مطابق محلِ نظر ہونے کے باوجود اس کی جو توجیہہ بیان کی ہے وہ علامہ جلال بلقینیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے قول سے معلوم ہوئی تھی، انہوں نے سیدنا امام نوویرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے کلام میں اس کے  کبیرہ ہونے کے قول کو اختیار کرنے کا تذکرہ نہیں کیا جبکہ سیدنا علائیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کا تذکرہ کیا ہے اور اس سے سیدنا زرکشیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے قول کا بھی رد ہوتا ہے کہ انہوں نے الروضۃ میں قرآنِ کریم بھلا دینے کے کبیرہ گناہ ہونے کے معاملے میں سیدنا امام رافعیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی مخالفت کی ہے۔

تنبیہ3:

                علامہ خطابی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوعبیدہرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے لفظ ’’ اجذم  ‘‘ سے کٹے ہوئے ہاتھ والا شخص مراد لیا ہے جبکہ سیدنا ابن قتیبہ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ ’’  اجذم ‘‘ سے مراد کوڑھی ہونا ہے اور سیدنا ابنِ اعرابیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ نہ تو اس کے پاس کوئی حجت ہو اور نہ اس میں کوئی بھلائی، سیدنا سوید بن غفلہرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے بھی یہی معنی منقول ہے۔

تنبیہ4:

                سیدنا جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاور سیدنا زرکشیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہوغیرہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے اسے کبیرہ گناہ قرار دیا ہے ان کے نزدیک یہ اس وقت کبیرہ ہو گا جب کوئی لاپرواہی اورسستی کرتے ہوئے اسے بھلائے گا گویا انہوں نے اپنی اس بات سے بے ہوشی اور قرآنِ کریم کی تلاوت سے روکنے والے مرض کو خارج کر دیا ہے، ایسی صورت میں بندے کا گناہ گار نہ ہونا بالکل واضح ہے کیونکہ وہ اس صورت میں مجبور ہے اور کوئی اختیار نہیں رکھتا جبکہ ایسے مرض کی صورت میں قرآنِ پاک سے غفلت اختیار کرنے سے بندہ گناہ گار ہو گا جس کی موجودگی تلاوتِ قرآنِ کریم سے رُکاوٹ نہیں ، اگرچہ اس کی غفلت ایسی چیز کے سبب ہو جو تلاوتِ قرآنِ کریم سے اہم اور مؤکد ہو، جیسے فرض علوم وغیرہ کیونکہ علم سیکھنے کی یہ شان نہیں کہ اس کی وجہ سے بندہ یاد کئے ہوئے قرآنِ کریم سے اتنی غفلت برتے کہ اسے بھلا ہی دے، علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اس قول :  ’’ قرآنِ کریم کی ایک آیت بھی بھلا دینا کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘  سے معلوم ہوتا ہے کہ جس نے یقین کی درمیانی صفت کے ذریعے اسے یاد کر لیا یعنی جو اس میں توقف کرتا ہو یا اکثر غلطی کرتا ہو اس پرواجب ہے کہ اسی صفت پر قائم رہے، لہٰذا اسے اپنے حافظے میں کمی کرنا حرام ہے جبکہ اس میں اضافہ کرنا اگرچہ ایک مؤکد امر ہے اور مزید سہولت کے حصول کے لئے ا س پر توجہ دینی چاہئے مگر ایسا نہ کرنا گناہ ثابت نہیں کرتا۔

                سیدناامام نوویرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے اُستاد اور سیدنا ابن صلاحرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے شاگرد سیدنا ابو شامہرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے قرآنِ کریم بھلا دینے کے بارے میں وارد احادیث کو قرآنِ کریم پر عمل تر ک کر دینے پر محمول کیا ہے کیونکہ بھلا دینے سے مراد دراصل  اس پر عمل ترک کر دینا ہی ہے جیسا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ  (پ۱۶، طٰہٰ: ۱۱۵)

ترجمۂ کنز الایمان : اور بے شک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا۔

                سیدنا ابو شامہرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ قیامت کے دن قرآنِ پاک کی دو حالتیں ہوں گی:   (۱) جس نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کرنا نہ بھولا قرآن اس کی شفاعت کرے گا اور  (۲) جو اسے بھلا دے گا یعنی سستی کے باعث اس پر عمل کرنا چھوڑ دے گا قرآنِ پاک اس کی شکایت کرے گا اور جس نے سستی کرتے ہوئے اس کی تلاوت بھلا دی اس کا بھی یہ حال ہونا بعید نہیں ۔ ‘‘  

                گذشتہ احادیثِ مبارکہ میں مذکور نسیان (یعنی بھلا دینے ) سے یہی ظاہر ہوتا ہے اور اس سے ان کے گمان کی بجائے یہی مراد ہے عنقریب بخاری شریف کی کتاب الصلوٰۃکی حدیثِ پاک میں قرآنِ پاک یاد کر کے بھلا دینے اور فرض نماز سے غفلت بَرَت کر سوئے رہنے والے کے بارے میں ایک سخت عذاب کی وعید ذکر ہو گی اور یہ نسیان قرآنِ کریم کے معاملے میں بالکل ظاہر ہے۔

تنبیہ5:

                سیدناامام قرطبیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ یہ نہیں کہا جائے گا کہ جب پورا قرآن حفظ کرنا فرضِ عین نہیں تو اسے بھلا دینے والے کی مذمت کیوں کی جاتی ہے؟ ‘‘  کیونکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو قرآن پاک یاد کرتا ہے اس کا مرتبہ بلند ہو جاتا ہے اور وہ اپنی ذات اور قوم میں معزز ہو جاتا ہے اور ایسا کیونکر نہ ہو کہ جس نے قرآن کریم یاد کر لیا اس کے پہلو میں نبوت کا فیضان رکھ دیا گیا اور وہ ان لوگوں میں شامل ہو گیا جنہیں اہل اللہ  اور مقرب کہا جاتا ہے، تو جس کا مرتبہ ایسا ہو اور وہ اپنے مرتبے میں کوتاہی کرے تو اس کی سزا کا سخت ہونا ہی مناسب ہے اور اس سے ایسی باتوں پر مؤاخذہ ہو گا جن پر دوسروں سے مؤاخذہ نہ ہو گا اور قرآن پاک کی تلاوت ترک کرنے کی عادت جہالت کا سبب ہے۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر69 :               

قرآن کریم یا کسی دینی معاملے میں

جھگڑنا اور غلبہ یا بلندی چاہنا

{1}…حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ  تعالی عنہما سے مروی ہے کہ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قرآنِ پاک میں جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے۔ ‘‘

 (مسند ابی داؤدالطیالسی،الجزء التاسع،الحدیث: ۲۲۸۶،ص۳۰۲)

{2}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ  تعالی عنہ سے مروی ہے، تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :   ’’ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ ‘‘      (المستدرک،کتاب التفسیر،باب



Total Pages: 320

Go To