Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

 

 

٭٭٭٭٭٭

حدث کا بیان

کبیرہ نمبر68:      

قرآن کی کوئی سورت، آیت یا حرف بھلا دینا

{1}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ   سے مروی ہے کہ اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب  عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ مجھ پر میری اُمت کے اَجر پیش کئے گئے یہاں تک کہ آدمی مسجد سے جو پر یا بال نکالتا ہے اس کا اَجر بھی پیش کیا گیا اور مجھ پر میری اُمت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہ پایا کہ آدمی کو قرآن پاک کی کوئی سورت یا آیت دی گئی پھر اس نے اسے بھلا دیا۔ ‘‘                  (جامع الترمذی،ابواب فضائل القرآن ،باب لم أر ذنباالخ،الحدیث: ۲۹۱۶، ص۱۹۴۴)

{2}…حضرت سیدناسعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو شخص قرآن پڑھے اور پھر اسے بھلا دے وہ قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد،کتاب الوتر، باب التشدید فیمن حفظ القرآن ثم نسیہ ، الحدیث:  ۱۴۷۴،ص۱۳۳۲)

{3}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ   سے مروی ہے کہ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن میری اُمت کو جن گناہوں کی سزا ملے گی ان میں سب سے بڑاگناہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو  کتاب اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کی کوئی سورت یاد تھی پھر اس نے اسے بھلا دیا۔ ‘‘                  

{4}…حضرت سیدنا ولیدبن عبد اللہ  بن ابو مغیث رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھ پر گناہ پیش کئے گئے تو میں نے قرآن پڑھ کر بھلا دینے والے کے گناہ سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا۔ ‘‘               (مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب فضائل القرآن،باب فی نسیان القرآن،الحدیث: ۴،ج۷،ص۱۶۳)

{5}…حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو قرآن پڑھے پھر اسے بھلا دے وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔ ‘‘

 (المرجع السابق،الحدیث: ۱،ج۷،ص۱۶۲ ’’ سعد ‘‘ بدلہ  ’’ سعید ‘‘ )  

{6}…حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ہی سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے :  ’’ جس نے قرآن سیکھا پھر اسے بھلا دیا وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔ ‘‘

 (مصنف عبدالرزاق،کتاب فضائل القرآن،باب تعاھد القرآن ونسیانہ، الحدیث: ۱۶۳۴،ج۳،ص۲۲۳)

تنبیہات

تنبیہ1:

                قرآنِ پاک بھلا دینے کو سیدنا امام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہوغیرہ کی اتباع میں کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے مگر آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ الروضۃ  میں ارشاد فرماتے ہیں :  ’’  سیدناامام ابو داؤد اور امام ترمذی  رحمہما اللہ  تعالیٰ کی بیان کردہ اس حدیثِ پاک کی سند ضعیف ہے کہ  ’’ مجھ پر میری اُمت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں پایا کہ آدمی کو قرآنِ پاک کی کوئی سورت یا آیت دی گئی پھر اس نے اسے بھلا دیا۔ ‘‘ اور سیدنا امام ترمذیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے خود اس پر کلام فرمایا ہے۔ ‘‘  

                سیدناامام ترمذی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے جس قول کی طرف سیدنا رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے :  ’’ یہ حدیثِ پاک غریب ہے ہم اس سند کے علاوہ اس کی دوسری سند نہیں جانتے اور میں نے سیدنا امام محمد بن اسماعیل بخاری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے اس حدیثِ پاک کے بارے میں پوچھا تو وہ بھی اسے نہیں جانتے تھے انہوں نے اس حدیثِ پاک کو غریب قرار دیااور آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشادفرمایا:  ’’ ہم مُطَّلِبْ بن حَنْطَبْ کے کسی صحابی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے حدیثِ پاک سننے کے بارے میں نہیں جانتے، سیدناابو عبد اللہ  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ سیدنا علی بن مدینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے مُطَّلِب کے حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے حدیثِ پاک سننے کا انکار کیا ہے۔ ‘‘

                اس تفصیل سے سیدنا امام نووی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے اس قول کہ  ’’ اس کی ا سناد میں ضعف یعنی انقطاع ہے۔ ‘‘ کا مطلب بھی ظاہر ہو گیا کیونکہ اس کے راوی مطَّلب میں کوئی ضعف نہیں کیونکہ ایک جماعتِ محدثین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ مگر سیدنا محمد بن سعید رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ اس کی حدیثِ پاک سے استدلال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ اکثرنبی کریم ،رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ارسال (یعنی جس حدیث کی سند کے آخر سے راوی ساقط ہوں )  کرتا ہے حالانکہ اسے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ ‘‘  اور سیدناامام دار قطنی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے بیان کیا ہے :  ’’ اس روایت میں ایک اور انقطاع بھی ہے وہ یہ ہے کہ اسی مُطَّلبْ سے روایت کرنے والے راوی سیدنا ابن جریج رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  مُطَّلبْ سے کوئی حدیثِ پاک سنی ہی نہیں جیسا کہ مطَّلب نے حضرت سیدنا  انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے کوئی حدیثِ پاک نہیں سنی، لہٰذا یہ حدیثِ پاک اس سند کے مطابق ثابت نہیں اور یہ جو کہا گیا ہے کہ انہوں نے کسی صحابی سے کوئی حدیثِ پاک نہیں سنی تواس کاردحافظ منذریرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا یہ قول کرتا ہے کہ انہوں نے حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت کی ہے۔ ‘‘

                اوراس حدیثِ پاک :  ’’ جو قرآن کریم پڑھے پھر اسے بھلا دے تو قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔ ‘‘  میں اِنقطاع اور اِرسال دونوں ہیں ، نیز سیدنا امام ابو داؤدرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے سکوت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس میں یزید بن ابی زیاد ہے اور بہت سے محدثینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک اس کی حدیثِ پاک سے حجت پکڑنا درست نہیں ، مگر ابو عبید آجری  سیدناامام ابو داؤدرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے سے کہتے ہیں :  ’’ میں کسی کو نہیں جانتا جس نے ان کی حدیثِ پاک چھوڑی ہو مگر ان کے علاوہ دیگر راوی مجھے ان سے زیادہ پسند ہیں ۔ ‘‘  ابن عدیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں :  ’’ یہ اہلِ کوفہ کے شیعوں میں سے تھا اس کے ضعف کے باوجود اس کی روایات لکھی جاتی ہیں ۔ ‘‘  

تنبیہ2:

            الروضۃکی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سیدنا امام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے گذشتہ قول یعنی اس کے کبیرہ ہونے کے موافق ہے کیونکہ انہوں نے حکم میں اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، صرف حدیثِ



Total Pages: 320

Go To