Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ترجمۂ کنز الایمان : اورشہرمیں نوشخص تھے کہ زمین میں فساد کرتے اورسنوارنہ چاہتے۔

{1}…مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے حضرت سیدنا زید بن اسلم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت کیا ہے :  ’’ وہ لوگ درہم توڑا کرتے تھے۔ ‘‘

{2}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسلمانوں میں رائج سکے بلاضرورت توڑنے سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، باب فی کسرالدراہم،الحدیث: ۳۴۴۹،ص۱۴۸۰)

تنبیہ:

                میرے نزدیک اس حدیث پاک میں گناہ کے کبیرہ ہونے پرکوئی دلیل نہیں ، بلکہ اس کا کبیرہ گناہ ہونا تودورکی بات ہے اس عمل کی حرمت میں بھی کلام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ درہم وغیرہ توڑنا اسی صورت میں حرام ہوتا ہے،جب اس سے ان کی قیمت میں کمی واقع ہوتی ہواورمندرجہ بالاحدیث مبارکہ اگردرجہ صحت کوپہنچ جائے تواسے اسی صورت پرمحمول کیاجائے گا۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر66 :                           

درہم و دینار میں ملاوٹ کرنا

                یعنی درہم ودینارکوایسی ملاوٹ شدہ کیفیت پر ڈھالنا کہ اگر لوگ اس پر مطلع ہو جائیں تو اسے ہر گز قبول نہ کریں ، اسے کبیرہ گناہوں میں ذکر کرنا بالکل ظاہر ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس کی صراحت کرتے ہوئے نہیں پایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آئندہ ’’ کتاب البیع ‘‘  میں بیان ہونے والی ملاوٹ کے دلائل اسے بھی شامل ہیں اور اس میں باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھانا بھی پایا جاتا ہے، کیونکہ کیمیاگری میں زیادہ انہماک رکھنے والے لوگ اسے اچھا نہیں جانتے اور یہ لوگ صرف درہم کو رنگتے ہیں یا مشتبہ بنا دیتے ہیں یا لوگوں کو دھوکے میں ڈالنے والی کوئی اور ملاوٹ کر دیتے ہیں اور باطل طریقے سے ان کامال کھاتے ہیں ۔

                اسی لئے آپ انہیں پائیں گے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان سے برکت ختم فرما کر انہیں ہلاکت میں مبتلا فرما دیا ہے، پس نہ ان کے عیوب کو چھپایا جاتا ہے،نہ ان کی تعریف کی جاتی ہے اور نہ ہی ان کو کسی جگہ قرار آتا ہے بلکہ ان پر ذلت ورسوائی طاری رہتی ہے۔ اس طرح وہ اس بد ترین وصف کے مرتکب ہو کر جنت سے محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ دنیا کی محبت اور اسے باطل طریقے سے حاصل کرنے میں مخلص ہوتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دینے اور ان کے اموال ناحق طریقے سے کھانے اور ضائع کرنے پر راضی ہوتے ہیں ۔

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّانہیں حق کی پیروی کرنے، اپنے راستے پر چلنے اور باطل سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے، خصوصاً اس بدترین پیشے سے وابستہ لوگوں کو جنہوں نے اس کے حصول کے لئے حیلوں کا سہارا لیا ہے حالانکہ اس کے باوجود ان کے فقر میں کمی واقع نہیں ہوتی اور انہیں اس سے ذلت وقہر ہی چکھنے کو ملتا ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّہمیں اور انہیں اپنی اطاعت کی توفیق نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 

 

٭٭٭٭٭٭

باب دوم:                                                                                                         

ظاہری کبیرہ گناہ

                یہاں مَیں ظاہری کبیرہ گناہوں کو فقہ کے ابواب کی ترتیب کے مطابق بیان کروں گا تا کہ یہ آسانی سے سمجھے جا سکیں ۔

کتاب الطہارۃ

طہارت کابیان

 برتنوں کا بیان

کبیرہ نمبر67:            

سونے،چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا

{1}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا اُم سلمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  سے مروی ہے کہ نبی کریم،رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان عبرت نشان ہے :  ’’ جو شخص سونے اور چاندی کے برتن میں کھاتا پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹا غٹ جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ ، باب تحریم استعمال اوانی الذھبالخ،الحدیث: ۸۷ / ۵۳۸۵،ص۱۰۴۷)

{2}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع کیا گیا ہے۔ ‘‘                       (السنن الکبری للنسائی،کتاب الاطعمۃ ، باب صحاف الفضۃ،الحدیث: ۶۶۳۲،ج۴،ص۱۴۹)

{3}…حضرت سیدتنا اُم سلمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  ارشاد فرماتی ہیں کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے :  ’’ جو شخص سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ ‘‘  

 (صحیح البخاری، کتاب الاشربۃ، باب اٰنیۃ الفضۃ، الحدیث: ۵۶۳۴،ص۴۸۳)

{4}…حضرت سیدتنا اُم سلمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  ارشاد فرماتی ہیں کہ رسو لِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُعظَّم ہے:   ’’ جو سونے چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ ، باب تحریم استعمال اوانی الذھبالخ،الحدیث: ۸۷ / ۵۳۸۵،ص۱۰۴۷)

 



Total Pages: 320

Go To