Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

توفرمایا:  ’’ آمین۔ ‘‘  اور جب تیسرے زینے پر چڑھے تو ارشاد فرمایا:   ’’ آمین۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے میرے پاس آ کر عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  جس نے  (ماہ) رمضان کو پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت سے دور اور برباد فرمائے۔ ‘‘  تو میں نے آمین کہا۔ ‘‘  اور ’’ جواپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پائے پھر بھی جہنم میں داخل ہو تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت سے دورکرے۔ ‘‘  میں نے آمین کہا۔ ‘‘  اور ’’ جس کے سامنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکر ہو اور وہ آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود نہ پڑھے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے بھی اپنی رحمت سے دور فرمائے۔ ‘‘  تو میں نے کہاآمین۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان، باب حق الوالدین، الحدیث: ۴۱۰،ج۱،ص۳۱۵)

{3}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنبرِاقدس پر رونق افروزہوئے تو تین مرتبہ آمین کہا، پھر ارشاد فرمایا :  ’’ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے آمین کیوں کہا؟ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَام نے میرے پاس آ کر دعا مانگی :  ’’ جس کے سامنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذکر ہو اور وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درود پا ک نہ بھیجے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت سے دور فرمائے اور ہلاکت میں مبتلا فرمائے۔ ‘‘  میں نے آمین کہااور ’’ جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پایا پھر ان کی خدمت نہ کر کے جہنم میں داخل ہوا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے بھی اپنی رحمت سے دور فرمائے اور ہلاکت میں مبتلا فرمائے۔ ‘‘  میں نے کہاآمین۔ اور ’’ جس نے رمضان کو پایا پھر بھی اس کی بخشش نہ ہوئی اور وہ جہنم میں داخل ہوا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے بھی اپنی رحمت سے دور فرمائے اور ہلاکت میں مبتلا فرمائے۔ ‘‘  تو میں نے کہا آمین۔ ‘‘    (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۲۵۱،ج۱۲،ص۶۵)

{4}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں داخل ہو کر منبرِ انور پر رونق افروز ہوئے تو ارشاد فرمایا:  ’’ آمین ! آمین!  آمین!   ‘‘ پھر جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لے جانے لگے تو عرض کی گئی ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ہم نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایسا کام کرتے دیکھا جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلے کبھی نہیں کیا  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نے میرے سامنے ظاہر ہو کر عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  جس نے اپنے والدین کو پایا، پھر انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کرایا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت سے دوراورمزیددورفرمائے۔ ‘‘  میں نے آمین کہا، دوسرے زینے پر قدم مبارک رکھتے وقت جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نے دعا مانگی :  ’’ جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ کی گئی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت سے دور فرمائے،مزید دور (اور محروم)  فرمائے۔ ‘‘  تو میں نے آمین کہا، تیسرے زینے پر قدم مبارک رکھتے وقت جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام میرے سامنے ظاہر ہوئے اور دعا مانگی :  ’’ جس کے سامنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذکر ہو اور وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درودِ پاک نہ پڑھے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت سے دور فرمائے،مزید دور فرمائے۔ ‘‘  تو میں نے کہاآمین۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد ، کتاب الادعیۃ،باب فیمن ذکر عندہ فلم یصل علیہ، الحدیث: ۱۷۳۱۴،ج۱۰،ص۲۵۷)

{5}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنبرانور پر رونق افروز ہوئے تو فرمایا :  ’’ آمین!  آمین!  آمین!  ‘‘   عرض کی گئی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے منبرِ اقدس پر چڑھتے وقت آمین کہا؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نے میرے پاس آ کر کہا:  ’’ جس نے رمضان کا مہینہ پایا پھر اس کی مغفرت نہ ہوئی اور وہ جہنم میں داخل ہوا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت سے دور فرمائے، یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آمین کہئے۔ ‘‘  تو میں نے کہاآمین اور ’’ جس نے اپنے والدین یا ان میں سے ایک کو پایا پھر ان کی خدمت نہ کی اور مر کر جہنم میں داخل ہوا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت سے دور فرمائے، یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آمین کہئے، تو میں نے کہاآمین اور ’’ جس کے سامنے آ پ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذکر ہو اور وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درودِ پاک نہ پڑھے اور مر کر جہنم میں داخل ہو جائے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے بھی اپنی رحمت سے دور فرمائے، یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آمین کہئے۔ ‘‘  تو میں نے کہاآمین۔ ‘‘       (صحیح ابن حبان،کتاب الادعیۃ،باب فیمن ذکر رجاء دخول الجنانالخ، الحدیث: ۹۰۴،ج۲،ص۱۳۱)

{6}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:   ’’ اس کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذکر ہو ا ور وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درودِ پاک نہ پڑھے، اس کی ناک مٹی میں ملے جس پر رمضان کا مہینہ آیا پھر اس کی بخشش ہونے سے پہلے ہی گزر گیا اور اس کی ناک مٹی میں ملے جس نے اپنے بوڑھے والدین کو پایا اور انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کیا۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب الدعوات، باب رغم انف رجلالخ،الحدیث: ۳۵۴۵،ص۲۰۱۶)

{7}…حضرت سیدنا امام حسین بن علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس کے سامنے میرا ذکرہوا پھر اس نے مجھ پر درود پڑھنے میں کوتاہی کی تو بے شک وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔ ‘‘                                                                                                (المعجم الکبیر،الحدیث: ۲۸۸۷،ج۳،ص۱۲۸)

{8}… شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جس کے سامنے میرا ذکر ہوا اور وہ مجھ پر درودِ پاک پڑھنا بھول گیا تو وہ جنت کا راستہ بھول گیا ۔ ‘‘   (المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الفضائل،باب مااعطی اللہ  محمدًا،الحدیث: ۱۵۵،ج۷،ص۴۴۳)

{9}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جو مجھ پر درودِ پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔ ‘‘  (سنن ابن ماجہ ، ابواب اقامۃ الصلوۃ ،باب ماجاء فی التشھد،الحدیث: ۹۰۸،ص۲۵۳۰)

{10}…حضرت سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر ہوا پھر اس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب الدعوات، باب رغم انف رجلالخ،الحدیث: ۳۵۴۶،ص۲۰۱۶)