Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{25}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ انسان کے چارکام مکمل کئے جا چکے ہیں :   (۱) پیدائش  (۲) اخلاق وعادات  (۳) رزق اور  (۴) موت کاوقت۔ ‘‘    (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۷۳۲۵،ج۵،ص۲۷۹)

{26}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّکسی بندے کو بھٹکانا چاہتا ہے تو اسے حیلوں سے ڈھانپ دیتا ہے۔ ‘‘                                                   (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۳۹۱۴،ج۳،ص۷۷)

{27}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ احتیاط تقدیر سے بے نیاز نہیں کرتی۔ ‘‘    (المستدرک،کتاب الدعاالخ،باب الدعاء ینفع الخ،الحدیث: ۱۸۵۶،ج۲،ص۱۶۲)

{28}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبعَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :  ’’ جو میرے فیصلے اور میری تقدیر پر راضی نہیں اسے چاہئے کہ میرے علاوہ دوسرا رب تلاش کر لے۔ ‘‘

 (شعب الایمان، باب فی ان القدرخیرہالخ، الحدیث:  ۲۰۰،ج۱،ص۲۱۸)

{29}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو ماں کے پیٹ میں مؤمن پیدا فرمایا اور فرعون کو اس کی ماں کے پیٹ میں ہی کافر پیدا فرمایا۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۱۰۵۴۳،ج۱۰،ص۲۲۴)

{30}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ خوش بخت وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں خوش بخت تھا اور بدبخت وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت تھا۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد، کتاب القدر،باب مایکتب علی العبد فی بطن امہ، الحدیث:  ۱۱۸۰۹،ج۷،ص۳۹۷)

{31}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّہربندے کے متعلق پانچ چیزوں کا حکم فرما چکا ہے:   (۱) اس کی موت سے  (۲) رزق سے  (۳) اس کی عمرسے (۴) اس کے مدفن سے اور  (۵) اس بات سے کہ وہ خوش بخت ہے یا بدبخت۔ ‘‘  (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند الانصار، الحدیث:  ۲۱۷۸۱ / ۲۱۷۸۲،ج۸،ص۱۶۹،۱۶۸)

{32}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّزمین وآسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار  ( 50,000) سال پہلے ہی تقدیریں مقرر کرنے اور دنیوی اُمور کو مکمل کر چکا تھا۔ ‘‘

 (کنزالعمال،کتاب الایمان ، قسم الاقوال،فصل السادس فی الایمان بالقدر، الحدیث: ۴۹۱،ج۱،ص۶۹)

{33}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے زمین وآسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار  ( 50,000) سال پہلے ہی تقدیریں لکھ دی تھیں ۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب القدر، باب اعظام الامرالایمان بالقدر،الحدیث: ۲۱۵۶،ص۱۸۶۸)

{34}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے زمین وآسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار ( 50,000) سال پہلے ہی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھیں اس وقت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا عرش پانی پر تھا (جیساکہ اس کی شان کے لائق ہے) ۔ ‘‘      (صحیح مسلم، کتاب القدر، باب حجاج آدم وموسیٰ،الحدیث: ۶۷۴۸،ص۱۱۴۰)

{35}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر چیز تقدیر سے ہے یہاں تک کہ کمزوری اور دانا ئی بھی۔ ‘‘          (صحیح مسلم، کتاب القدر،باب کل شی بقدر،الحدیث: ۶۷۵۱،ص۱۱۴۰)

تقدیر کا لکھا ہوا ہو کر رہتا ہے :

{36}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اگر آدمی اپنے رزق سے اس طرح بھاگے جیسے موت سے بھاگتا ہے تب بھی وہ رزق اسے مل کر رہے گا جیسے موت اسے آ کر رہتی ہے۔ ‘‘

 (حلیۃ الاولیاء،یوسف بن اسباط، الحدیث:  ۱۲۱۶۹،ج۸،ص۲۷۰)

{37}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اگر اسرافیل، جبرائیل،  اورمیکائیل (علیہم الصلوٰۃ و السلام)  اور حاملینِ عرش فرشتے بھی تمہارے لئے دعاکریں اور میں بھی ان کے ساتھ مل کر دعا کروں تب بھی تمہاری شادی اسی عورت سے ہو گی جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ