Book Name:Badnaseeb Dulha

بڑا اثر کیا۔ بیان کے بعدغوثِ پاک رضی اللہ تَعَالٰی عنہ کی شان میں  امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا لکھا ہوا کلام ’’یاغوث بلائو مجھے بغداد بلائو‘‘ پڑھا گیا ۔ اس کلام کو سن کر میری دل کی دنیا زیرو زبر ہوگئی۔ یوں میرا دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں جانے کا سلسلہ بن گیااور کچھ ہی عرصہ میں مدنی برقع پہننے کی سعادت بھی پانے لگی۔ آج میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر مدنی کاموں کی دُھومیں مچانے کیلئے کوشاں ہوں ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(11) میں روزانہ2 فلمیں دیکھتا تھا

        تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول نے بے شمار افراد کی تقدیر میں مَدَنی انقِلاب برپا کر دیا ۔ چُنانچِہ عطاّرؔ آباد (جیکب آباد) بابُ الاِسلام سندھ کے ایک اسلامی بھائی نے اپنے مَدَنی ماحول میں آنے کا واقِعہ امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کی خدمت میں تحریراً پیش فرمایا جس کا خلاصہ پیش ہے، میں بَہُت زیادہ گناہوں میں ڈوبا رَہتا ، عُمُوماً روزانہ دو فلمیں دیکھتا، ہر وَقت اپنے ساتھ ریڈیو رکھتا ، ایک بیچتا اور دوسرا خریدتا، رات کوسوتے وَقت بھی سِرہانے ریڈیو چلا کر رکھتا، ریڈیو سنتے سنتے رات دو بجے جب مجھے نیند گھیر لیتی تو اُٹھ کر امّی جان ریڈیو بند کرتیں ۔

        غالِباً۱۴۱۶ھ کے رَمَضَانُ المبارَک کی کسی جُمعرات کا واقِعہ ہے کہ میں اپنے ایک دوست سے ملنے حَیدر آباد گیا، وہ مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنَّتوں بھرے اجتِماع میں فیضانِ مدینہ لے گئے ۔ بابُ المدینہ( کراچی )سے آپ( یعنی  امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   ) کا ٹیلفونِک بیان سنا، سُنتے ہی میری زندَگی میں مَدَنی انقِلاب  برپا ہوگیا ،خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّکے سبب میں نے رو رو کر گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے مُنسَلِک ہو گیا۔ عطاّؔر آباد میں دعوتِ اسلامی کے ایک عاشقِ رسول نے انفِرادی کوشِش کے ذَرِیعے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایک مٹّھی داڑھی رکھوائی۔

میں تو نادان تھا دانِستہ بھی کیا کیا نہ کیا

لاج رکھ لی مِرے لجپال نے رُسوا نہ کیا

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(12)وُضو اور سائنس

        صوبہ پنجاب( پاکستان )کے شہر گلزارِ طیبہ(سرگودھا) کی مقیم اسلامی بہن کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ دعوت اسلامی کے ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میری عملی حالت انتہائی ابتر تھی۔ماڈرن سہیلیوں کی صحبت نے مجھے فیشن ومخلوط تفریح گاہوں کا شوقین بنادیا تھا۔ نماز روزے سے بہت دُور تھی اور برقع سے تو(معاذاللہ عزوجل) سخت نفرت تھی۔ بس T.V. اور V.C.R  ہوتا اور میں ۔خود سر اتنی تھی کہ اپنے سامنے کسی کی چلنے نہیں دیتی تھی۔ایک روز مجھے کسی نے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے سنّتوں بھرے بیان کی کیسٹ بنام’’وُضو اور سائنس‘‘ تحفے میں دی۔ اُن دنوں میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی۔ بیان معلوماتی ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ اور پُر تاثیر تھا۔ میرے جی میں نہ جانے کیا آئی کہ میں نے علاقے میں ہونے والے اجتماع میں جانا شروع کردیااور یوں میرے دل کی دنیا بدلتی ہی چلی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے میں نے مَدَنی برقع اپنا لیااور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئی۔میرے گھر والے ، رشتے دار اور میری سہیلیاں میری اس حیرت انگیز تبدیلی پَر انتہائی حیران تھے۔ ان سب کو یہ سب خواب لگ رہا تھا مگر یہ سب حقیقت تھا۔

           اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے گھر میں فیضانِ سنّت سے درس دینا بھی شروع کردیا۔ دیگر اسلامی بہنوں کے ساتھ مل کر مَدَنی کاموں میں شامل رہتی ہوں اور پابندی سے مدنی انعامات کے رسالے کے خانے پُر کرکے ہر ماہ جمع کرواتی ہوں ۔ایک روزمیرے پیر و مرشِد امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کی نسبت کی برکت سے مجھ پَر رَبّ عَزَّوَ جَلّ َ  کا ایسا کرم ہوا جس کا میں جتنا شکر کروں کم ہے۔ہوا یوں کہ ایک رات میں سوئی تو میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا اجتماع ہورہا ہے میں کمرے میں جس سمت بیٹھی ہوں وہاں کھڑکی سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آرہی ہے ۔میں بے ساختہ کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھتی ہوں تو آسمان پر بادل نظر آتے ہیں میں بے اختیار یہ سلام پڑھنا شروع کردیتی ہوں ،

اے صبا مصطفی سے کہہ دینا   (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )

غم کے مارے سلام کہتے ہیں

          اچانک میرے سامنے ایک حسین و جمیل ،بہت ہی نورانی بزرگ سفید لباس میں ملبوس سر پر سبز عمامہ سجائے تشریف لے آئے ۔چہرے پر تبسم کے آثار تھے ابھی میں یہ منظر دیکھ ہی رہی تھی کہ کسی کی آواز سنائی دی’’یہ حضور ِاکرم ،نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں ‘‘پھر میری آنکھ کھل گئی۔ میں بہت روئی دل چاہتا تھا کہ آنکھیں بند کروں اور بار بار وہی منظر دیکھوں ۔اب بھی ہر رات اسی امید پر دُرودِ پاک پڑھتے  پڑھتے سوتی ہوں کہ کاش میری دوبارہ قسمت جاگ اُٹھے۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(13) ڈرائیور پر انفراد ی کوشش      

          ایک عاشقِ رسول کی تَحریر کا خُلاصہ ہے ، ’’دعوتِ اسلامی کے مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہبابُ المدینہ (کراچی) میں جُمَعرات کو ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں شرکت کیلئے مختلف عَلاقوں سے بھر کر آئی ہوئی مخصوص بسیں واپَسی کے انتظار میں جہاں کھڑی ہوتی ہیں ، وہاں سے گزرا توکیا دیکھتا ہوں کہ ایک خالی بس میں گانے بج رہے ہیں اور ڈرائیور بیٹھ کر چرس کے کَش لگا رہا ہے ، میں نے جاکر ڈرائیور سے مَحَبَّت بھرے انداز میں مُلاقات کی ، اَلْحَمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ملاقات کی بَرَکات فوراً ظاہِر ہوئیں اور اُس نے خود بخود گانے بند کردئیے اور چرس والی سگریٹ بھی بُجھادی ۔میں نے مُسکَراکر امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے سنّتوں بھرے بیان کی کیسٹ ’’ قَبْرکی پہلی رات ‘‘اُس کوپیش کی ،اُس نے اُسی وقت ٹیپ ریکارڈر میں لگادی ، میں بھی ساتھ ہی بیٹھ کر سُننے لگا کہ دوسروں کو بیان سنانے کامُفید طریقہ یہی ہے کہ خود بھی ساتھ میں سُنے ۔اَلْحَمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَل َّ  اُس نے بَہُت اچھّا اثر لیا ، گھبراکر گناہوں سے توبہ کی اور بس سے نکل کر میرے ساتھ اجتِماع میں آکر بیٹھ گیا ۔ ‘‘

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 اِنفِرادی کوشِش کی بہاریں

 



Total Pages: 7

Go To