Book Name:Badnaseeb Dulha

سے بِغیر آ پریشن کے میرامرض جاتا رہا۔ اَلحمدُ لِلّٰہعَزَّوّجَلَّ  میرے جذبے کو مدینے کے 12چاند لگ گئے، اب ہر ماہ تین دن کے مَدَنی قافِلے میں سفر کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ، ہر ماہ مَدَنی اِنعامات کا کارڈ جَمْعْ کرواتا ہوں اور مسلمانوں کو نَمازِ فَجر کیلئے جگانے کی خاطِر گھوم پھر کر صدائے مدینہ لگاتا ہوں ۔

بے عمل باعمل بنتے ہیں سَر بَسر      تُو بھی اے بھائی کر قافِلے میں سفر

اچّھی صُحبت سے ٹھنڈا ہو تیرا جگر     کاش!کر لے اگر قافِلے میں سفر

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ    کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(8)د یدارِِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  

        ضلع مظفر آباد (آزاد کشمیر)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے، کہ ایک روز جب میں قریبی مسجد میں نماز کے لئے پہنچا تومجھے چند نئے چہرے نظر آئے جن پر نُور برس رہا تھا ۔انہوں نے سروں پَر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجا یاہوا تھا۔ میں نے معلومات کیں تو پتا چلا کہ تبلیغِ قرآن و سنّت کی غیر سیاسی عالمگیر تَحریک دعوتِ اسلامی کا ایک مَدَنی قافِلہ راہِ خدا  عزوجلمیں سفر کرتا ہوا اس مسجد میں آٹھہرا ہے ۔   

 میں پہلی بار دعوتِ اسلامی سے متعارف ہواتھا۔ایک اسلامی بھائی نے مجھے  امیرِاَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا سنّتوں بھرا کیسٹ بیان ’’بے نمازی کی سزائیں ‘‘تحفے میں دیا۔جب میں نے گھر جاکر بیان سنا تو عذابِ جہنم کے خوف سے میرے جسم کا رُواں رُواں کانپ اٹھا ۔میں نے اسی وقت توبہ کی اورپنج وقتہ نماز باجماعت پابندی سے پَڑھنے کی نیّت کرلی۔

           امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے پر تاثیراندازِ بیان نے مجھے اپنا اسیر بنا لیا۔ میں  امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے تصور میں گم رہنے لگا۔کچھ عرصہ بعدباب المدینہ (کراچی)جانا ہوا دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہفتہ وار  سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضری نصیب ہوئی ۔ دوسرے دن  امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   سے عام ملاقات کا اعلان سنا تو میرے دل کی کلی کھل اُٹھی۔میں دھڑکتے دل کے ساتھ زیارت کے شوق میں فیضانِ مدینہ حاضر ہو گیا۔ امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی بارگاہ میں حاضری ہوئی اور میں آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے دستِ کرم پر بیعت کی سعادت حاصل کرکے ’’عطاری‘‘ بھی بن گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایک ولی کامل سے مرید ہونے کی بَرَکت سے مجھے گناہوں سے مزید نفرت ہوگئی اور نیکیوں کی طرف دل مائل رہنے لگا۔

           امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے مرید ہونے کے کچھ ہی دنوں بعدجب میں سویاتو میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی۔  سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ،صاحبِ معطّر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے خصوصی کرم فرمایا اور مجھے خواب میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا دیدار نصیب ہوگیا، میں نے دیکھا کہ ا للہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ،دانائے غُیُوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جلوہ فرما ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قدموں میں امیرِاَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  حاضِر ہیں ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(9) 9کافروں کا قبولِ اسلام

          ایک مُبلّغ کا بیان ہے کہ میں نے تقریباً 5سال قَبل اپنے کالج کے کلاس فیلو ایک کافِر اسٹوڈنٹ اور اس کے دوستوں کو مکتبۃُ المدینہ سے یٰسین شریف بمع ترجَمۂ کنزالایمانکی کیسٹ اورامیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے سنّتوں بھرے بیانات کی چندکیسٹیں نیز چند رسالے وغیرہ تحفے میں دیئے تھے۔

           5 جنوری 2006ء میں سنّتوں کی تربیّت کے عاشِقانِ رسول کے ایک مَدَنی قافِلے میں مجھے سکرنڈ( باب الاسلام سندھ) کے سفر کی سعادت حاصِل ہوئی۔ وہاں اُسی کافر کلاس فیلوسے ملاقات ہوگئی ۔ اس کا پورا گروپ ساتھ تھا اور یہ کُل 15افراد تھے ۔ میں نے اُس سے کیسٹوں کے بارے میں دریافت کیا ، اُس نے بتایا کہ یٰسین شریف کی تلاوت اور ترجَمہ سُن کر مجھے اتنا سکون ملاکہ اس سے پہلے کبھی زندگی میں نہ ملا تھا۔ اس کے بعد سے ہر رَمضانُ المبارَک میں مسجِد کے باہر بیٹھ کر اسپیکر سے تروایح میں ہونے والی تِلاوت سننے کا معمول ہے۔ نیز میں نے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے بیانات کی کیسٹیں سُنیں اور رسائل پڑھے اِس سے میرے دل پر بڑا گہرا اثر ہوا۔ مُبلّغ کا کہنا ہے میں نے اُس کو اسلام کی دعوت پیش کی، وہ اسلام سے مُتأَثِّرہو چکا تھا مگر مسلمان ہونے کیلئے تیّار نہیں تھا۔میں بَہُت دیر تک اُس پر اور اُس کے دوستوں پر انفِرادی کوشِش کرتا رہا ، آخِر کار کامیابی ہو ہی گئی۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہاتھوں ہاتھ 9کُفّار مشرَّف بہ اسلام ہو گئے اور باقیوں نے کہا ہم غور کریں گے۔   

آؤ علَمائے دیں ،     بہرِ تبلیغِ دیں      مل کے سارے  چلیں      قافِلے میں چلو

دور تاریکیاں      کُفر کی ہوں میاں      آ ؤ کوشِش کریں       قافِلے میں چلو

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(10)  میں نے مَدَ نی برقع کیسے اپنا یا !

           باب المدینہ(کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ میں پہلے بہت زیادہ فیشن ایبل تھی ، فون کے ذریعے غیر مردوں سے دوستی کرنے میں بڑا لُطف آتا۔ آس پڑوس کی شادیوں میں رسمِ مہندی کے موقع پَر مجھے خاص طور پر بُلایا جاتا۔ وہاں میں دوسری لڑکیوں کوڈانس اور ڈانڈیاسکھاتی تھی۔ ایک سے بڑھ کرایک گانے مجھے زبانی یا د تھے۔ آواز چونکہ اچھی تھی اس لئے مجھ سے گانا سنانے کی فرمائش کی جاتی ۔(والعیاذ باللہ )

           ویسے میں کبھی کبھار نماز بھی پڑھ لیتی اور رمضان المبارَک میں روزے بھی رکھ لیتی تھی۔بدقسمتی سے گھر میں T.V بہت دیکھا جاتا تھا۔جس کی وجہ سے میں گناہوں سے بچ نہیں پاتی تھی۔مجھے نعتیں پڑھنے کا شوق توتھامگر فضول مشاغل کی وجہ سے نہ پڑھ پاتی ۔ایک بار  رَبِیْعُ النُّور شریفکی شام نمازِ مغرب کے بعد میرے بڑے بھائی گھر آئے ۔ان کے ہاتھ میں تین کیسٹ تھے جن میں امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا سنّتوں بھرا کیسٹ بیان بنام ’’قبر کی پہلی رات‘‘بھی تھا۔میں نے جب اس بیان کو سنا تو مجھے جھٹکا تو لگا مگر میں گناہوں کے دلدل میں اس قدر پھنسی ہوئی تھی کہ مجھ میں کوئی خاص تبدیلی نہ آئی ۔ اتنا فرق ضَرور پڑا کہ گناہوں کا احساس ہونے لگا ۔

          ایک دن پڑوس میں دعوتِ اسلامی کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے بسلسلہ ’’گیارہویں شریف‘‘ اجتماعِ ذکرو نعت کا اہتمام کیا۔ امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے سنّتوں بھرے کیسٹ بیان سننے کی بَرَکت سے میں نے زندگی میں پہلی باراجتماعِ ذکرو نعت میں جانے کا ارادہ کیا ۔مگروہاں جانے کیلئے بھی خوب’’ میک اپ ‘‘کر کے جدید فیشن کا لباس پہنا۔اجتماعِ ذکرو نعت میں ایک اسلامی بہن نے سنتوں بھرا بیان فرمایا،جس نے میرے دل پر



Total Pages: 7

Go To