Book Name:Khanay ka Islami Tariqa

نہیں کہ اِس طرح وہ لباس وغیرہ خراب ہو جائے گا اور مال کو خراب کرنا جائز نہیں ۔ ( ایضاً ص ۳۳۵)

بَرَکت اُڑانے والے افعال

(77)خلیلُ العُلَماءمفتی محمد خلیل خان برکاتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ جس برتن میں کھانا کھایا ہے اُس میں ہاتھ دھونا یا ہاتھ دھو کر کُرتے یا تہبند کے دامن یا آنچل سے پُونچھنا بَرَکت کو اُڑا دیتا ہے ۔  ( سنّی بہشتی زیور ص ۵۷۸  مُلخصاً)

(78)کھانا کھانے کے فوراً بعدسخت ورزش کرنا یا زیادہ وزنی چیز اُٹھا نا، گھسیٹنا وغیرہ سخت محنت کے کام سے آنت اُتر جانے ، اپنڈکس ہو جانے یا پیٹ بڑھنے کے امراض پیدا ہوسکتے ہیں  ۔

  (79)کھانے کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہ بُلند آواز سے اُس وَقت کہئے جب سب کھانے سے فارِغ ہو چکے ہوں ورنہ آہستہ کہئے ۔ ( رَدُّالْمُحتَار ج۹ ص ۵۶۱ )کھانے کے بعد دعائیں اگر مل کر پڑھنی ہوں تو اُسی وَقت پڑھائی جائیں جب ہر فرد فارِغ ہو چکا ہو ورنہ جو کھا رہا ہے وہ شرمِندہ ہو گا ۔  

کسی کے درخت کا پھل کھانا کیسا؟

(80)باغ میں پہنچا وہاں پھل گِرے ہوئے ہیں تو جب تک مالِکِ باغ کی اجازت نہ ہو، پھل نہیں کھا سکتا اور اجازت دونوں طرح ہوسکتی ہے ۔  یا صَراحۃً اجازت ہو مَثَلاً مالِک نے کہدیا کہ گِرے ہوئے پھلوں کو کھاسکتے ہو یا دَلالۃً اجازت ہویعنی وہاں ایساعُرف وعادت ہے کہ باغ والے گِرے ہوئے پھلوں سے لوگوں کو مَنْعْ نہیں کرتے  ۔ درختوں سے پھل توڑ کر کھانیکی اجازت نہیں مگر جب کہ پھلوں کی کثرت ہو اور معلوم ہو کہ توڑ کر کھانے میں مالِک کو ناگواری نہیں ہوگی تو توڑ کر بھی کھاسکتا ہے ۔ مگر کسی صورت میں یہ اجازت نہیں کہ وہاں سے پھل اُٹھالا ئے (فتاوی عالمگیری ج۵ ص۳۳۹ ، کوئٹہ )ان سب صورتوں میں عُرف وعادت کا لحاظ ہے اور اگر عُرف وعادت نہ ہو یا معلوم ہو کہ مالِک کو ناگواری ہوگی تو گرے ہوئے پھل بھی کھانا جائز نہیں   ۔

بِغیر پوچھے کھانا کیسا؟

(81)دوست کے گھر گیا کوئی چیز پکی ہوئی ملی خودلیکر کھالی یا اُس کے باغ میں گیا اور پھل توڑ کر کھالیے اگر معلوم ہے کہ اُسے ناگوار نہ ہوگا تو کھانا جائز ہے مگر یہاں اچّھی طرح غور کرلینے کی ضَرورت ہے ، بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ سمجھتا ہے کہ اُسے ناگوار نہ ہوگا حالانکہ اُسے ناگوار ہے ۔          (فتاوی عالمگیری ج۵ ص۳۳۹ ، کوئٹہ )

(82)ذَبیحہ کا ’’حراممَغْزْ ‘‘کھانا ممنوع ہے لہٰذا پکاتے وَقْت گردن، چانپ اور پیٹھ کی رِیڑھ کی ہڈّی کے گوشت کو اچّھی طرح دیکھ کر حرام مغز الگ کر لیجئے ۔

(83)مرغی کا حراممَغْزباریک ہوتا ہے اور اس کے نکالنے میں حَرَج ہے لہٰذا پکانے میں رَہ گیا تو مُضایَقہ نہیں ۔ مگر کھایا نہ جائے ، اسی طرح مرغی کی گردن کے پٹّھے اور کالی ڈوری نُما خون کی رگیں بھی نہ کھائیں  ۔

(84)ذَبیحہ کا’’غُدُود‘‘(یعنی گانٹھ ، گِلٹی )کھانا مکروہِ تحریمی ہے لہٰذا پکانے سے قبل ہی اس کو نکال دیجئے ۔

مُرغی کا دل

(85)مرغی کا دِل پھینکنا نہیں چاہئے ۔ لمبائی میں چار چیرے ڈال کر یا جس طرح بھی ممکن ہو چِیر کر اس میں سے خون اچّھی طرح صاف کر کے پھر سالن میں ڈال دیجئے ۔  

پکی ہوئی خُون کی رگیں مت کھایئے

(86)  ذَبیحہکے گوشت کے اندر جو خون رہ گیا وہ پاک ہے مگر اُس  خون کا کھانا ممنوع ہے ۔  لہٰذا گوشت کے وہ حصّے جن میں عمُوماً  خون رَہ جاتا ہے اُن کو اچّھی طرح دیکھ لیجئے ۔  مَثَلاً مرغی کی گردن ، پَر اور ٹانگ وغیرہ کے اندر سے کالی ڈوریاں نکال لیا کریں کہ یہ خون کی نَسیں ہوتی ہیں ، خون پکنے کے بعد کا لا ہو جاتا ہے ۔

’’بسم اللہ کرو ‘‘کہنا سخت ممنوع ہے

(87)ایک کھانا کھارہا ہے دوسرا آیا پہلے نے اُس سے کہا :’’آؤ کھانا کھا لو ‘ ‘ دوسرے نے کہا:’’بسم اللّٰہ کرو!‘‘یہ بَہُت سخت ممنوع ہے ایسے موقعے پر دُعائیہ الفاظ کہنے چاہئیں مَثَلاً کہے :’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بَرَکت دے ۔  ( مُلَخَّص از بہارِ شریعت حصہ ۱۶ ص۲۲مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی )

سڑا ہوا گوشت کھانا حرام ہے

(88)گوشت سڑگیا تو اس کا کھانا حرام ہے ۔ اِسی طرح جو کھانا خراب ہوجاتا ہے وہ بھی نہیں کھاسکتے ۔ خراب ہونے کی علامت یہ ہے کہ اُس میں پھپھوندی، بدبُو یا کھٹّی بُو پیدا ہوجاتی ہے ۔  اگر شوربہ ہوتو اُس پر جھاگ بھی آجاتا ہے ۔ دالیں ، کھچڑا اور کھٹائی والا سالن جلد خراب ہوتا ہے ۔

ثابِت ہری مرچیں

(89)کھانے کے اندر پکی ہوئی ثابِت ہری یا سُرخ مرچیں کھاتے وَقْت پھینک دینے کے بجائے ممکِن ہو تو پہلے سے چُن کر الگ کرلیجئے اور پیس کر دوبارہ کام میں لایئے ۔  اِسی طرح پکے ہوئے گَرم مسالے بھی اگر قابِلِ استِعمال ہوں تو ضائِع نہ کیجئے ۔

بچی ہوئی روٹیوں کا کیا کریں ؟

(90)بچی ہوئی روٹی اور شوربہ وغیرہ پھینکنا اِسراف ہے ۔ مرغی، بکری یا گائے وغیرہ کو کھلادیں  ۔ چند روز کی بچی ہوئی روٹیوں کے ٹکڑے کر کے شوربے میں پکا لیجئے ۔ اِن شاء الِلّٰہعَزَّوَجَلَّ بہترین



Total Pages: 7

Go To