Book Name:Jahannam Kay Khatrat

فجر جو مجھ سے قضا ہوئی اس کی  نیت کرتا ہوں ۔ اسی طرح باقی نمازوں میں جو سب سے پہلی ہے اس کی نیت کریں اسی طرح ظہر وغیرہ ہر نماز میں نیت کرکے سب نمازوں کو پوری کر لیں یاد رکھو کہ قضا میں فقط فرضوں اور وتروں یعنی ہر دن اور ہر رات کی صرف بیس رکعات ادا کی جاتی ہیں سنتوں اور نفلوں کو قضا میں پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

(۴)جتنے روزے قضا ہوئے ہوں دوسرا رمضان آنے سے پہلے ادا کر لئے جائیں کیوں کہ موت کا وقت معلوم نہیں ۔ لہٰذا فرض کی ادائیگی میں ہر گز ہر گز تاخیر نہ کریں ۔

(۵) جن لوگوں پر زکوٰۃ فرض ہے وہ اپنے مالوں کی زکوٰۃ بھی ضرور ادا کرتے رہیں ۔ اور جتنے برسوں کی زکوٰۃ نہ دی ہو فوراً حساب کرکے ان سب کو ادا کریں ۔ ہر سال کی زکوٰۃ سال پورا ہونے سے پہلے ہی دے دیا کریں ۔ سال پورا ہونے کے بعد زکوٰۃ ادا کرنے میں دیر لگانا گناہ         ہے۔ اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ شروع سال ہی سے رفتہ رفتہ زکوٰۃ دیتے رہیں اور سال پورا ہونے پر حساب کریں اگر پوری ادا ہو گئی ہو تو بہتر ہے۔ ورنہ جتنی باقی ہو فوراً دے دیں اوراگر کچھ زیادہ رقم نکل گئی ہو تو اس کو آئندہ سال میں مجرا کر لیں ۔

(۶)صاحب استطاعت پر حج بھی فرض ہے   اللہ  تَعَالٰی نے اس کی فرضیت بیان کرکے فرمایا :

وَ  مَنْ  كَفَرَ  فَاِنَّ  اللّٰهَ  غَنِیٌّ  عَنِ  الْعٰلَمِیْنَ(۹۷) (پ۴، آل عمرٰن : ۹۷)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور جو منکر ہو تو   اللہ  سارے جہان سے بے پرواہ ہے۔

        حضور نبی اکرم   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے تارک حج کے بارے میں فرمایا ہے کہ چاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر (والعیاذ ب اﷲ   تَعَالٰی  )   

(۷)شجرہ شریف میں لکھی ہوئی ہدایات پر ضرور عمل کرتے رہیں اور روزانہ ایک بار شجرہ شریف پڑھ کر پیر ان کبار کو فاتحہ پڑھ کر ایصال ثواب کرتے رہیں ان شاء   اللہ  تَعَالٰی دین و دنیا کی برکتیں حاصل ہوں گی۔

وصلی  اﷲ  تعالی علی خیر خلقہ سید نا محمد والہ وصحبہ اجمعین والحمد ﷲ رب العلمین۔ تمت بالخیر                            

                                        عبدالمصطفی الاعظمی عفی عنہ

                                 براؤں شریف ۹ذوالحجۃ  ۱۴۰۰ ھ

کاش! کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا

        نزع کی سختیوں ، قبر کی ہولناکیوں ، محشر کی دشواریوں اورجہنم کی خوفناک وادیوں کا تصور باندھ کر خوف خدا     عَزَّ وَجَلَّ   سے لرزتے ہوئے اشکبار آنکھوں سے اس کلام کو پڑھیے۔

کاش! کہ میں دُنیا میں پیدا نہ ہُوا ہوتا

قبر و حشر کا سب غم ختم ہوگیا ہوتا [1]؎

آہ !سلب ایماں کا خوف کھائے جاتاہے

کاش! میری ماں نے ہی مجھ کو نہ جنا  [2]؎  ہوتا   

آکے نہ پھنسا ہوتا میں بطور انساں کاش!

کاش! میں مدینے کا اونٹ بن گیا ہوتا

اونٹ بن گیا ہوتا اورعیدِ قرباں میں

کاش! دستِ آقا سے میں نَحر ہوا ہوتا

کاش! میں مدینے کا کوئی دنبہ  [3]؎ ہوتا یا

سِینگ والا  چِتْکَبْرا  مینڈھا   [4]؎  بن  گیا  ہوتا

تار بن گیا ہوتا مرشدی کے کُرتے کا

مُرشِدی کے سینے کا بال بن گیا ہوتا

دوجہاں کی فکروں سے یوں نجات مل جاتی

 



[1]      علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ   علیہ نقل فرماتے ہیں ۔جب انسان قبر میں داخل ہوتا ہے تو وہ تمام چیزیں اس کو ڈرانے کیلئے آجاتی ہیں جن سے وہ دنیا میں ڈرتا تھا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ  سے نہ ڈرتاتھا۔ (شرح الصدور)

حضرت سیدنا میسرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اگر موت کی تکالیف کا ایک قطرہ تمام آسمان وزمین والوں پر ٹپکادیا جائے تو سب مرجائیں لیکن قیامت میں ایک گھڑی کی تکلیف اس تکلیف سے ستّر گنا زائد ہوگی ۔  (ایضاً)

     امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں     ؎

فکرِ معاش بد بلا ھَول معاد جانگُزا

لاکھوں بلا میں پھنسنے کو روح بدن میں آئی کیوں

[2]     حضرت مولا علی کرم اللہ وجھہ الکریم نے (انکساراً )  فرمایا ،کاش!میری ماں مجھے نہ جنتی۔  (المواعظ العصفوریہ)

[3]       حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ عناحالانکہ قطعی جنتی ہیں مگر (انکسارًا) فرماتے ہیں ۔کاش!میں کوئی دُنبہ ہوتا مجھے خوب کھلاپلاکر فربہ کیا جاتا پھر مجھے ذبح کردیا جاتاپھر کچھ گوشت کھالیا جاتا اورکچھ سُکھالیا جاتا۔  (ایضاً)

[4]       نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ذَبح کے دن دو مینڈھے سینگ والے چِتْکَبْر ے خصی کئے ہوئے ذبح فرمائے ۔ (سنن ابی داود،کتاب الضحایا،باب ما یستحب من الضحایا، الحدیث:۲۷۹۵،ج۳،ص۱۲۶) اس حدیث مبارک کی روشنی میں سرکارمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

کے دست مبارک سے ذبح ہونے کا شرف پانے والے خوش نصیب مینڈھوں پر رشک کرتے ہوے بے قرارآرزو کا اظہار کیا گیاہے ۔



Total Pages: 57

Go To