Book Name:Jahannam Kay Khatrat

(سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی البخل، الحدیث : ۱۹۶۹، ج۳، ص۳۸۷)

     مطلب یہ ہے کہ جو مومن ہو گا اگر بخیل ہو گا تو بد اخلاق نہیں ہو گا اور اگر بد اخلاق ہو گا تو بخیل نہیں ہو گا یہ دونوں بری خصلتیں ایک ساتھ مومن میں نہیں پائی جائیں گی۔

حدیث : ۳

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ سخی   اللہ  سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، لوگوں سے قریب ہے، لیکن جہنم سے دور ہے اور بخیل  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، لیکن جہنم سے قریب ہے اور سخی جاہل، بخیل عابد سے   اللہ  تَعَالٰی کو زیادہ پسند ہے۔

(سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی السخائ، الحدیث : ۱۹۶۸، ج۳، ص۳۸۷)

حدیث : ۴

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ آدمی میں دو خصلتیں بدترین ہیں ۔

 ایک حرص والی بخیلی، دوسری سخت بزدلی۔  (سنن ابی داود، کتاب الجھاد، باب فی الجرأۃوالجبن، الحدیث۲۵۱۱، ج۳، ص۱۸)

حدیث : ۵

         حضرت ابن عمر و  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ اس امت کے اگلے لوگ یقین اور زہد کی وجہ سے نجات پا گئے اور اس امت کے پچھلے لوگ بخیلی اور حرص کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔

(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، البخل، الحدیث :  ۷۳۸۵، ج۳، ص۱۸۱)   

مسائل و فوائد

        خلاصہ کلام یہ ہے کہ بخیلی بدترین گناہ والی خصلت ہے جو ہزاروں نیکیوں سے محروم کر دینے والی خصلت ہے اور دنیا میں اس کا انجام ذلت و خواری اور قسم قسم کی تکالیف ہیں اور آخرت میں اس گناہ کی سزا جہنم کا درد ناک عذاب ہے۔  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۵۹)  حرص و طمع

        یہ بھی بہت ہی خبیث و قبیح عادت ہے۔ یہ چوری، ڈاکہ، غصب، خیانت، قتل و غارت، وغیرہ سیکڑوں ایسے ایسے بدترین گناہوں کا سر چشمہ ہے جو جہنم میں لے جانے والے گناہ کبیرہ ہیں ۔ اسی لئے حدیثوں میں بکثرت اس کی قباحت و مذمت کا بیان آیا ہے۔چنانچہ

حدیث : ۱

         حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو خصلتیں ہمیشہ جوان رہتی ہیں ایک مال کی حرص اوردوسری عمر کی حرص۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب کراھۃ الحرص علی الدنیا، الحدیث : ۱۰۴۷، ص۵۲۱۔سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الامل و الاجل، الحدیث ۴۲۳۴، ج۴، ص۴۸۴)

حدیث : ۲

         حضرت عمرو بن شعیب سے ان کی سند کے ساتھ روایت ہے کہ اس امت کی سب سے پہلی صلاح یقین و زہد ہے اور اس امت کا سب سے پہلا فساد بخیلی اورامید ہے۔

(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الجود والسخاء، الحدیث۱۰۸۴۴، ج۷، ص۴۲۷)

حدیث : ۳

         حضرت وا ثلہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ لالچی ایسی کمائی طلب کرتا ہے جو حلال نہ ہو۔(کنز العمال ، کتاب الاخلاق ، من قسم الاقوال، الحرص، الحدیث :  ۷۴۳۰، الجزء الثالث، ص۱۸۵)

حدیث : ۴

        حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ طمع علماء کے دلوں سے علم شریعت کو دور کر دیتی ہے۔

(کنز العمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، الطمع، الحدیث :  ۷۵۷۳، الجزء الثالث، ص۱۹۸)

حدیث : ۵

         حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے حدیث مرسل مروی ہے کہ وہ چکنی اور پھسلا دینے والی چیز کہ جس پر علماء کے قدم ٹھہر نہیں سکتے وہ طمع (لالچ ) ہے۔

 (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، الطمع، الحدیث :  ۷۵۷۶، الجزء الثالث، ص۱۹۸