Book Name:Jahannam Kay Khatrat

جہنم میں جانے کا سبب ہے۔ و  اللہ  تَعَالٰی اعلم

(۴۸)  گالی گلوچ

        گالی دینا بہت ہی ذلیل اور نہایت ہی قبیح عادت ہے ۔ اس سے لوگوں کی ایذا رسانی ہوتی ہے اور بعض مرتبہ یہ بد زبانی جنگ و جدال، بلکہ کشت و قتال تک پہنچا دیتی ہے۔ اسی لئے رسول اکرم   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے اس کو گناہ قرار دے کر اس کی مذمت و ممانعت فرمائی۔ چنانچہ مندرجہ ذیل حدیثیں اس پر شاہد عدل ہیں ۔

حدیث : ۱

         حضرت عبد  اللہ  بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے۔             

    (صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب ماینھیٰ من السباب...الخ، الحدیث : ۶۰۴۴، ج۴، ص۱۱۱)

         مطلب یہ ہے کہ مسلمان سے اس کے مسلمان ہونے کی بنا پر جنگ کرنا یا مسلمان سے جنگ کو حلال جان کر جنگ کرنا کفر ہے۔

حدیث : ۲

         حضرت انس و حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : گالی گلوچ کرنے والے دو آدمیوں نے جو کچھ کہا اس کا گناہ گالی میں پہل کرنے والے پر ہے، جب کہ مظلوم حد سے نہ بڑھ گیا ہو۔ (صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ...الخ، باب النھی عن السباب، الحدیث۲۵۸۷، ص۱۳۹۶)

         مطلب یہ ہے کہ جس نے پہلے گالی دی سارا گناہ اس کے سر ہے۔ جب کہ دوسرا حد سے نہ بڑھا ہو لیکن اگر وہ حد سے بڑھ گیا ہو تو پھر گالی گلوچ کا گناہ دونوں کے سر ہوگا۔

حدیث : ۳

        حضرت ابن عمرو رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ ہر فحش گوئی کرنے والے پر حرام ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو۔  

(کنزالعمال، کتاب الاخلاق من قسم الأقوال، الفحش والسّب...الخ، الحدیث ۸۰۸۲، ج۲، الجزء الثالث، ص۲۳۹)

حدیث : ۴

         حضرت ابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ہوا کو گالی مت دو کیونکہ ہوا    اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے اور تم لوگ اس کی اچھائی اور اس چیز کی اچھائی کی دعا مانگو جو اس ہوا میں ہو۔ اور ہوا کے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو اس ہوا میں ہے خدا کی پناہ مانگو۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق من قسم الأقوال، سب الریح، الحدیث۸۱۰۶، ج۲، الجزء الثالث، ص۲۴۰)   

حدیث : ۵

         حضرت عبد  اللہ  بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، فحش گوئی کرنے والا، بے حیائی کی بات بولنے والا، نہیں ہوتا۔

(سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی اللعنۃ، الحدیث۱۹۸۴، ج۳، ص۳۹۳)

                     مسائل و فوائد

        گالی دینا گناہ ہے اور گالی دینے والا شروع ہی سے جنت میں داخل نہیں ہو گا، بلکہ اپنے گناہ کے برابر جہنم کا عذاب چکھ کر پھر جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔

(۴۹)  جھوٹا خواب بیان کرنا 

        اپنی طرف سے گھڑ کر جھوٹا خواب بیان کرنا سخت حرام اور گناہ کا کام ہے۔  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے متعدد احادیث میں اس کی مذمت فرمائی ، چنانچہ

حدیث : ۱

         حضرت ابن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا تمام جھوٹی تہمتوں میں سب سے بڑی تہمت یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو وہ دکھائے جو اس کی آنکھوں نے نہیں دیکھا ہے (یعنی جو خواب نہیں دیکھا ہے اس کو جھوٹ موٹ کہے کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے)۔(صحیح البخاری، کتاب التعبیر، باب من کذب فی حلمہ، الحدیث :  ۷۰۴۳، ج۴، ص۴۲۳)

حدیث : ۲

         امیر المومنین حضرت علی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایاکہ جو جھوٹا خواب بیان کرے اس کو قیامت کے دن اس طرح عذاب دیا جائے گا کہ اس کو دو جو کے درمیان گانٹھ لگانے کی تکلیف دی جائے گی ۔ (سنن الترمذی، کتاب الرؤیا، باب فی الذی یکذب فی حلمہ ، الحدیث :  ۲۲۸۸، ج۴، ص۱۲۵)

حدیث : ۳

         حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا جو جھوٹا خواب گھڑ کر بیان کرے اس کو قیامت کے دن دو جو میں گانٹھ لگانے کی تکلیف دی جائے گی اور وہ کبھی بھی ہر گز دو جو کے درمیان گانٹھ نہیں لگا سکے گا۔(سنن الترمذی، کتاب الرؤیا، باب فی الذی یکذب فی حلمہ ، الحدیث :  ۲۲۹۰، ج۴، ص۱۲۵)

مسائل و فوائد

        یہ عذاب اس وقت تک لگاتار جاری رہے گا یہاں تک کہ اس کے گناہوں کے برابر عذاب پ



Total Pages: 57

Go To