Book Name:Jahannam Kay Khatrat

  (۴۴)  خود کشی

        خود کشی یعنی خود اپنے ہاتھ سے اپنے کو مار ڈالنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔   اللہ  تَعَالٰی نے ایسے شخص پر جنت حرام فرما دی ہے۔ اس بارے میں یہ چند حدیثیں بہت رقت انگیز و عبرت خیز ہیں ۔

حدیث : ۱

         حضرت ثابت بن ضحاک رضی  اللہ  تَعَالٰی  عنہسے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا جو شخص اپنی ذات کو کسی چیز سے قتل کر دے تو   اللہ  تَعَالٰی اس کو جہنم میں اسی چیز سے عذاب دے گا۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم قتل الانسان...الخ، الحدیث : ۱۷۷، ص۶۹)  

حدیث : ۲

        حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ رسول   اللہ    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ساتھ ’’جنگ حنین‘‘ میں حاضر تھے تو رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ایک ایسے شخص کو جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا تھا یہ کہہ دیا کہ یہ شخص جہنمی ہے پھر جب ہم لوگ لڑائی میں حاضر ہوئے تو اس شخص نے کفار کے ساتھ بہت سخت جنگ کی اور اس کو بہت زیادہ زخم لگ گئے تو کسی نے کہا کہ یا رسول  اللہ !  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  وہ آدمی جس کو حضورنے جہنمی فرما دیا ہے، اس نے تو آج کفار سے بہت سخت جنگ کی ہے اور وہ مر گیا ہے۔ تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ وہ جہنم میں گیا یہ سن کر بہت سے لوگ شک میں پڑ گئے تو اسی حالت میں اچانک کسی نے کہا کہ وہ مرا نہیں تھا لیکن اس کو بہت سخت زخم لگا تھا تو رات میں وہ صبر نہ کر سکا اور خود کشی کر لی جب حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ   اللہ  اکبر!میں گواہی دیتا ہوں کہ میں   اللہ  کا رسول اور اس کا بندہ ہوں پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت بلال رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دیں کہ جنت میں مسلمان کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا اور بیشک    اللہ  تَعَالٰی اس دین کی مدد کسی بدکار آدمی کے ذریعے بھی فرما دیا کرتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم ...الخ، الحدیث : ۱۷۸، ص۷۰)

مسائل و فوائد

   خود کشی کرنے والا مسلمان اگرچہ خود کشی کرنے سے کافر نہیں ہوتا لیکن سخت گنہگار اور جہنم کا سزاوار ہو جاتا ہے وہ دنیا میں جس ہتھیارسے خود کشی کرے گا جہنم میں اسی ہتھیار کے ذریعے عذاب دیا جائے گا اور خود کشی کرنے والا چونکہ مسلمان رہتا ہے اس لئے اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ و  اللہ  تَعَالٰی اعلم

(۴۵)  احتکار  (ذخیرہ اند وزی)

        قحط اور گرانی کے زمانے میں غلہ یا جانور کا چارہ خرید کر اس نیت سے ذخیرہ اندوزی کر ے تا کہ جب خوب زیادہ گراں ہو جائے تو بیچے گا۔ چونکہ ایسا کرنے سے گرانی بڑھ جاتی ہے اور لوگ مصیبت میں پھنس جاتے ہیں ۔ اس لئے شریعت نے اس کو ناجائز اور گناہ کا کام قرار دیا ہے۔ اس کی قباحت اور ممانعت کے بارے میں مندرجہ ذیل چند حدیثیں بڑی ہی لرزہ خیز واردہوئی ہیں ۔

حدیث : ۱

         حضرت معمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا گنہگار ہے۔

 (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃوالمزارعۃ، باب تحریم الاحتکار...الخ، الحدیث ۱۶۰۵، ص۸۶۷)

حدیث : ۲

         امیر المومنین حضرت عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان ہے کہ بازار میں غلہ لا کر بیچنے والا خدا   عَزَّ وَجَلَّ    کی طرف سے روزی دیا جائے گا اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا لعنت میں گرفتار ہو گا۔  ( سنن ابن ماجہ ، کتاب التجارات، باب الحکرۃ والجلب، الحدیث :  ۲۱۵۳، ج۳، ص۱۳)   

حدیث : ۳

         امیر المومنین حضرت عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں نے  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو کھانے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرکے مسلمانوں کو تکلیف دے گا   اللہ  تَعَالٰی اس کو کوڑھ کی بیماری اور مفلسی میں مبتلا کر دے گا۔       (سنن ابن ماجہ ، کتاب التجارات، باب الحکرۃ والجلب، الحدیث :  ۲۱۵۵، ج۳، ص۱۴)

حدیث : ۴

         حضرت ابن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا جو گرانی بڑھانے کی نیت سے چالیس دن تک ذخیرہ اندوزی کرے گا۔ وہ   اللہ  تَعَالٰی سے بے تعلق اور   اللہ  تَعَالٰی اس سے بیزار ہے۔         (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الاحتکار، الفصل الثالث، الحدیث :  ۲۸۹۶ ، ج۲، ص۱۵۷)

حدیث : ۵

         حضرت ابو امامہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو چالیس دن ذخیرہ اندوزی کرے پھر اس سب غلہ کو صدقہ کر دے، پھر بھی یہ ذخیرہ اندوزی کے گناہ کا کفارہ نہ ہو گا۔(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الاحتکار، الفصل الثالث، الحدیث :  ۲۸۹۸، ج۲، ص۱۵۸)

حدیث : ۶

         حضرت معاذ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا بہت ہی برا بندہ ہے کہ اگر   اللہ  تَعَالٰی بھاؤ سستا کر دیتا ہے تو وہ



Total Pages: 57

Go To