Book Name:Jahannam Kay Khatrat

حدیث شریف میں ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ

حدیث : ۱

        حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جس کو خدا   عَزَّ وَجَلَّ   نے مال عطا فرمایا اور اس نے اس کی زکوٰ ۃ نہیں ادا کی تو قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے اژدہے کی صورت میں بنا دیا جائے گا کہ اس اژدہے کی دو چتیاں ہوں گی (جو اس کے بہت ہی زہریلے ہونے کی نشانی ہے) اور وہ اژدہا اس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا جو اپنے جبڑوں سے اس کو پکڑے گا اور کہے گا میں ہوں تیرا مال، تیرا خزانہ۔ ( صحیح البخاری، کتاب الزکوۃ، باب اثم مانع الزکوٰۃ، الحدیث : ۱۴۰۳، ج۱، ص۴۷۴)

حدیث : ۲

      حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ جن اونٹوں کی زکوٰۃ نہیں دی گئی ہے وہ دنیا میں جتنے بڑے اور فربہ تھے اس سے بڑھ کر بڑے اور فربہ ہو کر قیامت کے دن آئیں گے اوراپنے مالکوں کو اپنے پاؤں سے کچلیں گے اور جن بکریوں کی زکوٰۃ نہیں دی گئی ہے وہ بکریاں دنیا میں جتنی بڑی اور فربہ تھیں ان سے زیادہ بڑی اور فربہ ہو کر آئیں گی اور اپنے مالکوں کو پیروں سے رو ندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی۔  (صحیح البخاری، کتاب الزکوۃ، باب اثم مانع الزکوٰۃ، الحدیث : ۱۴۰۲، ج۱، ص۴۷۳)

حدیث : ۳

        حضرت احنف بن قیس  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ     سے روایت ہے کہ حضرت ابوذرغفاری  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ     نے فرمایا کہ خزانہ جمع کرنے والوں کو (جو زکوٰۃ نہیں دیتے) خوشخبری سنا دو کہ ان کے خزانہ کو قیامت کے دن پتھر بنا کر جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا۔ پھر ان کو ان کے مالکوں کی چھاتیوں کی گھنڈی پر رکھا جائے گا تو وہ ان کے شانوں کی کرّی سے باہر نکل جائے گا ۔اور پھر ان کے شانوں کی کرّی پر رکھا جائے گا تو وہ ان کی چھاتی کی گھنڈی سے باہر نکل جائے گا۔ (صحیح البخاری، کتاب الزکوۃ، باب ماأدّی زکاتہ فلیس بکنز، الحدیث : ۱۴۰۷، ج۱، ص۴۷۵)

مسا ئل و فوائد

      الحاصل ہر وہ مال جس میں زکوٰۃ فرض ہے اگر اس کی زکوٰۃ نہ دی گئی تو قیامت کے دن وہی مال ان کے مالکوں کیلئے عذاب کا ذریعہ بنے گا اور وہ جہنم میں طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار ہوں گے۔

(۲۹) روزہ چھوڑ د ینا

        روزہ فرض اور اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے ۔بلا عذر ِشرعی اِس کا چھوڑ دینا گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے اور روزہ رکھ کر اگر بلا عذرِ شرعی قصداً توڑ دے توکفارہ لازم ہے اور اس کا کفا رہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے  یاساٹھ دن لگاتار روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کوکھاناکھلائے۔

 قرآن مجید میں   اللہ  تَعَالٰی نے فرمایا :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ (پ۲، البقرۃ : ۱۸۳)

ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والوتم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے۔

 دوسری آیت میں ارشاد فرمایا :

فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ   (پ۲، البقرۃ : ۱۸۵)

ترجمۂ کنزالایمان :  تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے۔   

حدیث : ۱

        حاکم نے حضرت کعب بن عجرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کی کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : سب لوگ منبر کے پاس حاضر ہوں ۔ہم سب حاضر ہوئے جب حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پہلے درجہ پر چڑھے کہا ’’ آمین‘‘ دوسرے درجہ پر چڑھے کہا ’’آمین‘‘ تیسرے درجہ پر چڑھے کہا’’ آمین ‘‘جب منبر سے تشریف لائے ہم نے عرض کی آج ہم نے حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے ایسی بات سنی کہ کبھی نہ سنتے تھے۔ تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  جبرئیل علیہ السلام نے آ کر عرض کی وہ شخص دور ہو جس نے رمضان پایا اور اپنی مغفرت نہ کرائی ۔میں نے کہا ’’آمین ‘‘ جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو کہا وہ شخص دور ہو جس کے پاس آپ کا ذکر ہو اورآپ پر درود نہ بھیجے۔ میں نے کہا ’’آمین‘‘۔ جب میں تیسرے درجے پر چڑھا کہا وہ شخص دور ہو جس کے ماں باپ دونوں یا ایک کو بڑھاپا آئے اور ان کی خدمت کرکے جنت میں نہ جائے میں نے کہا  ’’ آمین‘‘۔  

(المستدرک للحاکم، کتاب البر والصلۃ، باب لعن   اللہ  العاق لوالدیہ...الخ، الحدیث۷۳۳۸، ج۵، ص۲۱۲) 

حدیث : ۲

        حضرت ابو امامہ باہلی  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں سو رہا تھا تو خواب میں دو آدمی میرے پاس آئے اور میرے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر مجھے ایک دشوار گزار پہاڑ پرچڑھایا تو جب میں بیچ پہاڑ پر پہنچا تو وہاں بڑی سخت آوازیں آ رہی تھیں تو میں نے کہا کہ یہ کیسی آوازیں ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ جہنمیوں کی آوازیں ہیں ۔ پھر مجھے اور آگے لے جایا گیا تو میں کچھ ایسے لوگوں  کے پاس سے گزرا کہ ان کو ان کے ٹخنوں کی رگوں میں باندھ کر لٹکایا گیا تھا اور ان لوگوں کے گلپھڑے پھاڑ دیئے گئے تھے اوران کے گلپھڑوں سے خون بہہ رہا تھا تو میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ تو کسی کہنے والے نے یہ کہاکہ یہ لوگ روزہ افطار کرتے تھے قبل اس کے کہ روزہ افطار کرنا حلال ہو۔        

(الترغیب والترہیب، کتاب الصوم، الترہیب من افطار...الخ، الحدیث : ۲، الجزء الثانی، ص۶۶)

مسائل و فوائد

 



Total Pages: 57

Go To