Book Name:Jahannam Kay Khatrat

            امیر المومنین حضرت عمر  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے حرام کے دو دروازے ایسے ہیں کہ لوگ ان دونوں دروازوں سے کھاتے ہیں ایک رشوت، دوسرے ز انیہ کی کمائی۔

مسائل وفوائد

        الحاصل رشوت کا مال حرام ہے اور رشوت لینا دینا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ہاں البتہ اگر کسی مسلمان کا کوئی حق مارا جاتا ہو اوررشوت دینے سے وہ حق مل جاتا ہو اور رشوت دینے کے بغیر وہ حق نہ مل سکتا ہو۔ توایسی صورت میں رشوت دینا جائز ہے۔ مگر رشوت لینا کسی حالت میں بھی جائز نہیں ۔  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۲۱) مال حرام

        حدیث شریف میں ہے کہ مسلمان کیلئے فرائضِ خداو ندی یعنی نماز ، روزہ اور حج و زکوٰۃ کے بعد رزق حلال طلب کرنا بھی فرض ہے    

 (شعب الایمان للبیہقی، باب فی حقوق الاولاد، الحدیث۸۷۴۱، ج۶، ص۴۲۰)

         اور مومن کے لئے ضروری ہے کہ ہمیشہ مالِ حلال ہی استعمال کرے اور مالِ حرام سے بچتا رہے چنانچہ خدا وند کریم نے قرآن مجید میں فرمایا کہ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ(۱۷۲)(پ۲، البقرۃ : ۱۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور   اللہ  کا احسان مانو اگر تم اسی کوپوجتے ہو۔

      اس بارے میں مندرجہ ذیل چند حدیثیں بھی پڑھ لیجئے۔ اوراِس کی اَہمیت کو سمجھئے 

حدیث : ۱

         حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ    سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔ کریم    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی یہ پرواہ نہیں کرے گا کہ اس نے جو مال حاصل کیا ہے وہ حرام ہے یا حلال۔    (صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب من لم یبال من حیث...الخ، الحدیث : ۲۰۵۹، ج۲، ص۷)

حدیث : ۲

        حضرت عبد  اللہ  بن مسعود   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا    سے روایت ہے کہ بندہ جو حرام مال کمائے گا۔ اگر اُس کو صدقہ کرے گا تو وہ مقبول نہیں ہو گا اور اگر خرچ کرے گا تو اُس میں برکت نہ ہو گی۔ اور اگر اُس کو اپنی پیٹھ کے پیچھے چھوڑ کر مر جائے گا تو وہ اُس کیلئے جہنم کا توشہ بنے گا ۔(شرح السنۃ للبغوی، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، الحدیث۲۰۲۳، ج۴، ص۲۰۵)

حدیث : ۳

        حضرت جابر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا جو حرام غذا سے بنا ہو گا۔ اور ہر وہ گوشت جو حرام غذا سے بنا ہو جہنم اس کا زیادہ حق دار ہے۔  (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، الفصل الثانی، الحدیث : ۲۷۷۲، ج۲، ص۱۳۱)

حدیث : ۴

        حضرت عائشہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا نے کہا کہ میرے باپ (حضرت ابوبکر صدیق  رضی  اللہ  تَعَالٰی  عنہ) کا ایک غلام تھا۔ وہ اپنی کمائی لا کر میرے باپ کو دیتا تھا۔ اور آپ اس کی کمائی کھاتے تھے۔ ایک دن وہ غلام کوئی چیز لایا اور میرے والد نے اس کو کھا لیا۔ پھر اس غلام نے خود ہی پوچھا کہ آپ جانتے ہیں یہ کیا چیز تھی جو آپ نے کھا لی ہے؟ تو حضرت ابوبکر صدیق  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   نے غلام سے دریافت کیا کہ تم ہی بتاؤ وہ کیا چیز تھی؟ تو غلام نے کہا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں کاہن بن کر ایک شخص کو غیب کی خبر بتائی تھی، حالانکہ میں کہانت کے فن کو نہیں جانتا تھا۔ میں نے اس کودھوکہ دے دیا تھا اب اس نے مجھ سے ملاقات کی اور اُسی کہانت کے معاوضہ میں اُس نے مجھے وہ چیزدی تھی۔ جو آپ نے کھالی ہے یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے حلق میں انگلی ڈال کر جو کچھ کھایا تھا سب قے کر دیا ۔(صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب ایام الجاھلیۃ، الحدیث۳۸۴۲، ج۲، ص۵۷۱)

حدیث : ۵

              حضرت ابوبکر صدیق  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایاکہ وہ بدن جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کو حرام سے غذا دی گئی ہو۔

(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، الفصل الثالث، الحدیث : ۲۷۸۷، ج۲، ص۱۳۴)

حدیث : ۶

        حضرت ابن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جو کسی کپڑے کو دس درہم میں خریدے اور اس میں ایک درہم بھی حرام کا ہو تو جب تک وہ کپڑا اس آدمی کے بدن پر رہے گا  اللہ  تَعَالٰی  اس کی کسی نماز کو قبول نہیں فرمائے گا یہ کہہ کر حضرت ابن عمر  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  نے اپنی دونوں انگلیوں کو دونوں کانوں میں ڈال کریہ فرمایا کہ اگر میں نے اس حدیث کو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے نہ سنا ہو تو میرے یہ دونوں کان بہرے ہو جائیں ۔(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الکسب ...الخ، الفصل الثالث، الحدیث :   ۲۷۸۹، ج۲، ص۱۳۴)

حدیث : ۷

        حضرت ابو قتادہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول    اللہ     صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ تم لوگ سودا بیچنے میں بکثرت قسم کھانے سے بچتے رہو، کیوں کہ قسم کھانے سے سودا تو بِک جاتا ہے لیکن اُس کی برکت برباد ہو جاتی ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ ، باب النھی عن الحلف فی البیع، الحدیث