Book Name:Jahannam Kay Khatrat

ہیں ۔ عوام تو عوام بڑے بڑے علمائے کرام اورمقدس پیروں کا دامن بھی اس گناہ کی نحوست سے آلودہ نظر آتا ہے ۔علماء و مشائخ کی شاید ہی کوئی مجلس ہو گی جو اس گناہ کی ظلمت سے خالی ہو۔ پھر غضب یہ ہے کہ لوگ اس طرح غیبت کے عادی بن چکے ہیں اور یہ بَلا اس قدر عام ہو چکی ہے کہ گویا غیبت لوگوں کے نزدیک کوئی گناہ کی بات ہی نہیں ۔ مگر خوب سمجھ لو کہ غیبت، خواہ علماء کی مجلس ہو یا عوام کا مجمع ہر جگہ اور ہر حال میں حرام و گناہ ہے اور گناہ بھی کبیرہ یعنی بڑا گناہ ہے لہٰذا جب کبھی غفلت میں کوئی غیبت زبان سے نکل جائے تو فوراً توبہ کر لینی چاہیے اور جس کی غیبت کی ہے (اگر اس کو معلوم ہوگیا ہو ) تو اس سے مُعاف کرا لے اور قرآن و حدیث کی مقدس تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے کہ اِسی میں مومن کی دینی و دُنیوی فلاح ہے اور یہی نجات کا راستہ ہے (و  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۱۷)چغلی

        ’’ چغلی ‘‘ سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے جس کی سزا آخرت میں عذا ب جہنم ہے۔ کیونکہ یہ مسلمانوں میں خلاف و شقاق اور جنگ و جدا ل کا بہت بڑاسبب اور ذریعہ ہے۔ چغل خور کے بارے میں حضور اکرم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ

حدیث : ۱

         حضرت حذیفہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے سنا ہے کہ ’’ لا یدخل الجنۃ قتات ‘‘ یعنی چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب مایکرہ من النمیمۃ، الحدیث۶۰۵۶، ج۴، ص۱۱۵)

حدیث : ۲

        حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  دو قبروں کے پاس سے گزرے۔ تو فرمایا کہ یہ دونوں قبر والے یقینا عذاب میں مبتلا ہیں اور کسی ایسے گناہ میں ان دونوں کو عذاب نہیں دیا جا رہا ہے جس سے بچنا بہت زیادہ دشوار رہا ہو۔ ان میں سے ایک کو تو اِس لئے عذاب دیا جا رہا ہے کہ وہ چُھپ کر پیشاب نہیں کرتا تھا اور دو سرا چغلی کھاتا تھا۔ پھر حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کھجور کی ایک ہری شاخ لی اور اس کو چیر کر دو ٹکڑے کئے ۔ پھر دونوں قبروں میں ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا کہ یا رسول   اللہ  !  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  اس لئے کہ جب تک یہ دونوں ٹہنیاں خشک نہ ہوں گی اِن دونوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے گی۔(صحیح البخاری، کتاب الوضوئ، باب من الکبائر أن لایستترمن بولہ ، الحدیث : ۲۱۶، ج۱، ص۹۵۔۹۶)

چغلی کسے کہتے ہیں :   حدیث میں لفظ  ’’ نمیمہ ‘‘  آیا ہے۔ جس کا ترجمہ   اُردو میں ’’چغلی‘‘ ہے حضرت علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُ   اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بخاری شریف کی شرح میں فرمایا کہ کسی کی بات کودوسرے آدمی تک پہنچانے اور فساد پھیلانے کیلئے لے جانا یہی’’چغلی ‘‘ہے۔(عمدۃ القاری، کتاب الوضو ء  ، باب من الکبائر.....الخ، الحدیث : ۲۱۶، قولہ ’’بالنمیمۃ‘‘، ج۲، ص۵۹۴)

مسائل و فوائد

       چغلی کھانا بدترین اور بہت ذلیل عادت ہے اور یہ گناہ کبیرہ ہے۔ چغلی کھانے والے کو اس کی قبر میں بھی عذاب ہو گا اور آخرت میں اس کو جہنم کا عذاب بھی بھگتنا پڑے گا۔ اس بری اور گناہ کی عادت سے مسلمانوں میں بڑے بڑے جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ قتل و خونریزی کی نوبت آجاتی ہے اس لئے اس گناہ سے بچتے رہنا لازم اور بہت ضروری ہے ۔خداو ندِ کریم ہر مسلمان کو اِس بَلا سے محفوظ رکھے۔ ( آمین)

(۱۸) امانت میں خیانت

        ا مانت میں خیانت یہ بہت بڑا گناہ اور حرام کام ہے اور چوری کی طرح یہ بھی جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔   اللہ  تَعَالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا :   

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) (پ۹، الانفال : ۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان   :  اے ایمان والو   اللہ  و رسول سے دغا نہ کرو اورنہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت ۔

        دوسری آیت میں ارشاد فرمایا :   

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ   (پ۵، النساء : ۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان :  بے شک   اللہ  تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپردکرو۔

حضور اکرم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حدیث میں فرمایا کہ

حدیث : ۱

         حضرت عبد    اللہ   بن عمرو رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے ا نہوں نے کہا کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا ہے کہ چار باتیں جس شخص میں پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہو گا اور اِن میں سے اگر ایک بات پائی گئی تو اس شخص میں نفاق کی ایک بات پائی گئی۔ یہاں تک کہ اِس سے توبہ کر لے ۔

(۱) جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے ۔   

(۲) اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے  ۔  

(۳) اور جب کوئی معاہدہ کرے تو عہد شکنی کرے۔      

(۴)  اور جب جھگڑا کرے تو گالی بکے۔  (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، الحدیث : ۳۴، ج۱، ص۲۵)

مسا ئل و فوائد

 



Total Pages: 57

Go To