Book Name:Jahannam Kay Khatrat

         حضرت عبد  اللہ  بن عمرو رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ  رَسُولَ  اللہ      صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے فرمایا کہ خدا  عَزَّ وَجَلَّ   کی رضا مندی باپ کی رضا مندی میں ہے اور خدا  عَزَّ وَجَلَّ   کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔  (سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء من الفضل فی رضا...الخ، الحدیث۱۹۰۷، ج۳، ص۳۶۰)   

حدیث : ۴

        حضرت ابوبکر  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ    سے مروی ہے کہ رسول   اللہ    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا کہ ہر گناہ کو   اللہ  تَعَالٰی جس کیلئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی و ایذا رسانی کو نہیں بخشتا بلکہ ایسا کرنے والے کو اس کے مرنے سے پہلے دنیا کی زندگی ہی میں جلدہی سزا دے دیتا ہے۔(شعب الایمان للبیھقی، باب فی بر الوالدین، فصل فی عقوق الوالدین، الحدیث ۷۸۹۰، ج۶، ص۱۹۷)

حدیث : ۵

        ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو شخص اپنے ماں باپ کا فرماں بردار ہو تا ہے اُس کیلئے جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک ہی موجود ہو اور وہ ایک ہی کافرماں بردار ہو تو اس کیلئے جنت کا ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور جو شخص اپنے ماں باپ کا نافرمان ہوتا ہے اُس کیلئے جہنم کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر ماں باپ میں سے ایک ہی موجود ہو اور وہ ایک ہی کا نافرمان ہو تو جہنم کا ایک ہی دروازہ اُس کیلئے کھلتا ہے۔ یہ سن کر ایک صحابی نے عرض کیا اگرچہ اُس کے ماں باپ اس پر ظلم کرتے ہوں ؟  تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ اگرچہ اُس کے ماں باپ نے اُس پر ظلم کیا ہو۔ اگرچہ اس کے ماں باپ نے اس پر ظلم کیا ہو۔ اگرچہ اس کے ماں باپ نے اس پر ظلم کیا ہو۔(اس جملہ کو تین مرتبہ ارشاد فرمایا) (شعب الایمان للبیھقی، باب فی برالوالدین، فصل فی حفظ حق الوالدین بعد موتھا، الحدیث۷۹۱۶، ج۶، ص۲۰۶)

مسائل و فوائد

        والدین کی نافرمانی و ا یذا رسانی کی سزا دنیا و آخرت دونوں جگہ ملتی ہے بارہا کا تجربہ ہے کہ وا لدین کو ستانے والے خود اپنے ہی بیٹوں سے بڑی بڑی ایذائیں پاتے ہیں اور طرح طرح کی بلاؤں میں زندگی بھر گرفتار رہتے ہیں اور آخرت میں تو عذاب جہنم ان بد نصیبوں کیلئے مقرر ہی ہے۔

(۱۵) جھوٹی گواہی

        جھوٹی گواہی بھی حرام و گناہ کبیرہ ہے اور جہنم میں لے جانے والا عملِ بد ہے۔

قرآن مجید میں   اللہ  تَعَالٰی نے اپنے خاص بندوں کی فہرست بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(۷۲)  (پ۱۹، الفرقان : ۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان :  اورجو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب بے ہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں ۔

حدیث : ۱

      حضور اکرم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے بڑے بڑے گناہوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا  ’’ وشھادۃ الزور‘‘ یعنی جھوٹی گواہی بھی گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا جرم ہے۔

(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب عقوق الوالدین من الکبائر، الحدیث۵۹۷۶، ج۴، ص۹۵)

حدیث : ۲

        حضرت ابوبکر صدیقرضی  اللہ  تَعَالٰی  عنہسے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ کیا میں گناہ کبیرہ میں سے زیادہ بڑے بڑے گناہوں کی خبر نہ دے دوں ؟ تو لوگوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ۔ ہم لوگوں کو ضرور بتا دیجئے تو آپ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ بڑے بڑے گناہوں میں سب سے زیادہ بڑے گناہ یہ ہیں ۔ (۱) خدا کے ساتھ شرک کرنا اور (۲) ماں باپ کی نافرمانی اورایذا رسانی کرنا۔ یہ فرماتے وقت حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  مسند لگا کر لیٹے ہوئے تھے ایک دم بیٹھ گئے اور فرمایا (۳’’ الا وقول الز ور ‘‘  یعنی خبر دار اور جھوٹی بات۔ پھر اِسی لفظ کو اتنی دیر تک بار با ر دہراتے رہے کہ ہم لوگوں نے اپنے دل میں کہا کہ کاش !حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اس بات کے فرمانے سے خاموش ہو جاتے اور اس سے آگے کوئی دوسری بات فرماتے۔  (صحیح البخاری، کتاب الشہادات، باب ماقیل فی شہادۃ الزور، الحدیث۲۶۵۴، ج۲، ص۱۹۴)

حدیث : ۳

        حضرت صفوان بن سلیم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے کسی نے کہا کہ کیا مومن بزدل ہوتا ہے؟ تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ ’’ہاں ‘‘  پھر کسی نے عرض کیا کہ کیا مومن بخیل ہو تا ہے ؟ تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ ’’ ہاں ‘‘  پھر کسی نے کہا کہ کیا مومن جھوٹا ہوتا ہے؟ تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ ’’ نہیں ‘‘۔             (شعب الایمان للبیھقی، باب فی حفظ اللسان، الحدیث۴۸۱۲، ج۴، ص۲۰۷)

حدیث : ۴

         حضرت عبد  اللہ  بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا کہ تم لوگ سچ بولنے کو لازم پکڑ لو کیونکہ سچ نیکو کاری کا راستہ بتاتا ہے اور نیکو کاری جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے آدمی ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ    اللہ     عَزَّ وَجَلَّ   کے نزدیک ’’صدیق‘‘ لکھ دیا جاتا ہے اور تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچتے رہو کیونکہ جھوٹ بدکاری کا راستہ بتاتا ہے اور بدکاری جہنم کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ اور آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ   اللہ  تَعَالٰی کے نزدیک ’’کذاب‘‘ لکھ دیا جاتا ہے۔

 (صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ...الخ، باب قبح الکذب...الخ

Total Pages: 57

Go To