Book Name:Jahannam Kay Khatrat

صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی نافرمانی کی۔  (سنن ابن ماجہ، کتاب الادب، باب اللعب بالنرد، الحدیث۳۷۶۲، ج۴، ص۲۳۰۔ سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی النھی عن اللعب بالنرد، الحدیث۴۹۳۸، ج۴، ص۳۷۱)

حدیث : ۲

         حضرت بُریدہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔکریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جس نے نرد شیر (جوا کھیلنے کا سامان) سے جوا کھیلاتو گویااُس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبو یا۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الادب، باب اللعب بالنرد، الحدیث۳۷۶۳، ج۴، ص۲۳۱۔سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی النھی عن اللعب بالنرد، الحدیث۴۹۳۹، ج۴، ص۳۷۱)

مسائل و فوائد

        جوا کھیلنا حرام و گناہ ہے اور اس سے حاصل کی ہوئی کمائی بھی حرام و ناجائز ہے اور جوا کھیلنے کے تمام سامان و آلات کو خریدنا، بیچنا اور استعمال کرنا ناجائز و گناہ ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جوا کھیلنے کے آلات کو اگر کوئی توڑ پھوڑ ڈالے تو اُس سے کوئی تاوان نہیں لیا جائے گا۔ اِس زمانہ میں لاٹری کا بہت رواج ہے مگر خوب سمجھ لو !کہ یہ بھی ایک قسم کا جوا ہے اور اِس کے ذریعہ انعام کے نام سے جو رقم ملتی ہے وہ جوئے کے ذریعے کمائی ہے لہٰذا یہ بھی ناجائز ہی ہے ۔ہر مسلمان کو اس سے بچنا شرعاً لازم و ضروری ہے۔

(۹) سود (بیاج)

          اللہ  تَعَالٰی نے سود کو حرام فرمایا ہے اور یہ بہت ہی سخت گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا عمل بد ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں   اللہ  تَعَالٰی نے فرمایا کہ

وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ-فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ-وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِؕ-وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۷۵) یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ(۲۷۶) (پ۳، البقرۃ : ۲۷۵، ۲۷۶)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور   اللہ  نے حلال کیا بیع اور حرام کیاسود تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے   اللہ  ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور   اللہ  کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکر بڑا گنہگار۔

        اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد فرمایا :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۷۸) فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ    (پ۳، البقرۃ : ۲۷۸، ۲۷۹)

ترجمۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو  اللہ  سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو   اللہ  اور   اللہ  کے رسول سے لڑائی کا۔

        اسی طرح ایک دوسری آیت میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ    (پ۳، البقرۃ : ۲۷۵)

ترجمۂ کنزالایمان :  وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو۔

     اِسی طرح حدیثوں میں سود کی حُرمت اور ممانعت بکثرت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ   

حدیث : ۱

 حضور اکرم     صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے مہلک کبیرہ گناہوں کا بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سود کھانا بھی گناہ کبیرہ ہے۔               (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الکبائرواکبرھا، الحدیث۸۹، ص۶۰)

حدیث : ۲

        حضرت جابر  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے سود کھانے والے اور سود کھلانے والے اور سود لکھنے والے اور سود کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی اور یہ فرمایا کہ یہ سب گناہ میں برابر ہیں ۔ (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب لعن اٰ کل الربوا...الخ، الحدیث ۱۵۹۸، ص۸۶۲)

حدیث : ۳

        حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول    اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے فرمایا کہ شب معراج میں مجھے ایک ایسی قوم کے پاس سیر کرائی گئی کہ اُن کے پیٹ کوٹھریوں کے مثل تھے۔ جن میں سانپ بھرے تھے۔ جو پیٹوں کے باہر سے نظر آرہے تھے تو میں نے پوچھا کہ اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟  تو اُنہوں نے کہا کہ یہ سود کھانے والے ہیں ۔

  (سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، الحدیث۲۲۷۳، ج۳، ص۷۱)

حدیث : ۴

        حضرت عبد  اللہ  بن حنظلہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے فرمایا ہے۔ سود کا ایک درہم جان بوجھ کر کھانا چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت اور بڑا گناہ ہے۔   (المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عبد  اللہ  بن حنظلۃ، الحدیث۲۲۰۱۶، ج۸، ص۲۲۳)