Book Name:Jahannam Kay Khatrat

(سنن الترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء فی النھی للمسلم...الخ، الحدیث۱۲۶۷، ج۳، ص۳۳)

حدیث : ۵

        حضرت اَ نَس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ حضرت ابو طلحہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے ناقل ہیں کہ اُنہوں نے کہا کہ اے  اﷲ  کے نبی!  عَزَّ وَجَلَّ   و  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں نے چند یتیموں کے لئے شراب خریدی ہے جو میری پرورش میں ہیں ۔تو آپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ شراب کو بہا دو اور مٹکوں کو توڑ ڈالو ۔

  (سنن الترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء فی بیع الخمر والنھی عن ذالک، الحدیث۱۲۹۷، ج۳، ص۴۶)

حدیث : ۶

        حضرت د یلم حمیری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے  عرض کیا کہ یا رسول   اللہ  !  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہم ایک ٹھنڈی زمین میں رہتے ہیں اور ہم بہت سخت محنت کے کام کرتے ہیں اور ہم گیہوں کی شراب بناتے ہیں تا کہ ہم اُس کو پی کر اپنے کاموں کی طاقت اور اپنے شہروں کی سردی پر قابو حاصل کریں تو حضور   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا کہ وہ نشہ لاتی ہے؟ تو میں نے کہا کہ جی ہاں ! تو آپ    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا کہ پھر اُس سے بچو۔ تو میں نے کہا کہ ہمارے یہاں کے لوگ اُس کو نہیں چھوڑ سکتے تو ارشاد فرمایا کہ اگر لوگ اُس کو نہ چھوڑیں تو تم اُن لوگوں سے جہاد کرو۔     (سنن ابی داود، کتاب الاشربۃ، باب النھی عن المسکر، الحدیث۳۶۸۳، ج۳، ص۴۶۰)

حدیث : ۷

        حضرت عبد  اﷲ بن عمرو رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے شراب اور جوا اور شطرنج اور باجرہ کی شراب سے منع فرمایا اور یہ فرمایا کہ ہر نشہ  لانے والی چیز حرام ہے۔    (سنن ابی داود، کتاب الاشربۃ، باب النھی عن المسکر، الحدیث۳۶۸۵، ج۳، ص۴۶۰)

حدیث : ۸

        حضرت ابو موسیٰ اشعری  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ (۱) دائمی طور پر شراب پینے والا   (۲) رشتہ داریوں کو کاٹنے والا  (۳)جادو کی تصدیق کرنے والا۔(المسندللامام احمد بن حنبل، مسندالکوفیین، حدیث ابی موسی الاشعری، الحدیث ۱۹۵۸۶، ج۷، ص۱۳۹)   

حدیث : ۹

         حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ دائمی طور پر شراب پینے والا اگر اسی حالت میں مر گیا تو وہ دربار خداوندی میں قیامت کے روزاس طرح آئے گا جیسے کہ ایک بت پرست ۔(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد  اللہ  بن العباس، الحدیث ۲۴۵۳، ج۱، ص۵۸۳)

حدیث : ۱۰

        حضرت ابو موسیٰ رضی  اللہ  تَعَالٰی  عنہفرمایاکرتے تھے کہ میں اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ شراب پی لوں یا اِس ستون کی عبادت کر لوں (یعنی یہ دونوں حرام اور گناہ کے کام ہیں اِن دونوں سے یکساں طور پربچنا چاہیے۔)(سنن النسائی، کتاب الاشربۃ، باب ذکر الروایات المغلظات فی شرب الخمر، ج۴، ص۳۱۴)      

حدیث : ۱۱

         حضرت اَ نَس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ  رَسُولَ  اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ  اللہ  تَعَالٰی  نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی۔

(۱) شراب نچوڑنے والے پر(۲) شراب نچڑ وانے والے پر (۳) شراب پینے والے پر (۴) شراب اُٹھانے والے پر(۵) اُس پر جس کی طرف شراب اٹھا کر لے جائی گئی۔ (۶) شراب پلانے والے پر (۷) شراب کی قیمت کھانے والے پر  (۸) شراب بیچنے والے پر(۹) شراب خریدنے والے پر (۱۰) اس پر جس کیلئے شراب خریدی گئی ہو۔   

(سنن الترمذی، کتاب البیوع، باب النھی ان یتخذ الخمرخلا، الحدیث۱۲۹۹، ج۳، ص۴۷۔ سنن ابن ماجہ، کتاب الاشربۃ، باب لعنت الخمر علی عشرۃ اوجہ، الحدیث۳۳۸۱، ج۴، ص۶۵)

مسائل و فوائد

        شراب اور تاڑی کا پینا اور اِس کی تجارت کرنا اور اس کو کھانے یا لگانے کی دواؤں میں ملانا سب حرام ہے ، اور شراب و تاڑی ناپاک ہیں ۔ اگر یہ بدن اور کپڑوں پر لگ جائیں تو بدن اور کپڑا ناپاک ہو جائے گا۔ اور ایک قطرہ شراب یا تاڑی کا کنویں میں گر جائے تو کنواں ناپاک ہو جائے گا اور کنویں کا کُل پانی نکال کر کنویں کو پاک کرنا ضروری ہے۔ دنیا میں تاڑی، شراب پینے والے کی سزا یہ ہے کہ اُس کو اَسّی کوڑے مارے جائیں گے اور آخرت میں اِن لوگوں کی سزا جہنم کا درد ناک عذاب ہے۔

(۸)