Book Name:Jahannam Kay Khatrat

فرمائی ہے کہ قرآن مجید میں فرمایا :

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۳۸)(پ۶، المائدۃ : ۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو ان کے کیے کا بدلہ   اللہ  کی طرف سے سزا اور   اللہ  غالب حکمت والا ہے۔

        اور حدیث شریف میں ہے کہ حضور اقدس صلی  اﷲ   تَعَالٰی  علیہ والہ وسلم نے آیاتِ بینات کا بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا  ’’ ولا تسرقوا ‘‘یعنی چوری مت کرو ۔

(سنن الترمذی، کتاب الاستئذان والآداب، باب ماجاء فی قبلۃ الیدوالرجل، الحدیث ۲۷۴۲، ج۴، ص۳۳۵)

     دوسری حدیث میں ہے کہ ’’ لا یسرق السارق حین یسرق وھو مومن ‘‘  یعنی چور جس وقت چوری کرتا ہے ا ُس وقت مومن نہیں رہتا۔

(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان نقصان الایمان...الخ، الحدیث۵۷، ص۴۸)

        مطلب یہ ہے کہ چوری کرتے وقت اِس گناہ کی نحوست سے اس کا نورِ ایمان اس سے الگ ہو جاتا ہے اور پھر جب وہ اس گناہ سے توبہ کر لیتا ہے تو اس کا نورِ ایمان پھر اسکو مل جاتا ہے۔

مسائل وفوائد

        چور نے اگر دس درہم یا اِس سے زیادہ مالیت کی چوری کی ہے تو اُس کا داہنا ہاتھ گٹے سے کاٹ لیا جائے گا اور اُس کے کٹے ہوئے ہاتھ کو اُس کی گردن میں لٹکا کر شہر میں گشت کرا یا جائے گاتا کہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو پھر اگر دوبارہ چوری کی تو اس کا بایاں پاؤں ٹخنے سے کاٹا جائے گا۔ ہاتھ کاٹنے کے بعد اگر چوری کا مال چور کے پاس موجود ہو تو مالک کو وہ مال دلا دیا جائے گا اور اگر چور کے پاس سے وہ مال ضائع ہو گیا ہو توچو ر سے اُس کا تاوان نہیں لیا جائے گا۔           (تفسیر خزائن العرفان، پ۶، المآئدۃ : ۳۸)

      واضح رہے کہ ڈاکہ ڈالنا، لوٹ مار کرنا، کسی کی زمین یا مال و جائیداد کو غصب کر لینا، کسی سے عاریت کے طور پر کوئی سامان لے کر واپس نہ کرنا، کسی سے قرض لے کر اس کو ادا نہ کرنا، کسی کی امانت میں خیانت کرنا وغیرہ یہ سب چوری کی طرح گناہ کبیرہ ہیں اور یہ سب قہرِ قہار و غضب ِجبار میں گرفتار ہونے کاسبب اور عذا ب نار کاباعث ہیں ۔( و اللہ  تَعَالٰی  اعلم)

(۷) شراب

        شراب کو حضورِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اُمُّ الخبائث یعنی تمام گناہوں کی جڑ فرمایا ہے اور   اللہ  تَعَالٰی نے قرآن مجید میں اِس کو حرام فرمایا اور حدیثوں میں بھی کثرت سے اِس کی حُرمت اور مخالفت کا ذکر آیا ہے ۔قرآن مجید میں ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰) اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) (پ۷، المائدۃ : ۹۰، ۹۱)

ترجمۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوا وے شراب اور جوئے میں اور تمہیں   اللہ  کی یاداور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے ۔

    شراب کی برائی کے بارے میں چند حدیثیں بھی پڑھ لیجئے۔چنانچہ

حدیث : ۱

        حضرت وائل حضرمی  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ طارق بن سوید رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے شراب کے بارے میں دریافت کیا تو حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ان کو منع فرما دیا تو اُنہوں نے کہا کہ میں تو صرف دوا ہی کیلئے شراب بناتا ہوں تو حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ یہ دوا نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑی بیماری ہے۔              

           (صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، باب تحریم التداوی بالخمر، الحدیث۱۹۸۴، ص۱۰۹۷)

حدیث : ۲

         حضرت عبد  اللہ  بن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کہا کہ رسول    اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو شراب پی لے گا چالیس دن تک اُس کی نماز قبول نہیں ہو گی لیکن اگر اس نے توبہ کر لی تو  اللہ  تَعَالٰی  اُس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ پھر اگر دوبارہ اس نے شراب پی لی تو پھر چالیس دن تک اُس کی نمازقبول نہیں ہو گی۔ لیکن اگر اس نے توبہ کر لی تو  اللہ  تَعَالٰی  اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ پھر اگر اس نے تیسری بار شراب پی لی تو پھر چالیس دنوں تک اس کی نمازقبول نہیں ہو گی لیکن اگراس نے تو بہ کر لی تو  اﷲ  تَعَالٰی  اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔پھر اگر چوتھی مرتبہ اس نے شراب پی لی تو پھر چالیس دنوں تک اس کی نمازقبول نہیں ہو گی لیکن اس کے بعد اگر اس نے توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی اور قیامت کے دن اس کو جہنم میں دوزخیوں کی پیپ کی نہر میں سے پلایا جائے گا۔

(سنن الترمذی، کتاب الاشربۃ، باب ما جاء فی شارب الخمر، الحدیث۱۸۶۹، ج۳، ص۳۴۱)

حدیث : ۳

         حضرت جا بر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے روا یت ہے کہ حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا کہ جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ لائے تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے۔

(سنن الترمذی، کتاب الاشربۃ، باب ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام، الحدیث۱۸۷۲، ج۳، ص۳۴۳)

حدیث : ۴

        حضرت ابو سعیدخُدری رضی    اللہ   عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے یہاں ایک یتیم لڑکے کی شراب رکھی ہوئی تھی۔ جب سورۂ مائدہ نازل ہوئی (اور شراب حرام ہوگئی) تو میں نے رسول    اللہ      صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      سے اس کے بار ے میں پوچھااور یہ بھی کہا کہ وہ ایک یتیم کی ہے۔ تو آپ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      نے فرمایا کہ اس کو بہا دو۔          

 



Total Pages: 57

Go To