Book Name:Pur Asrar Bhikari

زیادہ سخت ہے ۔  (مسند امام احمد بن حنبل ج۸  ص۲۲۳، حدیث ۲۲۰۱۶ دارالفکر بیروت){۴}سنن ابن ماجہ میں ہے  :  سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار، حبیبِ پرْوَرْدْگار، جنا بِ احمد مختار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  معراج کی رات میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا، جن کے پیٹ مکانوں کی طرح تھے ، ان میں سانپ تھے ، جو پیٹوں کے باہر سے بھی نظر آتے تھے  ۔ میں نے پوچھا کہ اے جبرئیل! (عَلَیْہِ السَّلَام ) یہ کون لوگ ہیں ؟انہوں نے عرض کی، وہ  سُود کھانے والے ہیں  ۔ (سنن ابن ماجہ ج۳ ص ۷۱، ۷۲ حدیث ۲۲۷۳دار المعرفۃ بیروت)

          مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں  : آج اگر ایک معمولی کیڑا پیٹ میں پیدا ہو جائے  ، تو تندرستی بگڑ جاتی ہے ، آدمی بیقرار ہو جاتا ہے ، تو سمجھ لو! کہ جب اُس کا پیٹ سانپوں بچھوؤں سے بھر جائے ، تو اُس کی تکلیف وبیقراری کا کیا حال ہو گا ، رب  (عَزَّ وَجَلَّ  ) کی پناہ ۔ (مرأۃ المناجیح ج۴ ص۲۵۹ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاھور)

(۵)  قَبْر بِچّھوؤں سے پُر تھی

             کسی گاؤں میں ایک حجّام کا آخِری وَقت تھا، لوگوں نے ا ُس سے کہا ’’کلِمہ پڑھ‘‘([1]) اُس نے جواب نہ دیا ۔  پھر کہا : ’’کلِمہ پڑھ ‘‘موت کی سختی کے سبب اُس نے معاذَاللّٰہ  کلِمہ شریف کو گالی دی  ([2])کچھ دیر بعد اُس کا انتِقال ہوگیا ۔  جب دَفن کرنے لگے تو لوگوں کی چیخیں نکل گئیں کیونکہ قَبْر بچھوؤں سے بھری پڑی تھی ۔  اس قَبْر کو لوگوں نے بند کردیا اور دوسری جگہ قَبْر کھودی ۔  آہ! وہقَبْر بھی بچھوؤں سے پُر تھی ۔  چُنانچِہ اسی حالت میں حجّام کی لاش کو قَبْر میں ڈال کر قَبْر بند کردی گئی ۔   ہم قَہرِ قَھّار اور غَضَبِ جبّار سے اُسی کی

 پناہ کے طلبگار ہیں  ۔

داڑھی مونڈنے کی اُجرت حرام ہے

          وہ نائی صاحِبان جو داڑھی جیسی عظیم الشّان سنّت کو معاذاللہ عَزَّ وَجَلَّ  مُونڈنے یا کتر کر ایک مُٹھّی سے گھٹانے والا خوفناک جُرم کر کے روزی کا سامان کرتے ہیں وہ اِس لرزہ خیز واقِعہ سے عبرت حاصِل کریں ۔ نیزیہ بھی یاد رکھیں کہ اس طرح جو اُجرت حاصِل ہوتی ہے وہ بھی حرام وخبیث ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ داڑھی مُنڈوانے والے اور ایک مُٹھّی سے گھٹانے والے بھی قَہرِ خُداوندی عَزَّ وَجَلَّ  سے ڈریں کہ ان کا یہ فِعل حرام ہے ۔ وقارُ الفتاوی جلد 1 صَفَحہ 259 پر ہے  :  ’’داڑھی مُونڈنا حرام ہے ، یہ کام کرنا بھی حرام ہے ، کسی سے کروانا بھی حرام اور اس کی اُجرت بھی حرام ہے  ۔ ‘‘

مالِ حرام کے شَرعی احکام

          حرام مال کی دو صورَتیں ہیں  :  (۱) ایک وہ حرام مال جو چوری، رشوت، غصب اور انہیں جیسے دیگر ذرائِع سے مِلاہو اِس کو حاصِل کرنے والا اِس کااصلاً یعنی بالکل مالِک ہی نہیں بنتا اور اِس مال کے لئے شَرعاً فرض ہے کہ جس کا ہے اُسی کو لوٹا دیا جائے وہ نہ رہا ہو تو وارِثوں کو دے اور ان کا بھی پتا نہ چلے تو بِلا نیّتِ ثواب فقیر پر خیرات کر دے (۲) دوسرا وہ حرام مال جس میں قبضہ کر لینے سے مِلکِ



3 تلقین کا یہ طریقہ غَلَط ہے ۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ سکرات والے کے پاس بُلند آواز سے کلِمہ شریف کاورد کیاجائے تاکہ اسے بھی یاد آجائے ۔  

  [2] ’’بہار شریعت حصہ 4 صفحہ 158 پر ہے مرتے وقت معاذ اﷲ اس کی زَبان سے کلمۂ کفر نکلا تو کفر کا حکم نہ دیں گے کہ ممکن ہے موت کی سختی میں عقل جاتی رہی ہو اور بے ہوشی میںیہ کلمہ نکل گیا ۔ (درمختار ج۳ ص۹۶ دار المعرفۃ بیروت)



Total Pages: 10

Go To