Book Name:Pur Asrar Bhikari

کا سُوال کرے ( صحیح مسلم ص ۵۱۸، حدیث ۱۰۴۱ دار ابن حزم بیروت) {۴} جو شخص لوگوں سے سُوال کرے ، اس لیے کہ اپنے مال کو بڑھائے تو وہ جہنَّم کا گرم پتّھر ہے ، اب اسے اختیار ہے ، چاہے تھوڑا مانگے یا زِیادہ طلب کرے ۔  (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج۵ ص  ۱۶۶ حدیث ۳۳۸۲دارالکتب العلمیۃبیروت)

 (۲)قَبر کے شُعلے اور دُھوئیں  [1]

          وہ پانچوں وقت پابندی سے نماز پڑھتے تھے ، مالدارہونے کے ساتھ ساتھ بڑے سخی دل بھی تھے ، دل کھول کر غریبوں اور بیواؤں کی اِمداد کیا کرتے ، کئی یتیم بچّوں کی شادیاں بھی کروادیں ، حج بھی کیا ہوا تھا ۔  1973 ؁ء کی ایک صُبح اُن کا اِنتِقال ہوگیا ۔  بے حد ملنسار اور بااَخلاق ہونے کے سبب اہلِ محلہ مرحوم سے بَہُت مُتأَثِّر تھے لہٰذا سوگواروں کا تانتا بندھ گیا ۔  ان کے جنازے میں بھی لوگوں کا کافی ازدحام تھا ۔  سب لوگ قبرِستان آئے ۔ قَبْر کھود کر تیاّر کرلی گئی ۔  جُوں ہی میِّت قَبْر میں اُتارنے کے لئے لائے کہ غَضَب ہوگیا! یکایک قَبْر خود بخود بند ہوگئی!!سارے لوگ حیران رہ گئے ، دو بارہ زمین کھودی گئی ۔  جب میِّت اُتارنے لگے تو پھرقَبْر خود بخود بند ہوگئی! سارے لوگ حیران و پریشان تھے ، ایک آدھ بار مزیدایسا ہی ہوا، آخِرِ کار چوتھی بارتدفین میں کامیاب ہوہی گئے ۔ فاتِحہ پڑھ کر سب لَوٹے اورابھی چند ہی قدم چلے تھے کہ ایسا محسوس ہوا جیسے زمین زور زورسے ہِل رہی ہے ! لوگوں نے بے ساختہ پیچھے مُڑکر دیکھا تو ایک ہوش اُڑادینے والا منظر تھا ۔  آہ! قبر میں دراڑیں پڑ چُکی تھیں ، اس میں سے آگ کے شعلے اور دھوئیں اُٹھ رہے تھے اورقَبْر کے اندر سے چیخ و پُکار کی آواز بالکل صاف سُنائی دے رہی تھی ۔  یہ لرزہ خیر منظر دیکھ کر سب کے اَوسان خطا ہوگئے اور جس سے جس طرح بن پڑا بھاگ کھڑا ہوا ۔  لوگ حیرت زدہ اوربے حد پریشان تھے کہ بظاہِر نیک، سخی اور بااَخلاق انسان کی آخِر ایسی کون سی خطا تھی جس کے سبب یہ اِس قَدَر ہولناک عذابِ قَبْر میں مبتَلا ہوگیا ۔  تحقیق کرنے پر اس کے حالات کچھ یُوں سامنے آئے  :  ’’مرحوم بچپن ہی سے بَہُت ذہین تھا، ماں باپ نے اعلیٰ تعلیم دلوائی، جب خوب پڑھ لِکھ لیا تو کسی طرح بھی سِفارِش یا رِشوت کے زور پر ایک سرکاری مَحکمہ میں مُلازمت اختِیار کرلی ۔  رِشوت کی لَت پڑگئی ۔  رِشوت  کی دولت سے پلاٹ بھی خریدا اور اچّھا خاصا بینک بیلنس بھی بنایا ۔  اِسی سے حج بھی ادا کیا اور ساری سخاوت بھی اِسی مالِ حرام سے کیا کرتا تھا ۔ ‘‘ ہم قَہرِ قَھّار اور غَضَبِ جبّار سے اُسی کی پناہ کے طلبگار ہیں  ۔

حُسنِ ظاہر پر اگر تُوجائے گا              عالَمِ فانی سے دھوکہ کھائے گا

یہ مُنَقَّش سانپ ہے ڈس جائے گا      کر نہ غفلت یاد رکھ پچھتائے گا

ایک دن مرنا ہے آخِر موت ہے

کرلے جو کرنا ہے آخِر موت ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟مالِ حرام حاصِل کرنے والے کا کس قَدَرلرزہ خیز انجام ہوا ۔  یادرکھئے !بحکم حدیث، رشوت دینے والا اوررشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔ (المعجم الاوسط للطبرانی ج۱ ص۵۵۰ حدیث ۲۰۲۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

 



   [1]    یہ لرزہ خیز داستان بطورِ حقیقت نوائے وقت میگزین میں شائع ہوئی تھی ۔  برائے عبرت کچھ تصرُّف کے ساتھ اپنے انداز میں پیش کی ہے ۔ سگِ مدینہ عُفِی عنہُ



Total Pages: 10

Go To