Book Name:Pur Asrar Bhikari

۔ ایک طر ف وہ ایک ٹُو ٹی ہوئی چار پائی پر لیٹا کَراہ رہا تھا، وہ سخت بیمار تھا اور ایسا لگتا تھا کہ اب جانْبَر(جاں  ۔ بَر) نہ ہوسکے گا ۔  میں سلام کر کے اُس کی چارپائی کے پاس کھڑا ہوگیا ۔  اُس نے آنکھیں کھولیں اور میری طر ف دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی، اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا، میں بیٹھ گیا ۔  بَمُشکِل تمام اُس نے لَب کھولے اور مَدہم آواز میں بولا :  بھائی! مجھے مُعاف کردو کہ میں نے تم سے بَہُت دھوکہ کیا ہے ۔ میں نے حیرت سے کہا :  وہ کیا؟ کہنے لگا :  میں نے تم کو اپنے دُکھ دَرد کے جتنے بھی اَفسانے سُنائے وہ سب کے سب مَن گھڑت تھے اور اِسی طر ح  گھڑھی ہوئی داستانیں سُنا سُنا کر میں لوگوں سے بھیک مانگتا رہا ہوں ۔ اَب چُونکہ بچنے کی بَظاہِر کوئی اُمِّید نظر نہیں آتی اِس لیے تمہارے سامنے حقائِق کا اِنکِشاف کئے دیتا ہُوں  :  

          ’’میں مُتَوَسِّطُ الْحَال گھرانے میں پَیدا ہوا، شادی بھی کی، بچّے بھی ہوئے ۔ میں کام چَور ہوگیا اور مُجھے بھیک مانگنے کی لَت پڑ گئی ۔  میر ی بیوی کو میرے اِس پَیشے سے سَخْت نفرت تھی ۔  اس سلسلے میں اکثر ہماری لڑائی ٹھنی رہتی ۔  رَفتہ رَفتہ بچّے جوان ہوئے میں نے اُن کو اعلیٰ دَرَجے کی تعلیم دِلوائی تھی ۔  اُن کو بڑی بڑی مُلازَمتیں مِل گئیں ۔ اب وہ بھی مُجھ پر خفا ہونے لگے ۔ اُن کا پَیہَم اِصرار تھا کہ میں بھیک مانگنا چھوڑ دُوں لیکن میں عادت سے مجبور تھا، مجھے  دولت سے بے حد پیار تھا اوربِغیر محنت کے آتی ہوئی دولت کو میں چھوڑنا نہیں چاہتا تھا ۔  آخرِ کار ہمارا اِختِلاف بڑھتا گیا اور میں نے بیوی بچّوں کو خیر باد کہہ کر اِس ویرانے میں جَھونپڑی باندھ لی ۔ ‘‘

          اتنا کہنے کے بعد اُس نے چیتھڑوں کے ایک ڈَھیر کی طرف جو جھونپڑی کے ایک کونے میں تھا اِشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے چِیتھڑے   ہٹاؤ اس کے نیچے تمہیں چار بور یاں نظر آئیں گی اُن میں سے ایک بو ری کا مُنہ کھول دو ۔  چُنانچِہ میں نے ایسا ہی کیا ۔  میں نے جُو نہی بوری کا مُنہ کھولا تو میری آنکھیں پَھٹی کی پَھٹی رَہ گئیں اِس پُوری بوری میں نوٹو ں کی گَڈّیاں تِہ درتِہ رکھی ہوئی تھیں اور یہ ایک اچھّی خاصی رقم تھی ۔  اب وہ بِھکاری مجھے بڑا   پُر اَسرارلگ رہا تھا ۔  کہنے لگا : یہ چاروں بوریاں اِسی طر ح نوٹو ں سے بھری ہوئی ہیں ۔ میرے بھائی! دیکھو میں نے تم پر اعتِماد کر کے اپنا سارا راز فاش کر دیا ہے اب تم کو میری وصیَّت پر عمل کرنا  ہو گا، کرو گے نا! میں نے حامی بھر لی تو کہا :  دیکھو! میں نے اس دولت سے بڑاپیار کیا ہے ، اِسی کی خاطِر اپنا بھرا گھر اُجاڑا، نہ کبھی اچھّا کھایا، نہ عُمدہ لباس پہنا، بس اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہا ۔ ۔ ۔ ۔ پھر تھوڑا رُک کر کہا، ذرا نوٹو ں کی چند گڈِّیا ں تو اُٹھا کر لاؤ کہ انہیں تھوڑا پیار کرلوں !! میں نے بوری میں سے چند گڈِّیاں نکال کر اس کی طرف بڑھادیں ، اُس کی آنکھوں میں ایک دَم چمک آگئی او راس نے  

 اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے انہیں لے لیا اور اپنے سینے پر رکھ دیا اور باری باری چومنے لگا، ہر ایک گڈِّی کو چومتا اور آنکھوں سے لگا تا جاتا اور کہتا جاتا کہ میری وصیّت خاص وصیّت ہے اور اس کو تمہیں پُورا کرنا ہی پڑے گا اور وہ یہ ہے کہ میری زِندَگی بھر کی پُونجی یعنی چاروں نوٹوں کی بوریوں کو تمہیں کسی طرح بھی میرے ساتھ دَفن کرنا ہوگا ۔  میں نے وعدہ کرلیا ۔  وہ نہایت حسرت کے ساتھ نوٹوں کو چوم رہا تھا کہ اچانک اس کے حَلق سے ایک خوفناک چیخ نکل کر فَضا کی پہنائیوں میں گُم ہوگئی، میں خوف کے مارے تَھرتَھر کانپنے لگا، اُس کا نوٹو ں والا ہاتھ چار پائی کے نیچے کی طر ف لٹک گیا، نوٹ ہاتھ سے گِر پڑے ۔ اور سَر دُوسری طرف ڈَھلَک گیا اور اُس کی رُو ح قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی ۔           

 



Total Pages: 10

Go To