Book Name:Aaina e Qayamat

اللھم صل علی سیدنا محمد و علی الہ واصحٰبہ اجمعین

امام مظلوم رضی اللہ تعالٰی عنہ   سے مدینہ چھوٹتا ہے

          امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ  کا کام تمام کرکے جب یزید پلید نے اپنے ناشاد دل کو خوش کرلیا ،اب اس شقی کو امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ  یادآئے ،مدینہ کے صوبہ دارولید کو خط لکھا کہ حسین اور عبداللہ ا بن عمر اور عبد اللہ ا بن زبیر(رضی اللہ تعالٰی عنہم)سے بیعت کے لئے کہے اور مہلت نہ دے ۔ابنِ عمر ایک مسجد میں بیٹھنے والے آدمی ہیں اورابنِ زبیر جب تک موقع نہ پائیں گے خاموش رہیں گے ،ہاں حسین(رضی اللہ تعالٰی عنہ ) سے بیعت لینی سب سے زیادہ ضروری ہے کہ یہ شیر اور شیر کا بیٹا موقع کا انتظار نہ کرے گا ۔ 

          صوبہ دار نے خط پڑھ کر پیامی بھیجا،امام نے فرمایا:’’چلوآتے ہیں ‘‘۔ پھر عبداللہ ابن زبیر سے فرمایا:’’دربار کا وقت نہیں ، بے وقت بلانے سے معلوم ہوتا ہے کہ سردار نے وفات پائی ،ہمیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ موت کی خبر مشہور ہونے سے پہلے یزید کی بیعت ہم سے لی جائے ‘‘۔ ابن زبیر نے عرض کی:’’ میرابھی یہی خیال ہے ایسی حالت میں آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ فرمایا: ’’میں اپنے جوان جمع کر کے جاتا ہوں ، ساتھیوں کودروازے پر بٹھا کر اس کے پاس جاؤں گا۔‘‘ ابن زبیر نے کہا:’’مجھے اس کی جانب سے اندیشہ ہے۔‘‘ فرمایا:’’وہ میرا کچھ نہیں کرسکتا۔ ‘‘پھر اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف لے گئے ،ہمراہیوں کو ہدایت کی: ’’جب میں بلاؤں یا میری آوازبلند ہوتے سنو ،اندرچلے آنا اورجب تک میں واپس نہ آؤں کہیں ہل کر نہ جانا۔‘‘یہ فرما کر اندر تشریف لے گئے ،ولید کے پاس مروان کو بیٹھا پایا ،سلام علیک کر کے تشریف رکھی، ولید نے خط پڑھ کر سنایا وہی مضمون پایا جو حضور کے خیال شریف میں آیا تھا ۔ بیعت کا حال سن کر ارشاد ہوا:’’مجھ جیسے چھپ کربیعت نہیں کرتے ،سب کو جمع کرو ، بیعت لو، پھر ہم سے کہو ‘‘ ولیدنے بنظرِعافیت پسندی عرض کی :’’بہتر!تشریف لے جائیے۔‘‘ مروان بولا: ’’اگر اس وقت انہیں چھوڑ دے گا اور بیعت نہ لے گا توجب تک بہت سی جانوں کا خون نہ ہو جائے، ایساوقت ہاتھ نہ آئے گا ،ابھی روک لے بیعت کر لیں تو خیر ورنہ گردن ماردے۔ ‘‘یہ سن کر امام رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے فرمایا: ’’ابن الزرقاء!تُو یا وہ ،کیا مجھے قتل کر سکتا ہے ؟خداکی قسم!تُونے جھوٹ کہا اورپاجی پن کی بات کی ۔‘‘ یہ فرماکر واپس تشریف لائے۔

          مروان نے ولیدسے کہا:’’خداکی قسم! اب ایساموقع نہ ملے گا ۔‘‘ ولیدبولا: ’’مجھے پسند نہیں کہ بیعت نہ کرنے پرحسینرضی اللہ تعالٰی عنہ  کو قتل کروں ،مجھے تمام جہاں کے ملک ومال کے بدلے میں بھی حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قتل منظورنہیں ،میرے نزدیک حسین کے خون کا جس شخص سے مطالبہ ہو گا وہ قیامت کے دن خدائے قہار کے سامنے ہلکی تول والا ہے۔‘‘ مروان نے منافقانہ طورپرکہہ دیا:’’ تُونے ٹھیک کہا ۔ ‘‘  (الکامل فی التاریخ،ذکر بیعت یزید،ج۳،ص۳۷۷ملخصاً)

           دوبارہ آدمی آیا ،فرمایا:’’ صبح ہونے دو۔‘‘ اور قصد فرمالیا کہ رات میں مکہ کے ارادے سے مع اہل وعیال سفرفرمایا جائے گا۔

          یہ رات امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے جدِکریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کے روضۂ منورہ میں گزاری کہ آخرتوفراق کی ٹھہرتی ہے ،چلتے وقت تو اپنے جدِکریم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی مقدس گودسے لپٹ لیں پھرخداجانے زندگی میں ایساوقت ملے یا نہ ملے ۔امام آرام میں تھے کہ خواب دیکھا، حضورپرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف شریف لائے ہیں اورامام کو کلیجے سے لگا کرفرماتے ہیں :’’حسین! وہ وقت قریب آتاہے کہ تم پیاسے شہیدکئے جاؤ اور جنت میں شہیدوں کے بڑے درجے ہیں۔‘‘یہ دیکھ کرآنکھ کھل گئی، اُٹھے اور روضۂ مقدس کے سامنے رخصت ہونے کو حاضر ہوئے۔

          مسلمانو!حیاتِ دنیاوی میں امام کی یہ حاضری پچھلی حاضری ہے، صلوۃ وسلام عرض کرنے کے بعدسرجھکا کرکھڑے ہوگئے ہیں ،غمِ فراق کلیجے میں چٹکیاں لے رہا ہے ،آنکھوں سے لگاتارآنسوجاری ہیں ،رقت کے جوش نے جسمِ مبارک میں رعشہ پیداکردیاہے ،بے قراریوں نے محشربرپاکررکھا ہے ،دل کہتا ہے سرجائے ،مگریہاں سے قدم نہ اٹھائیے، صبح کے کھٹکے کاتقاضاہے جلدتشریف لے جائیے ،دو قدم جاتے ہیں اورپھر پلٹ آتے ہیں۔حبِ وطن قدموں پر لوٹتی ہے کہ کہاں جاتے ہو؟غربت دامن کھینچتی ہے کیوں دیر لگاتے ہو ؟شوق کی تمنا ہے کہ عمربھرنہ جائیں ، مجبوریوں کاتقاضا ہے دم بھرنہ ٹھہرنے پائیں۔

          شعبان کی چوتھی رات کے تین پہرگزرچکے ہیں اورپچھلے کے نرم نرم جھونکے سونے والوں کو تھپک تھپک کر سلارہے ہیں ،ستاروں کے سنہرے رنگ



Total Pages: 42

Go To