Book Name:Aaina e Qayamat

            ایک روایت میں ہے،فرمایا:’’بھائی!لوگ ہم سے یہ امیدرکھتے ہیں کہ روز قیامت ہم ان کی شفاعت فرماکرکام آئیں نہ یہ کہ ان کے ساتھ غضب اورانتقام کوکام میں لائیں ‘‘۔        ؎

واہ رے حلم کہ اپنا تو جگر ٹکڑے ہو

پھر بھی ایذائے ستم گرکے روا دار نہیں

          پھر جانے والے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے آنے والے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کویوں وصیت فرمائی:’’حسین دیکھو سفیہان نِ کوفہ سے ڈرتے رہنا ،مباداوہ تمہیں باتوں میں لے کربلائیں اوروقت پر چھوڑ دیں ،پھرپچھتاؤ گے اوربچاؤ کاوقت گزرجائے گا۔‘‘

          بے شک امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ کی یہ وصیت موتیوں میں تولنے کے قابل اوردل پرلکھ لینے کے لائق تھی،مگراس ہونے والے واقعے کوکون روک سکتا جسے قدرت نے مدتوں پہلے سے مشہورکررکھاتھا۔

{امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ  کی شہادت کی خبر واقعہ کربلا سے پہلے ہی مشہور تھی}

          حضورسرورِعالم  صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی بعثت شریفہ سے تین سوبرس پیش تریہ شعرایک پتھرپرلکھاملا:۔       ؎

اَ   تَرْجُوْ  اُمَّۃٌ    قَتَلَتْ  حُسَیْناً

شَفَاعَۃَ  جَدِّہٖ  یَوْمَ  الْحِسَابِ

کیا حسین کے قاتل یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ روزِقیامت اُس کے نانا صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفاعت پائیں ؟

                    یہی شعر ارضِ روم کے ایک گرجا میں لکھاپایا گیا اور لکھنے والا معلوم نہ ہوا۔

          کئی حدیثوں میں ہے ،حضور سرورِعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکے کاشانہ میں تشریف فرماتھے ،ایک فرشتہ کہ پہلے کبھی حاضر نہ ہواتھا اللہ تبارک وتعالیٰ سے حاضری کی اجازت لے کر آستان بوس ہوا،حضورپرنور  صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے ام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ارشادفرمایا:دروازے کی نگہبانی رکھو، کوئی آنے نہ پائے ،اتنے میں سیدناامامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ  دروازہ کھول کر حاضر ِخدمت ہوئے اور کُودکر حضور پرنورصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمکی گودمیں جابیٹھے ،حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم پیار فرمانے لگے ،فرشتے نے عرض کی: ’’حضورانہیں چاہتے ہیں ؟ فرمایا:  ہاں ! عرض کی:’’ وہ وقت قریب آتاہے کہ حضور کی امت انہیں شہید کرے گی اور حضور چاہیں تو وہ زمین حضور کو دکھا دوں جہاں یہ شہید کئے جائیں گے ۔ پھرسرخ مٹی اورایک روایت میں ہے ریت، ایک میں ہے کنکریاں ،حاضرکیں۔حضورعلیہ الصلاۃو السلام نے سونگھ کر فرمایا: ’’رِیْحُ کَرْبٍ وَّبَلاَء‘‘بے چینی اوربلا کی بُوآتی ہے ،پھرام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا کو وہ مٹی عطاہوئی اور ارشاد ہوا: ’’جب یہ خون ہوجائے توجاننا کہ حسین شہیدہوا‘‘انہوں نے وہ مٹی ایک شیشی میں رکھ چھوڑی ۔ اُم المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں :’’ میں کہا کرتی جس دن یہ مٹی خون ہو جائے گی کیسی سختی کادن ہوگا۔‘‘ (المعجم الکبیر،الحدیث ۲۸۱۷،۲۸۱۸،۲۸۱۹،ج۳،ص۱۰۸) 

          امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ صفین کو جاتے ہوئے زمینِ کربلا پر گزرے، نام پوچھا لوگوں نے کہا:’’کربلا!‘‘یہاں تک روئے کہ زمین آنسوؤں سے ترہوگئی پھرفرمایا:میں خدمتِ اقدس حضور سیدِعالم  صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم میں حاضر ہوا، حضور کوروتا پایا،سبب پوچھا ،فرمایا:’’ ابھی جبریل کہہ گئے ہیں کہ میرا بیٹا حسین فرات کے کنارے کربلا میں قتل کیاجائے گاپھرجبریل نے وہاں کی مٹی مجھے سونگھائی مجھ سے ضبط نہ ہوسکااورآنکھیں بہہ نکلیں۔‘‘

          ایک روایت میں ہے ،مولیٰ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ  اس مقام سے گزرے جہاں اب امامِ مظلوم کی قبرمبارک ہے ،فرمایا: یہاں ان کی سواریاں بٹھائی جائیں گی، یہاں ان کے کجاوے رکھے جائیں گے ،اوریہاں ان کے خون گریں گے ۔آلِ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ورضی اللہ تعالٰی عنہمکے کچھ نوجوان اس میدان میں قتل ہوں گے جن پر زمین وآسماں روئیں گے ۔(دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصبہانی،ج۲،ص۱۴۷)

 



Total Pages: 42

Go To