Book Name:Aaina e Qayamat

کل جہاں مِلک اور جَو کی روٹی غذا

اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام

                                                                                      (حدائقِ بخشش)

          شاہی لباس دیکھئے توسترہ سترہ پیوند لگے ہیں ،وہ بھی ایک کپڑے کے نہیں۔ دو دومہینے سلطانی باورچی خانے سے دھواں بلند نہیں ہوتا ۔دنیوی عیش وعشرت کی تویہ کیفیت ہے، دینی وجاہت دیکھئے تو اس کملی والے تاجدارصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی شوکت اوراس سادگی پسند کی وجاہت سے دونوں عالم گونج رہے ہیں۔      

مالکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں

دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں

          یہاں یہ امربھی بیان کردینے کے قابل ہے کہ یہ تکلیفیں ،یہ مصیبتیں محض اپنی خوشی سے اٹھائی گئیں ،اس میں مجبوری کوہر گز دخل نہ تھا ۔

          ایک بارآپکے بہی خواہ اوررضاجودوست جل جلالہ نے پیام بھیجا کہ ’’تم کہوتومکہ کے دوپہاڑوں کو (جنہیں اخشبین کہتے ہیں )سونے کا بنا دوں کہ وہ تمہارے ساتھ رہیں ، عرض کی: ’’یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن دے کہ شکربجا لاؤں ،ایک دن بھوکا رکھ کہ صبرکروں۔‘‘ (سنن الترمذی،کتاب الزہد،باب ماجاء فی الکفاف...الخ،ج۴،ص۱۵۵،الحدیث: ۲۳۵۴)

          مسلمانو!اللہ تعالٰی نے ہمارے حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کونفسِ مطمئنہ عطافرمایا ہے ۔ اگرآپ عیش وعشرت میں بسرفرماتے اورآسایش وراحت محبوب رکھتے، توآپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمکا پروردگار آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمکی خوشی پرخوش ہونے والا دنیامیں جنتوں کواتارکررکھ دیتا،اوریہ سامانِ عیش آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمکے برگزیدہ اور پاک نفس میں ہرگزتغیرپیدانہ کرسکتا،ایسی حالت میں یہ بلاپسندی اور مصیبت دوستی اسی بنیادپرہوسکتی ہے کہ آپ رحمۃللعالمین ٹھہرے، دنیا کی ہر چیزکے حق میں رحمت ہو کر آئے ،اگرآپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمعیش وعشرت میں مشغول رہتے تو’’تکلیف و مصیبت‘‘ جن سے عاقبت میں حضورعلیہ الصلاۃوالسلام کے غلاموں کوبھی سروکار نہ ہوگا،برکات سے محروم رہ جاتیں۔

          ایک بارحضور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم مسلمانوں کوکنیزیں اورغلام تقسیم فرمارہے تھے، مولیٰ علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ نے حضرت بتول زہرارضی اللہ تعالٰی عنہا سے کہا:’’جاؤ!تم بھی اپنے لئے کوئی کنیز لے آؤ۔ ‘‘حاضرہوئیں اورہاتھ دکھا کرعرض کرنے لگیں کہ ’’چکیاں پیستے پیستے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں ایک کنیزمجھے بھی عنایت ہو۔‘‘ ارشادہوا: ’’اے فاطمہ! میں تجھے ایسی چیزبتاتاہوں جوکنیزوغلام سے زیادہ کام دے، تُو رات کو سوتے وقت سبحان اللہ ۳۳بار،الحمدللّٰہ ۳۳بار،اللہ اکبر۳۴بارپڑھ کر سو رہاکر۔ ‘‘ (سنن الترمذی،کتاب الدعوات،باب ما جاء فی التسبیح...الخ،الحدیث۳۴۱۹، ج۵،ص۲۶۰)

          ایک بارحضورپرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکے کاشانہ میں تشریف لے گئے ،دروازہ تک رونق افروزہوئے تھے کہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ہاتھوں میں چاندی کی ایک چوڑی ملاحظہ فرمائی ،واپس تشریف لے آئے، حضرتِ بتول رضی اللہ تعالٰی عنہانے وہ چوڑیاں حاضر کردیں کہ انہیں تصدق کر دیجئے، مساکین کو عطافرما دی گئیں اور دوچوڑیاں عاج کی مرحمت ہوئیں اور ارشاد ہوا: ’’فاطمہ! دنیا، محمداور آلِ محمد کے لائق نہیں ‘‘۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم 

          عمرِفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ  حاضرآئے ،دیکھا کہ کھجورکی چٹائی پر آرام فرمارہے ہیں ،اوراس نازک جسم اورنازنین بدن پر بوریے کے نشان بن گئے ہیں ،یہ حالت دیکھ کربے اختیاررونے لگے اورعرض کی کہ’’یارسول اللہ! قیصروکسریٰ، خداکے دشمن،نازونعمت میں بسرکریں اورخدا کا محبوب تکلیف و مصیبت میں !‘‘ ارشاد ہوا: ’’کیاتُواس امرپرراضی نہیں کہ انہیں دنیا کے عیش ملیں اورتُو عقبیٰ کی خوبیوں سے بہرہ ور ہو۔        ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب التفسیر، باب تبتغی مرضاۃ۔۔۔الخ، الحدیث۴۹۱۳، ج۳، ص۳۶۰)

اللہ عزوجل کے حقیقی دوست

 



Total Pages: 42

Go To