Book Name:Aaina e Qayamat

ردیتا ۔‘‘یہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اس مردود کے درباریوں سے فرمایا:’’ تم نے فاطمہ کے بیٹیرضی اللہ تعالٰی عنہ   کو قتل کیا اور مرجانہ کے جنے کو امیر بنا یا، آج سے تم غلام ہو ،خداکی قسم! تمہارے اچھے اچھے قتل کئے جائیں گے اورجو بچ رہیں گے غلام بنا لئے جائیں گے ۔دورہوں وہ جو ذلت وعار پر راضی ہوں۔‘‘پھر فرمایا ’’اے ابنِ زیاد !میں تجھ سے وہ حدیث ضرور بیان کروں گا جو تجھے غیظ وغضب کی آگ میں پھونک دے ۔میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کو دیکھاد ہنی ران مبارک پر حسن کو بٹھایا اور بائیں پر حسین کو اور دست ِاقدس ان کے سروں پر رکھ کر دعا فرمائی: ’’الٰہی!میں ان دونوں کو تجھے اور نیک مسلمانوں کو سونپتا ہوں ‘‘۔اے ابن زیاد! دیکھ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی امانت کے ساتھ تونے کیاکیا ؟‘‘ادھر ظالموں نے عابد بیمار کے گلے میں طوق ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالیں اور بیبیوں کو اونٹوں پرسوار کرا کر، دو روز بعد کربلاسے کوچ کیا۔

سوار گھوڑوں پراعداء پیادہ شہزادہ

الٰہی کیسا زمانے نے انقلاب کیا

          جب یہ مظلوموں کا لٹا ہواقافلہ شہیدوں کی لاشوں پر گزرا کہ بے گورو کفن میدان میں پڑے ہیں ،حضرت زینب(رضی اللہ تعالٰی عنہا)بے تابانہ چلا اٹھیں: ’’یا رسول اللہ ! حضور پر ملائکہ آسمان کی درودیں ، حضور! یہ ہیں حسین ۔۔۔۔میدان میں لیٹے ۔۔۔۔سر سے پاؤں تک خون میں لپٹے۔۔۔۔ تمام بدن کے جوڑ کٹے اورحضور کی بیٹیاں قیدی ہوئیں اور حضور کے بچے مقتول پڑے ہیں جن پر ہوا خاک اڑاکر ڈالتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔‘‘  (الکامل فی التاریخ،المعرکۃ،ج۳،ص۴۳۴)

          جب یہ مظلوم قافلہ، ابن زیاد بد نہاد کے پاس پہنچا ،اس نے عابد مظلوم سے بحث کی ،مسکت جواب پانے پر حیران ہوکر بولا: ’’خداکی قسم !تم انہیں میں سے ہو ۔‘‘پھر ایک شخص سے کہا:’’دیکھ تویہ بالغ ہیں ‘‘اس پر مری بن معاذ احمری شقی نے سید مظلوم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بے ستر کر کے دیکھا،کہا: ’’ہاں جوان ہیں۔‘‘خبیث بولا:’’ انہیں بھی قتل کر۔‘‘ حضرت زینب (رضی اللہ تعالٰی عنہا)بے تاب ہو کر مظلوم بھتیجے کے گلے سے لپٹ گئیں اور فرمایا: ’’ ابن زیاد بس کر !ابھی ہمارے خون سے تو سیراب نہ ہوا ؟ہم میں تونے کسے باقی چھوڑا ہے ؟میں تجھے خدا کا واسطہ دیتی ہوں کہ..... اس بچے کو قتل کرے تو اس کے ساتھ مجھے بھی مار ڈال ۔‘‘

          عابد مظلوم (رضی اللہ تعالٰی عنہ )نے فرمایا:’’ اے ابن زیاد! ان بے کس عورتوں کا کون نگہبان رہے گا؟دین ودیانت وحقوق رسالت تو برباد گئے،آخرتجھے ان سے کچھ قرابت بھی ہے، اسی کا خیال کرکے ان کے ساتھ کوئی خداترس بندہ کر دینا ،جو اسلامی پاس کے ساتھ انہیں مدینہ پہنچاآئے ۔‘‘حضرت زینب (رضی اللہ تعالٰی عنہا)کی یہ حالت دیکھ کر خبیث بولا: ’’خون کی شرکت بھی کیا چیز ہے میں یقین کرتاہوں کہ یہ بی بی یہی چاہتی ہے کہ اس لڑکے کو قتل کروں توانہیں بھی قتل کردوں ،خیر لڑکے کو چھوڑ دو کہ اپنے ناموس کے ساتھ رہے۔‘‘ (الکامل فی التاریخ،المعرکۃ،ج۳،ص۴۳۵)

{ سرِانور کی کرامات}

          اب یہ قافلہ اورشہیدوں کے سر شام کوروانہ کئے گئے ۔سرمبارک نیزہ پر تھا ،راہ میں ایک شخص قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا۔ جب اس آیت پر پہنچا:

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِۙ-كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا(۹)۱۵،الکھف:۹)

ترجمہ کنزالایمان:کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ میں اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے۔([1])

    سرمبارک نے فرمایا : ''یَاتَالِیَ الْقُرْاٰنَ اَعْجَبُ مِنْ قِصَّۃِ اَصْحَابِ الْکَھْفِ قَتْلِیْ وَحَمْلِیْ'' اے قرآن پڑھنے والے! اصحاب کہف کے قصے سے زیادہ عجیب ہے میرا قتل کرنا اورسرنیزے پر لئے پھرنا۔ظالم جہاں ٹھہرتے سرمبارک کو نیزے پررکھ کر پہرادیتے۔ (شرح الصدور،باب زیارۃ القبورو علم الموتٰی...الخ،ص۲۱۲)

 



[1]    ترجمہ کنز الایمان: کیا تمہیں  معلوم  ہو کہ  پہاڑ کی کھوہ میں اور جنگل کے کنارے  والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے۔(پ۱۵، الکھف:9)



Total Pages: 42

Go To